Damadam.pk
Garammizaj's posts | Damadam

Garammizaj's posts:

Garammizaj
 

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

Garammizaj
 

اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے
تو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائے
وہی دل ہے جو حسن و عشق کا کاشانہ ہو جائے
وہ سر ہے جو کسی کی تیغ کا نذرانہ ہو جائے
یہ اچھی پردہ داری ہے یہ اچھی رازداری ہے
کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے
کسی کی زلف بکھرے اور بکھر کر دوش پر آئے
دل صد چاک الجھے اور الجھ کر شانہ ہو جائے
یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
وہ مے دے دے جو پہلے شبلی و منصور کو دی تھی
تو بیدمؔ بھی نثار مرشد مے خانہ ہو جائے

Garammizaj
 

نہ محجبینوں سے ربط ہے
نہ شوہرتوں سے خبط ہے
وہ رانجھا نہ قیس ہے
انشا نہ فیض ہے
وہ پیکر اخلاص ہے
وفا دعا اور آس ہے

Garammizaj
 

یوں دیکھنے میں عام سا
اداسیوں کی شام سا
جیسے ایک راز ہوں
خود سے بے نیاز ہوں

Garammizaj
 

بن تیرے کیا ہے جینا

Garammizaj
 

باقی سب تو ٹھیک ہے اتوار اسی طرح بورنگ ہے

Garammizaj
 

وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
۔۔۔۔یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا

Garammizaj
 

حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

Garammizaj
 

وفا کریں گے نبھائینگے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے یہ الفاظ کس کے تھے

Garammizaj
 

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

Garammizaj
 

اتنا شدید غم ہےکہ احساسِ غم نہیں
کیسے کہوں کہ مجھ پہ تمہارا کرم نہیں
میں نے جمالِ یار نہ دیکھا تو کیا ہوا
ہر دم خیالِ یار ہے یہ بھی تو کم نہیں

Garammizaj
 

ہے تیرا تصور تیری لگن دل تجھ سے لگائے بیٹھے ہیں
اک یاد میں تیری جانِ جہاں ہم خود کو بھلائے بیٹھے ہیں
جھکتی ہے نظر سجدے کے لئے ہوتی ہے نمازِ عشق ادا
معراجِ عبادت کیا کہئیے وہ سامنے آئے بیٹھے
نظروں کا تقاضہ پورا کر ایک بار تو جلوہ دکھلا دے
یہ اہلِ جنوں یہ دیوانے اُمید لگائے بیٹھے ہیں
تسلیم و رضا کی منزل میں دل جان تو کوئی چیز نہیں
ہم تیری اداؤں پر جاناں ایماںٓن لٹائے بیٹھے ہیں
دیکھو تو ذرا یہ بھولا پن اس ناز و ادا کو کیا کہئیے
دل لے کے ہمارا محفل میں نظروں کو چھپائے بیٹھے ہیں
اِس حسن پہ دنیا مرتی ہے اک ہم ہی نہیں شیدا ان کے
معلوم نہیں یہ کتنوں کو دیوانہ بنائے بیٹھے ہیں
ہستی ہے سرور مستی میں اب ہوش کا دعویٰ کون کرے
وہ مست نظر سے ہم کو فناؔ مستانہ بنائے بیٹھے ہیں

Garammizaj
 

بقدرِ ظرف محبت کا کاروبار چلے
مزہ تو جب ہے کہ ہر لمحہ ذکرِ یار چلے

Garammizaj
 

“The real dirt is not outside, but inside, in our hearts. We can wash all stains with water. The only one we can’t remove is the grudge and the bad intentions sticking to our hearts.....!!♥️
#Shams_Tabrizi

Garammizaj
 

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
گر تومی بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر
اے خدا تو دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک درماندہ فقیر ہوں۔تیرا کرم ہوگا کہ قیامت کے دن میری معافی قبول کرلے اور مجھے بخش دے۔اگر کسی وجہ سے میرا حساب کتاب کرنا اور میرے اعمال نامے کا جائزہ لینا ضروری خیال کرے تو اتنا کرم کرنا میری فردِ گناہ آقائے دوجہان کی نگاہوں سے چھپا کے رکھنا____!!

Garammizaj
 

میں ازل سے بندہء عشق ہوں
مجھے زہد و کفر کا غم نہیں ہے
میرے سر کو در تیرا مل گیا
مجھے اب تلاشِ حرم نہیں ہے
میری بندگی ہے وہ بندگی
جو مقامِ زہد و حرم نہیں ہے
میرا اک نظر تجهے دیکهنا
باخدا نماز سے کم نہیں ہے.

Garammizaj
 

نظر سے دور رہ کر بھی، تیرا یوں رُوبرو رھنا..
کسی کے پاس رھنے کا, سلیقہ ھو تو تم سا ھو

Garammizaj
 

مندی ہاں کہ چنگی ہاں بھی ، صاحب تیری بندی ہاں
گہلا لوک جانے دیوانی ، رنگ صاحب دے رنگی ہاں

Garammizaj
 

جے کر دین علم وِچ ہوندا
تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو
اٹھارہ ہزار جو عالم آیا
اَگے حسین دے مردے ھُو
جے کجھ ملاحظہ سرور دا کردے
تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو
جے کر مندے بیعت رسولی
پانی کیوں بند کردے ھُو
پر صادق دین تنہا دا باھُو
جو سر قربانی کردے ھُو
عاشق سوئ حقیقی جیہڑا
قتل معشوق دے منے ھُو
عشق نہ چھوڑے منہ نہ موڑے
تورے سے تلواراں کھنّے ھُو
جت ول ویکھے راز ماہی دے
لگے اسے بنّے ھُو
سچا عشق حسین ابن علی دا باھُو
سر دتا راز نہ بھنّے ھُو
(حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ تعالی علیہ)

Garammizaj
 

وعدوں کے پاسدار تھے باتوں سے پھر گئے
دل کے قریب لوگ ---- نظروں سے گر گئے.