زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہے جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں تو ہم کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ھم تو کیا
دور تک نہ کوئی ستارہ ہے نہ جگنو
مرگِ امید کے آثار نظر آتے ہیں
مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں
تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں
❤❤
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تو نہ ہوتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
Assalam o Alaikum
Good morning
have a nice day❤
یار فرید دل اوتھے لائیے
جتھے اگلا قدر وی جانے
حال دل ہم بھی سناتے لیکن
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
O mere masroof khuda
Apni duniya dekh zara
Itni khalqat ke hote
ShahroN meN hai sannata
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
رات کتنی گزر گئی لیکن
اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں
یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں
جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں
اُن اجالوں کی دھن میںپھرتا ہوں
چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں
رین اندھیری ہے اور کنارہ دور
چاند نکلے تو پار اتر جائیں
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ سے ہی نہ ٹپکے پھر لہو کیا ہے
جے دل پیتا عشق دا جام
سا دل مست و مست مدام
حق موجود سدا موجود
❤❤
ہمیں بھی جلوہ ناز پر لے چلو موسی
تمہیں غش آ گیا تو حسنِ جاناں کون دیکھے گا
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے
pa de hassy k de saaa di
sa khwaga di ka trakha di
da guloona ka uba dii
na pohegam che da saa di
waya sa de che pa zra di
❤❤❤
مجھے یہ شکوہ کہ تو روبرو کیوں نہیں
اسے یہ مان کہ مجھے ڈھونڈ کے مل
مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
میں پیاس کا صحرا وہ برسات کی مانند
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
جس دن کسی شمع پہ پروانہ جلا ہو گا
شاید اسی جلنے میں جینے کا مزہ ہو گا
جس دن یہ مے تو نے بوتل میں بھری ہو گی
ساقی تیرا مستی سے کیا حال ہوا ہو گا
ہائے او میری جان
نہ ہو پریشان
بنا تیرے میرا سرنا نہیں
او ماہئیا تیری خیر
ہوئے چاروں پہر
شالا ہور کچھ منگدا نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain