Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

jo larkian black hairs pe golden colour karwati hain qasam se golden Shepherd lagti hain😂😂

Garammizaj
 

Bad days Build Better Days 🤞

Garammizaj
 

Ab to badal jao DmD bhi badal gya😉😉

Garammizaj
 

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے حِس، تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مُدّت کہ غالب مر گیا، پر یاد آتا ہے
ہو ہر اِک بات پر کہنا، کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

Garammizaj
 

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے

Garammizaj
 

رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیاہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

Garammizaj
 

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آ نکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

Garammizaj
 

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیاہے

Garammizaj
 

اِسی کائنات میں اے جگر، کوئی اِنقلاب اُٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی، ابھی خواہشوں کا غلام ہے

Garammizaj
 

جو ذرا سی پی کے بہک گیا، اُسے میکدے سے نکال دو
یہاں کم نظر کا گُزر نہیں، یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے

Garammizaj
 

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اِس کا کوئی کرے گا کیا، یہ تو میکدے کا نظام ہے

Garammizaj
 

یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہیں، یہاں سب کا ساقی اِمام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی، یہاں پارسائی حرام ہے

Garammizaj
 

عشق ہی زندہ و پایندہ حقیقت ہے جگرؔ
عشق کو عام بنا ذوقِ یقیں پیدا کر

Garammizaj
 

Kaali kaali in raaton se honey lagi hai Dostii❤❤

Garammizaj
 

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

Garammizaj
 

یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
یہ بڑھتے ہوے ہاتھ سینوں کی جانب
مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امّت زلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں

Garammizaj
 

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

Garammizaj
 

میں جو سر بہ سجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

Garammizaj
 

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

Garammizaj
 

کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ، ہیں مری جبینِ نیاز میں