hello kaise ho yaar
منتظر میرے زوال کے ہیں
میرے اپنے بھی کتنے کمال کے ہیں
وہ مہرباں ہے تو اقرار کیوں نہیں کرتا
وہ بدگماں ہے تو سو بار آزمائے مجھے
زما مینہ خپل ستم بہ در معلوم شی
لگ ساعت لہ تہ حمزہ زہ بہ جانان شم
ستا پہ اننګو کې د حمزہ د وینو سره دي
تہ شوې د پښتو غزلہ ځوان زہ دې بابا کړم
را مې شي لیمو ته د دیدن په وخت
اوښکې څه ناپوهه رقیبانې دي
حمزه بابا
مجھ سے صلاح لی نہ اجازت طلب ہوئی
بے وجہ روٹھ بیٹھے ہیں اپنی خوشی سے آپ
بیخودؔ یہی تو عمر ہے عیش و نشاط کی
دل میں نہ اپنے توبہ کی ٹھانیں ابھی سے آپ
عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ
واقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ
دل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپ
ملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ
حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے
ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
طرَب آشنائے خروش ہو، تُو نَوا ہے محرمِ گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھُپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں
دمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اَثرِ کہن
نہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں
نہ کہیں جہاں میں اماں مِلی، جو اماں مِلی تو کہاں مِلی
مرے جُرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زُلفِ ایاز میں
جو میں سر بسجدہ ہُوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنَم آشنا، تجھے کیا مِلے گا نماز میں
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
پیار میں ایک ہی موسم ہے بہاروں کا فراز
لوگ موسم کی طرح کیسے بدل جاتے ہیں
ہم سُنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے
چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو !
دل کی بیماری پُرانی اور ہے
جو کہا ہم نے ، وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے
ہے بساطِ دل لہو کی اِک بوند
چشمِ پُرخُوں کی روانی اور ہے
نامہ بر کو، کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اُس نے سُنانی اور ہے
آبِ زمزم، دوست لائے ہیں عبث !
ہم جو پیتے ہیں، وہ پانی اور ہے
سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو !
کیا مِرے جاناں کا ثانی اور ہے
شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تری سادہ بیانی اور ہے
پہلے ہی قیامت تھے خدوخال تمہارے
سونے پہ سہاگا ہے یہ مسکان وغیرہ
میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا
تو پھول لے کے وہ انکار کرنا جانتا تھا
وہ ناؤ سے جو اگر چھیڑتا تھا دریا کو
تو تیر کر بھی اسے پار کرنا جانتا تھا
جو شخص آیا تھا دیوار کود کر دل میں
ڈرا ہوا تھا مگر پیار کرنا جانتا تھا
یونہی فسردہ نہ تھا خشک پیڑ کٹنے پر
اک آدھ شاخ ثمردار کرنا جانتا تھا
یہ بات فیصلہ کن مرحلے میں مجھ پہ کھلی
وہ اپنا ہاتھ بھی تلوار کرنا جانتا تھا
وہ تو معشوق ہیں ہر بات پہ روٹھیں گے جگرٌ
تم نہ گھبرا کے کہیں ان سے خفا ہوجانا
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
🥀
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain