اپنا تو صدیوں جنموں کا ناطہ ہے
جان سے جان کو کون جدا کر پاتا ہے
مر کے بھی نہ وعدہ اپنا توڑیں گے
اک دوجے کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں گے
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
free offer
15 days demo relationship
money back guarantee
ہاسے کھو لے نے تیریاں یاداں نے
آ مل سجنا فریاداں نے
کاش ہم بھی پڑھے لکھے ہوتے
ہویآں لمیاں جدائیاں
ہنجو مک گئے نے سارے
ہزاروں منزلیں ہوں گی
ہزاروں کارواں ہوں گے
کیسا یہ عشق ہے
عجب سا رسک ہے
راشہ چہ مرید دی شمہ
پیر می شا او پیر می شا
زار دہ پختنو نہ شم
کم دی
ایک مدت سے تیری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تمہیں ایسا بھی نہیں
ہم سا ہو تو سامنے آئے
اک گرم چائی کی پیالی ہو
کوئی اس کو پلانے والی ہو
قریب قریب سنگل
اک ماہیا تیری یاد نہ بھل دی
باقی ہر شے جگ دی بھل گئی
نیلی نیلی روشنی کمرے میں بند ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
شعر مکمل کریں
چی می مینہ خدے پہ تا باندے پیدا کڑا
ترکہ ما پہ ھغہ ورز خپلہ رضا کڑا
اجنبی شہر کے اجنبی راستے
میری تنہائی پر مسکراتے رہے
تمہیں یہ فخر تو حاصل ہے تمہیں چاہا گیا
ہمارے پاس تو یہ احساس بھی ادھورا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain