فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح ہم پریشاں رہے اپنے خیالوں کی طرح شیشہ گر بیٹھے رہے ذکرِ مسیحا لے کر ہم ٹوٹ گئے کانچ کے پیالوں کی طرح جب انجامِ محبت نے پکارا خود کو وقت نے پیش کیا ہم کو مثالوں کی طرح ذکر جب ہوگا محبت میں تباہی کا یاد ہم آئیں گے دنیا کو حوالوں کی طرح