Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

اے جانِ وفا یہ ظلم نا کر
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم

Garammizaj
 

حضور آپکا بھی آحترام کرتا چلوں
ادھر سے گزرا تو سوچا سلام کرتا چلوں

Garammizaj
 

zindagi ne zindagi bhar gham diye
jitne bhi mosam diye sab nam diye

Garammizaj
 

مینہ ہغہ دا خو نازونہ اے بدل بدل دی
جانان ہغہ دے خو فکرونہ اے بدل بدل دی

Garammizaj
 

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے
تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے
جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے
وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے
نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں
وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے
تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر
کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے
تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ
کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے

Garammizaj
 

بے حد رمزاں دسدا
میرا ڈھولن ماہی

Garammizaj
 

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں

Garammizaj
 

میری غفلتوں کی بھی حد نہیں
تیری رحمتوں کی بھی حد نہیں
نہ میری خطا کا شمار ہے
نہ تیری عطا کا شمار ہے

Garammizaj
 

اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیئے ہیں ٹوٹے ہوئے
انہی سے کام چلاو بڑی اداس ہے رات

Garammizaj
 

میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں

Garammizaj
 

اٹھاتے ہیں نظریں تو گرتی ہے بجلی
ادا جو بھی نکلی قیامت ہی نکلی

Garammizaj
 

ہم سے نہیں رشتہ بھی ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پاس وہ بیٹھا بھی دھوکہ ہو تو ایسا ہو

Garammizaj
 

محبت میں سب طاقتیں ہوتی ہیں
بس اک بولنے کی قوت نہیں ہوتی

Garammizaj
 

رات آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی

Garammizaj
 

آسمان پر ستارے کہاں ہیں
اور جو ہیں ہمارے کہاں ہیں

Garammizaj
 

دیکھنا حشر میں جب تم پہ مچل جاوں گا
میں بھی کیا وعدہ تمہارا ہوں کہ ٹل جاوں گا

Garammizaj
 

بدل کے میری تم زندگانی
کہیں بدل نا جانا صنم

Garammizaj
 

اگر مجھ سے محبت ہے
مجھے سب اپنے غم دے دو
ان آنکھوں کا ہر اک آنسو
مجھے میری قسم دے دو

Garammizaj
 

دل نا امید نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

Garammizaj
 

خلوص دل سے علی کا جو نام لیتا ہے
وہ ہی تو لذتِ عمرِ تمام لیتا ہے