گرنے والوں کو تکلیف کا پتہ ہوتا ہے، کنویں سے باہر کھڑے لوگ تو بس صرف اندازے لگاتے رہ جاتے ہیں...انہیں لگتا ہے وہ سارا منظر دیکھ رہے ہیں اس لیے وہ اس تکلیف کو محسوس کر سکتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا کنویں میں گرنے کی تکلیف صرف اندر والے ہی جانتے ہیں زویا ممتاز
پانی کی ٹھنڈک ندی کنارے پیڑ کے ہونٹوں پر رکھ کے پتوں کی ترتیب بدلنی ہے شام ڈھلے ہی افق کی لالی چاند کے گالوں پر مَل کے فلک کا چہرہ رُوپہلا کرنا ہے ایک شیشی میں لمس تمہارا بھر کے پھر خوشبو سا محفوظ بنا کے اس میٹھی حِدت میں تب تا عمر پگھلنا ہے اچھا چھوڑو جینے کی باتیں دیکھو کہاں ہے نامۂ بر؟ ...عزرائیل کو خط لکھنا ہے زویا ممتاز