Damadam.pk
Gghhhko's posts | Damadam

Gghhhko's posts:

Gghhhko
 

باغ میں لگتا نہیں صحرا سے گھبراتا ہے دل
اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم

Gghhhko
 

اچھا!! وہ باغ خلد، جہاں رہ چکے ہیں ہم؟
ہم سے ہی کر رہا ہے، تو زاہد وہاں کی بات

Gghhhko
 

یہ سہولت ہی نہیں آنکھ کو بخشی ہم نے
کہ آپ کے بعد کوئی اور اس میں جچ جائے

Gghhhko
 

ہم تو اَزل سے گنہگار ٹھہرے _________!!!
تمہیں مبارک ہو صحبت پارساؤں کی______________🥀🖤

Gghhhko
 

حدِ ادب کی بات تھی حدِ ادب میں رہ گئی !
اس نے کہا میں چلا میں نے کہا جائیے ۔۔۔۔۔۔!

Gghhhko
 

صورت کے آئینے میں دل پائمال دیکھ
الفت کی واردات کا حسن مثال دیکھ
جب اس کا نام آئے کسی کی زبان پر
اس وقت غور سے میرے چہرے کا حال دیکھ

Gghhhko
 

پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے______________🥀🖤
غالب

Gghhhko
 

اُس نے پیمانے کو آنکھ کے برابر رکھا
اُس کو اچھا نہیں لگتا سنبھلتا ہوا میں
عدنان محسن

Gghhhko
 

یہ میرا آخری سگریٹ ہے, اب گھر جانے دے
یا پھر بانہوں میں جذب کر, یہیں مر جانے دے
یہ جتنے پھول کِھلے ہیں اِنہیں شرمندہ کر
اپنے بالوں کو کُھلا چھوڑ اِنہیں مُرجھانے دے🖤✌

Gghhhko
 

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
بے ادب گریۂ محرومئ دیدار نہیں
ورنہ کچھ در کے سوا حاصل دیوار نہیں
آسماں بھی ترے کوچہ کی زمیں ہے لیکن
وہ زمیں جس پہ ترا سایۂ دیوار نہیں
ہائے دنیا وہ تری سرمہ تقاضہ آنکھیں
کیا مری خاک کا ذرہ کوئی بیکار نہیں
فانی بدایونی

Gghhhko
 

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
بے ادب گریۂ محرومئ دیدار نہیں
ورنہ کچھ در کے سوا حاصل دیوار نہیں
آسماں بھی ترے کوچہ کی زمیں ہے لیکن
وہ زمیں جس پہ ترا سایۂ دیوار نہیں
ہائے دنیا وہ تری سرمہ تقاضہ آنکھیں
کیا مری خاک کا ذرہ کوئی بیکار نہیں
فانی بدایونی

Gghhhko
 

ؑغافل تری نظر ہی سے پردہ اٹھا نہ تھا
ورنہ وہ کس مقام پہ جلوہ نما نہ تھا
روشن چراغ عشق نے کی منزل حیات
ورنہ وہ تیرگی تھی کہ کچھ سوجھتا نہ تھا
مقصود ایک تیرے ہی در کی تھی جستجو
دیر و حرم سے مجھ کو کوئی واسطہ نہ تھا
آواز دے رہے تھے جسے بے خودی میں ہم
دیکھا تو وہ ہمیں تھے کوئی دوسرا نہ تھا
وہ تو شکایت اپنی وفاؤں کی تھی حضور
کچھ آپ کی جفاؤں کا شکوہ گلہ نہ تھا
مانا کہ دور تھا تو نگاہوں سے اے کریم
لیکن ترا خیال تو دل سے جدا نہ تھا
ہم آپ اپنی منزل مقصود تھے امیدؔ
جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستہ نہ تھا
فراق گورکھپوری

Gghhhko
 

مرے عزیز، مرے دل! سنبھل! نہیں ہوتا
کوئی بھی شخص یہاں بےبدل نہیں ہوتا
یہ دل جو تیرے تغافل سے تھکتا جاتا ہے
غمِ حیات اٹھانے سے شل نہیں ہوتا
ہمیں بڑوں کے سکھائے سبق نے مارا ہے
ہمارے صبر کے بدلے میں پھل نہیں ہوتا
وچن کی لاج، وفا کا لحاظ، عہد کا پاس
سُنا تھا، ہوتا ہے، پر آج کل نہیں ہوتا!
ترے سوال نشانے پہ ٹھیک لگتے ہیں
مرا جواب کبھی برمحل نہیں ہوتا
کبھی تو تُو بھی طبیعت پہ بوجھ لگتا ہے
کبھی تو تُو بھی جوازِ غزل نہیں ہوتا
تمہیں جو حال سنائیں، تو کس لیے، اے دوست!
تمہارے پاس بھی الجھن کا حل نہیں ہوتا
سیماب ظفر

Gghhhko
 

سحر کا حُسن ھے کیا ، رات کا عذاب ھے کیا
بدن نہ ھو تو گُناہ کیا ھے ، اور ثواب ھے کیا
جو گھر سے اوڑھ کے نکلے تھے موم کی چادر
پتہ چلا اُنہیں رستے میں آفتاب ھے کیا
تِرے بھی مشورے شامل تھے ترکِ خواھش میں
اے میری وحشتِ دل ! اب یہ اضطراب ھے کیا
ابھی تو سارے ھی موسم تمھارے ہاتھ میں ھیں
ابھی تمہیں نہیں معلوم احتساب ھے کیا
وہ لوگ اور تھے ، اب اُن کو کیا خبر جاناں
وصال و ھجر ھے کیا ، موسمِ گُلاب ھے کیا
نوشی گیلانی

Gghhhko
 

کلام کرتی نہیں بولتی بھی جاتی ہے
تری نظر کو یہ کیسی زبان آتی ہے
کبھی کبھی مجھے پہچانتی نہیں وہ آنکھ
کبھی چراغ سے چاروں طرف جلاتی ہے
یہ چار سو کا اندھیرا سمٹنے لگتا ہے
کچھ اس طرح تری آواز جگمگاتی ہے
میں اس کو دیکھتا رہتا ہوں رات ڈھلنے تک
جو چاندنی تیری گلیوں سے ہوکے آتی ہے
یہ روشنی بھی عطا ہے تری محبت کی
جو میری روح کے منظر مجھے دکھاتی ہے
امجد اسلام امجد

Gghhhko
 

دُنیا ہے کتنی ظالم ہنستی ہے دِل دُکھا کے
پھر بھی نہیں بُجھائے ہم نے دِیئے وفا کے
ہم نے سلوکِ یاراں دیکھا جو دُشمنوں سا
بھر آیا دِل ہمارا ، روئے ہیں منہ چُھپا کے
کیونکر نہ ہم بٹھائیں پلکوں پہ اِن غموں کو
شام و سحر یہی تو مِلتے ہیں ،،، مُسکرا کے
تاعُمر اِس ہنر سے اپنی نہ جان چُھوٹی
کھاتے رہیں ہیں پتّھر ہم آئینہ دِکھا کے
اُس زلفِ خم بہ خم کا سر سے گیا نہ سودا
دُنیا نے ہم کو دیکھا ،،، سو بار آزما کے
”جالبؔ“ ہُوا قفس میں یہ راز آشکارا
اہلِ جُنوں کے بھی تھے کیا حوصلے بلا کے
(شاعرِ انقلاب)
حبیب جالبؔ ¹⁹⁹³-¹⁹²⁸

Gghhhko
 

تیرے پہلو میں الگ شہر بسایا میں نے
تیرے غم سے تیری فرقت سے سجایا میں نے
غم کے انبار پہ بیٹھا ہوا بھوپاری نصیب
تم کو غم خود کو خریدار بنایا میں نے
تیرے اقرار میں انکار کی وجہ کیا تھی
دھوکا تم سے یا خود سے تھا کھایا میں نے
تم کو سائے محبت میں ہی رکھا میں نے
غم کے صحرا میں خود کو ہی جلایا میں نے
تیری ہر بات کو شاعری میں بیاں کر کے
درد سہنے کا ہنر خود کو سکھایا میں
انیس فراز

Gghhhko
 

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقات زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
ناصر کاظمی ۔۔۔

Gghhhko
 

کچھ تعلق صرف روح تک رہ جاتے ہیں،
نہ لفظ بنتے ہیں، نہ قصہ، نہ شکوہ۔

Gghhhko
 

صورت کے آئینے میں دل پائمال دیکھ
الفت کی واردات کا حسن مثال دیکھ
جب اس کا نام آئے کسی کی زبان پر
اس وقت غور سے میرے چہرے کا حال دیکھ
عبد الحمید عدم