ہوس اور انسانیت سے اوپر اٹھ کے دیکھیے
مرد سے اچھا دوست مل جائے تو کہیے
عاجزی کے لباس میں دلوں کے یزید لوگ
خاموشی سے بڑا کوئی جواب نہیں ہوتا
لیکن خاموشی سے بڑا کوئی عذاب بھی نہیں ہوتا
ہم نے پوچھا کہ عشق ہوتا ہے کیا
اٹھ کے پھر چل دیے ملنگ سبھی
عورت غلط شخص سے دھوکا کھانے کے بعد
بدلہ ہمیشہ مخلص شخص سے ہی لیتی ہے
ہاں انتظار ہمیشہ رہے گا تمہارا
بس آواز نہیں دیں گے
خواہشات مر جائیں تو باقی سمجھوتے رہ جاتے ہیں
ہاسے کھو لے نے تیریا یاداں نے
آ مل سجنا فریادں نے
میرے دل دا سونا تک وہیڑا
درداں نے ٹھکانہ لبیا اے
تصویر بنا کے میں تیری
جیون دا بہانہ لبیا اے
تو نہ وچھڑ کے مل او چل سجنا
اساں سارا زمانہ لبیا اے
شعلہ تھا جل بھجا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
میں کب کا جا چکا ہوں سدائیں مجھے نہ دو
ایسا نہیں کہ میرے بلانے سے آگیا
وہ رہ نہیں سکا تو بہانے سے آگیا
اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا
اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
زما مینہ بہ ھلہ در معلوم شی
لگ ساعت لہ تہ حمزہ زہ بہ جانان شم
حمزہ زوانی زما غزل اوخوڑہ
خامی می دا دہ چہ غزل نہ شومہ
خود بخود چھوڑ گئے ہیں تو چلو ٹھیک ہوا
اتنے احباب کہاں ہم سے سمبھالے جاتے
ہم بھی غالب کی طرح کوچہ جاناں سے محسن
نا نکلتے تو کسی روز نکالے جاتے
پریم پیالہ جب سے پیا ہے
جی کا ایک ہی کام
انگاروں پہ نیند آجائے اور کانٹوں پہ آرام
سانسوں کی مالا پہ سمروں میں
پی کا نام
تیرے بن نئین لگدا دل میرا ڈھولنا
تیرے بن نئیں لگدا دل میرا ڈھولنا
دل سوز سے خالی ہے نگاہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا ہے تو بےباک نہیں ہے
آواز دے کے زندگی ہر بار چھپ گئی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain