Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

hello kaise ho yaar

Garammizaj
 

منتظر میرے زوال کے ہیں
میرے اپنے بھی کتنے کمال کے ہیں

Garammizaj
 

وہ مہرباں ہے تو اقرار کیوں نہیں کرتا
وہ بدگماں ہے تو سو بار آزمائے مجھے

Garammizaj
 

زما مینہ خپل ستم بہ در معلوم شی
لگ ساعت لہ تہ حمزہ زہ بہ جانان شم

Garammizaj
 

ستا پہ اننګو کې د حمزہ د وینو سره دي
تہ شوې د پښتو غزلہ ځوان زہ دې بابا کړم

Garammizaj
 

را مې شي لیمو ته د دیدن په وخت
اوښکې څه ناپوهه رقیبانې دي
حمزه بابا

Garammizaj
 

مجھ سے صلاح لی نہ اجازت طلب ہوئی
بے وجہ روٹھ بیٹھے ہیں اپنی خوشی سے آپ
بیخودؔ یہی تو عمر ہے عیش و نشاط کی
دل میں نہ اپنے توبہ کی ٹھانیں ابھی سے آپ

Garammizaj
 

عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ
واقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ
دل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپ
ملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ

Garammizaj
 

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

Garammizaj
 

ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

Garammizaj
 

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

Garammizaj
 

کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
طرَب آشنائے خروش ہو، تُو نَوا ہے محرمِ گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھُپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں
دمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اَثرِ کہن
نہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں
نہ کہیں جہاں میں اماں مِلی، جو اماں مِلی تو کہاں مِلی
مرے جُرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں
نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زُلفِ ایاز میں
جو میں سر بسجدہ ہُوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنَم آشنا، تجھے کیا مِلے گا نماز میں

Garammizaj
 

ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے

Garammizaj
 

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

Garammizaj
 

پیار میں ایک ہی موسم ہے بہاروں کا فراز
لوگ موسم کی طرح کیسے بدل جاتے ہیں

Garammizaj
 

ہم سُنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے
چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو !
دل کی بیماری پُرانی اور ہے
جو کہا ہم نے ، وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے
ہے بساطِ دل لہو کی اِک بوند
چشمِ پُرخُوں کی روانی اور ہے
نامہ بر کو، کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اُس نے سُنانی اور ہے
آبِ زمزم، دوست لائے ہیں عبث !
ہم جو پیتے ہیں، وہ پانی اور ہے
سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو !
کیا مِرے جاناں کا ثانی اور ہے
شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تری سادہ بیانی اور ہے

Garammizaj
 

پہلے ہی قیامت تھے خدوخال تمہارے
سونے پہ سہاگا ہے یہ مسکان وغیرہ

Garammizaj
 

میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا
تو پھول لے کے وہ انکار کرنا جانتا تھا
وہ ناؤ سے جو اگر چھیڑتا تھا دریا کو
تو تیر کر بھی اسے پار کرنا جانتا تھا
جو شخص آیا تھا دیوار کود کر دل میں
ڈرا ہوا تھا مگر پیار کرنا جانتا تھا
یونہی فسردہ نہ تھا خشک پیڑ کٹنے پر
اک آدھ شاخ ثمردار کرنا جانتا تھا
یہ بات فیصلہ کن مرحلے میں مجھ پہ کھلی
وہ اپنا ہاتھ بھی تلوار کرنا جانتا تھا

Garammizaj
 

وہ تو معشوق ہیں ہر بات پہ روٹھیں گے جگرٌ
تم نہ گھبرا کے کہیں ان سے خفا ہوجانا

Garammizaj
 

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
🥀