Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

Garammizaj
 

کیا آئے راحت آئی جو کنجِ مزار میں
وہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا
دیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا

Garammizaj
 

ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں
سُنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا

Garammizaj
 

دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
اُلٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

Garammizaj
 

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

Garammizaj
 

دے کے اِنسان کو دُنیا میں خلافت اپنی
اِک تماشا بھی زمانے میں بنا رکھا ہے
اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو
سب کی نظروں سے مگر خود کو چھپا رکھا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو

Garammizaj
 

یہ بُرائی، وہ بھلائی، یہ جہنّم وہ بہشت
اِس اُلٹ پھیر میں فرماؤ کہ کیا رکھا ہے
جرم آدم نے کیا اور سزا بیٹوں کو
عدل و اِنصاف کا میعار بھی کیا رکھا ہے

Garammizaj
 

دے کے تدبیر کے پنچھی کو اُڑانیں تُم نے
دامِ تقدیر بھی ہر سمت بچھا رکھا ہے
کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تُم نے
ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے
لامکانی کا بہر حال ہے دعوا بھی تمہیں
نحنُ اقرب کا بھی پیغام سُنا رکھا ہے

Garammizaj
 

دِل پہ حیرت نے عجب رںگ جما رکھا ہے
ایک اُلجھی ہوئی تصویر بنا رکھا ہے
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چکّر کیا ہے
کھیل کیا تُم نے ازل سے یہ رچا رکھا ہے
روح کو جسم کے پنجرے میں بنا کر قیدی
اُس پہ پھر موت کا پہرا بھی بِٹھا رکھا ہے

Garammizaj
 

چھپتے نہیں ہو سامنے آتے نہیں ہو تُم
جلوہ دِکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تُم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تُم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تُم

Garammizaj
 

حیران ہوں اِس بات پہ تم کون ہو کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بُت، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
عقل میں جو گھِر گیا لا اِنتہا کیوںکر ہوا
جو سمجھ میں آ گیا پھر وہ خدا کیوںکر ہوا

Garammizaj
 

نہیں ہے تو تو پھر اِنکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتا ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو

Garammizaj
 

جو اُلفت میں تمہاری کھو گیا ہے
اُسی کھوئے ہوئے کو کچھ مِلا ہے
نہ بُت خانے، نہ کعبے میں مِلاہے
مگر ٹوٹے ہوئے دِل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے

Garammizaj
 

تجھے دیر و ہرم میں میں نے ڈھونڈا، تو نہیں ملتا
مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دِل میں دیکھا ہے
ڈھونڈے نہیں ملے ہو، نا ڈھونڈے سے کہیں تم
اور پھر یہ تماشہ ہے جہاں ہم ہیں وہیں تم
تم اک گورکھ دھندا ہو

Garammizaj
 

ہر ذرّے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے
حیراں ہے مگر عقل کہ کیسا ہے تو کیا ہے
تم اک گورکھ دھندا ہو

Garammizaj
 

کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا، کبھی وہاں پہنچا
تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا
غریب مِٹ گئے پامال ہو گئے لیکن
کسی تلک نہ تیرا آج تک نِشاں پہنچا

Garammizaj
 

ذیہن میں جو گھر گیا لا انتہا کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آ گیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا

Garammizaj
 

یک لخت تم نے جوش کو دل سے بھلا دیا
اور اس میں بھید کیا ہے بتاتے نہیں ہو تم

Garammizaj
 

حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مہنگائی کہ چرچے ہیں زلیخاؤں میں

Garammizaj
 

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آو اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں