ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
کیا آئے راحت آئی جو کنجِ مزار میں
وہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا
دیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا
ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں
سُنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
اُلٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دے کے اِنسان کو دُنیا میں خلافت اپنی
اِک تماشا بھی زمانے میں بنا رکھا ہے
اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو
سب کی نظروں سے مگر خود کو چھپا رکھا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو
یہ بُرائی، وہ بھلائی، یہ جہنّم وہ بہشت
اِس اُلٹ پھیر میں فرماؤ کہ کیا رکھا ہے
جرم آدم نے کیا اور سزا بیٹوں کو
عدل و اِنصاف کا میعار بھی کیا رکھا ہے
دے کے تدبیر کے پنچھی کو اُڑانیں تُم نے
دامِ تقدیر بھی ہر سمت بچھا رکھا ہے
کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تُم نے
ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے
لامکانی کا بہر حال ہے دعوا بھی تمہیں
نحنُ اقرب کا بھی پیغام سُنا رکھا ہے
دِل پہ حیرت نے عجب رںگ جما رکھا ہے
ایک اُلجھی ہوئی تصویر بنا رکھا ہے
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چکّر کیا ہے
کھیل کیا تُم نے ازل سے یہ رچا رکھا ہے
روح کو جسم کے پنجرے میں بنا کر قیدی
اُس پہ پھر موت کا پہرا بھی بِٹھا رکھا ہے
چھپتے نہیں ہو سامنے آتے نہیں ہو تُم
جلوہ دِکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تُم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تُم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تُم
حیران ہوں اِس بات پہ تم کون ہو کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بُت، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
عقل میں جو گھِر گیا لا اِنتہا کیوںکر ہوا
جو سمجھ میں آ گیا پھر وہ خدا کیوںکر ہوا
نہیں ہے تو تو پھر اِنکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتا ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو
جو اُلفت میں تمہاری کھو گیا ہے
اُسی کھوئے ہوئے کو کچھ مِلا ہے
نہ بُت خانے، نہ کعبے میں مِلاہے
مگر ٹوٹے ہوئے دِل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
تجھے دیر و ہرم میں میں نے ڈھونڈا، تو نہیں ملتا
مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دِل میں دیکھا ہے
ڈھونڈے نہیں ملے ہو، نا ڈھونڈے سے کہیں تم
اور پھر یہ تماشہ ہے جہاں ہم ہیں وہیں تم
تم اک گورکھ دھندا ہو
ہر ذرّے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے
حیراں ہے مگر عقل کہ کیسا ہے تو کیا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو
کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا، کبھی وہاں پہنچا
تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا
غریب مِٹ گئے پامال ہو گئے لیکن
کسی تلک نہ تیرا آج تک نِشاں پہنچا
ذیہن میں جو گھر گیا لا انتہا کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آ گیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
یک لخت تم نے جوش کو دل سے بھلا دیا
اور اس میں بھید کیا ہے بتاتے نہیں ہو تم
حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مہنگائی کہ چرچے ہیں زلیخاؤں میں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آو اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain