اے جانِ وفا یہ ظلم نا کر
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم
حضور آپکا بھی آحترام کرتا چلوں
ادھر سے گزرا تو سوچا سلام کرتا چلوں
zindagi ne zindagi bhar gham diye
jitne bhi mosam diye sab nam diye
مینہ ہغہ دا خو نازونہ اے بدل بدل دی
جانان ہغہ دے خو فکرونہ اے بدل بدل دی
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے
تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے
جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے
وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے
نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں
وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے
تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر
کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے
تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ
کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے
بے حد رمزاں دسدا
میرا ڈھولن ماہی
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
میری غفلتوں کی بھی حد نہیں
تیری رحمتوں کی بھی حد نہیں
نہ میری خطا کا شمار ہے
نہ تیری عطا کا شمار ہے
اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیئے ہیں ٹوٹے ہوئے
انہی سے کام چلاو بڑی اداس ہے رات
میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
اٹھاتے ہیں نظریں تو گرتی ہے بجلی
ادا جو بھی نکلی قیامت ہی نکلی
ہم سے نہیں رشتہ بھی ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پاس وہ بیٹھا بھی دھوکہ ہو تو ایسا ہو
محبت میں سب طاقتیں ہوتی ہیں
بس اک بولنے کی قوت نہیں ہوتی
رات آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی
آسمان پر ستارے کہاں ہیں
اور جو ہیں ہمارے کہاں ہیں
دیکھنا حشر میں جب تم پہ مچل جاوں گا
میں بھی کیا وعدہ تمہارا ہوں کہ ٹل جاوں گا
بدل کے میری تم زندگانی
کہیں بدل نا جانا صنم
اگر مجھ سے محبت ہے
مجھے سب اپنے غم دے دو
ان آنکھوں کا ہر اک آنسو
مجھے میری قسم دے دو
دل نا امید نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
خلوص دل سے علی کا جو نام لیتا ہے
وہ ہی تو لذتِ عمرِ تمام لیتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain