Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہے جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں تو ہم کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ھم تو کیا

Garammizaj
 

دور تک نہ کوئی ستارہ ہے نہ جگنو
مرگِ امید کے آثار نظر آتے ہیں
مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

Garammizaj
 

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
❤❤

Garammizaj
 

آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تو نہ ہوتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے

Garammizaj
 

Assalam o Alaikum
Good morning
have a nice day❤

Garammizaj
 

یار فرید دل اوتھے لائیے
جتھے اگلا قدر وی جانے

Garammizaj
 

حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا

Garammizaj
 

O mere masroof khuda
Apni duniya dekh zara
Itni khalqat ke hote
ShahroN meN hai sannata

Garammizaj
 

شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
رات کتنی گزر گئی لیکن
اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں
یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں
جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں
اُن اجالوں کی دھن میںپھرتا ہوں
چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں
رین اندھیری ہے اور کنارہ دور
چاند نکلے تو پار اتر جائیں

Garammizaj
 

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ سے ہی نہ ٹپکے پھر لہو کیا ہے

Garammizaj
 

جے دل پیتا عشق دا جام
سا دل مست و مست مدام
حق موجود سدا موجود
❤❤

Garammizaj
 

ہمیں بھی جلوہ ناز پر لے چلو موسی
تمہیں غش آ گیا تو حسنِ جاناں کون دیکھے گا

Garammizaj
 

پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

Garammizaj
 

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے

Garammizaj
 

pa de hassy k de saaa di
sa khwaga di ka trakha di
da guloona ka uba dii
na pohegam che da saa di
waya sa de che pa zra di
❤❤❤

Garammizaj
 

مجھے یہ شکوہ کہ تو روبرو کیوں نہیں
اسے یہ مان کہ مجھے ڈھونڈ کے مل

Garammizaj
 

مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
میں پیاس کا صحرا وہ برسات کی مانند

Garammizaj
 

لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا

Garammizaj
 

جس دن کسی شمع پہ پروانہ جلا ہو گا
شاید اسی جلنے میں جینے کا مزہ ہو گا
جس دن یہ مے تو نے بوتل میں بھری ہو گی
ساقی تیرا مستی سے کیا حال ہوا ہو گا

Garammizaj
 

ہائے او میری جان
نہ ہو پریشان
بنا تیرے میرا سرنا نہیں
او ماہئیا تیری خیر
ہوئے چاروں پہر
شالا ہور کچھ منگدا نہیں