رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
زیست سے تنگ ہو اے داغ تو جیتے کیوں ہوں
جان پیاری بھی نہیں اور جان سے جاتے بھی نہیں
عُذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاو
غم سجناں دے مار مکایا
تے میں اتھرو بنڑ کے ڈُل گئی
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
یہاں کسی کو کوئی حسب آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
یوں تو ہر شام جلاتے ہیں امیدوں کے چراغ
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
لاکھ اس دل کو ہم نے سمجھایا
دل وہاں پھر بھی ہم کو لے آیا
ده ګلونو قدر چا زده
دا بلبل یا ده بهورا زده
خلق دی بد کړی زه به خه کوم
زه خوشال یم زما دا زده
آو چپ کی زباں میں ناصر
اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں
آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا
وہ پھول جو میرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے
محسوس کیجئے جذبات کو
آپ کی واہ سے متاثر نہیں ہو میں
Imagine a girl who talks to only one boy
.
Note : Just Imagine
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانہ لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
کلی کو كھل کے مرجھانا پڑا
تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے
کله دے غم راباندے بار شی
کله دے مینہ پہ درنو کاںنړو تلمه
کلہ چی پہ فکر کہ دا ستا شما
لاڑ شمہ دا زان نہ خو بیا راشمہ
کوئی کسی کو چاہے تو کیوں گناہ سمجھتے ہیں لوگ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain