زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا
اگر کعبہ کا رخ بھی جانب مے خانہ ہو جائے
تو پھر سجدہ مری ہر لغزش مستانہ ہو جائے
وہی دل ہے جو حسن و عشق کا کاشانہ ہو جائے
وہ سر ہے جو کسی کی تیغ کا نذرانہ ہو جائے
یہ اچھی پردہ داری ہے یہ اچھی رازداری ہے
کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے
کسی کی زلف بکھرے اور بکھر کر دوش پر آئے
دل صد چاک الجھے اور الجھ کر شانہ ہو جائے
یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے
سحر تک سب کا ہے انجام جل کر خاک ہو جانا
بنے محفل میں کوئی شمع یا پروانہ ہو جائے
وہ مے دے دے جو پہلے شبلی و منصور کو دی تھی
تو بیدمؔ بھی نثار مرشد مے خانہ ہو جائے
نہ محجبینوں سے ربط ہے
نہ شوہرتوں سے خبط ہے
وہ رانجھا نہ قیس ہے
انشا نہ فیض ہے
وہ پیکر اخلاص ہے
وفا دعا اور آس ہے
یوں دیکھنے میں عام سا
اداسیوں کی شام سا
جیسے ایک راز ہوں
خود سے بے نیاز ہوں
بن تیرے کیا ہے جینا
باقی سب تو ٹھیک ہے اتوار اسی طرح بورنگ ہے
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
۔۔۔۔یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں
وفا کریں گے نبھائینگے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے یہ الفاظ کس کے تھے
نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
اتنا شدید غم ہےکہ احساسِ غم نہیں
کیسے کہوں کہ مجھ پہ تمہارا کرم نہیں
میں نے جمالِ یار نہ دیکھا تو کیا ہوا
ہر دم خیالِ یار ہے یہ بھی تو کم نہیں
ہے تیرا تصور تیری لگن دل تجھ سے لگائے بیٹھے ہیں
اک یاد میں تیری جانِ جہاں ہم خود کو بھلائے بیٹھے ہیں
جھکتی ہے نظر سجدے کے لئے ہوتی ہے نمازِ عشق ادا
معراجِ عبادت کیا کہئیے وہ سامنے آئے بیٹھے
نظروں کا تقاضہ پورا کر ایک بار تو جلوہ دکھلا دے
یہ اہلِ جنوں یہ دیوانے اُمید لگائے بیٹھے ہیں
تسلیم و رضا کی منزل میں دل جان تو کوئی چیز نہیں
ہم تیری اداؤں پر جاناں ایماںٓن لٹائے بیٹھے ہیں
دیکھو تو ذرا یہ بھولا پن اس ناز و ادا کو کیا کہئیے
دل لے کے ہمارا محفل میں نظروں کو چھپائے بیٹھے ہیں
اِس حسن پہ دنیا مرتی ہے اک ہم ہی نہیں شیدا ان کے
معلوم نہیں یہ کتنوں کو دیوانہ بنائے بیٹھے ہیں
ہستی ہے سرور مستی میں اب ہوش کا دعویٰ کون کرے
وہ مست نظر سے ہم کو فناؔ مستانہ بنائے بیٹھے ہیں
بقدرِ ظرف محبت کا کاروبار چلے
مزہ تو جب ہے کہ ہر لمحہ ذکرِ یار چلے
“The real dirt is not outside, but inside, in our hearts. We can wash all stains with water. The only one we can’t remove is the grudge and the bad intentions sticking to our hearts.....!!♥️
#Shams_Tabrizi
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
گر تومی بینی حسابم ناگزیر
از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر
اے خدا تو دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک درماندہ فقیر ہوں۔تیرا کرم ہوگا کہ قیامت کے دن میری معافی قبول کرلے اور مجھے بخش دے۔اگر کسی وجہ سے میرا حساب کتاب کرنا اور میرے اعمال نامے کا جائزہ لینا ضروری خیال کرے تو اتنا کرم کرنا میری فردِ گناہ آقائے دوجہان کی نگاہوں سے چھپا کے رکھنا____!!
میں ازل سے بندہء عشق ہوں
مجھے زہد و کفر کا غم نہیں ہے
میرے سر کو در تیرا مل گیا
مجھے اب تلاشِ حرم نہیں ہے
میری بندگی ہے وہ بندگی
جو مقامِ زہد و حرم نہیں ہے
میرا اک نظر تجهے دیکهنا
باخدا نماز سے کم نہیں ہے.
نظر سے دور رہ کر بھی، تیرا یوں رُوبرو رھنا..
کسی کے پاس رھنے کا, سلیقہ ھو تو تم سا ھو
مندی ہاں کہ چنگی ہاں بھی ، صاحب تیری بندی ہاں
گہلا لوک جانے دیوانی ، رنگ صاحب دے رنگی ہاں
جے کر دین علم وِچ ہوندا
تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھُو
اٹھارہ ہزار جو عالم آیا
اَگے حسین دے مردے ھُو
جے کجھ ملاحظہ سرور دا کردے
تاں تمبو خیمے کیوں سڑدے ھُو
جے کر مندے بیعت رسولی
پانی کیوں بند کردے ھُو
پر صادق دین تنہا دا باھُو
جو سر قربانی کردے ھُو
عاشق سوئ حقیقی جیہڑا
قتل معشوق دے منے ھُو
عشق نہ چھوڑے منہ نہ موڑے
تورے سے تلواراں کھنّے ھُو
جت ول ویکھے راز ماہی دے
لگے اسے بنّے ھُو
سچا عشق حسین ابن علی دا باھُو
سر دتا راز نہ بھنّے ھُو
(حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ تعالی علیہ)
وعدوں کے پاسدار تھے باتوں سے پھر گئے
دل کے قریب لوگ ---- نظروں سے گر گئے.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain