میں نہیں جانتی کہ مجھے اس احساس کو کیا نام دینا چاہیے میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ اگر اس جہاں میں صرف دو لوگ باقی رہ جائیں ایک تم٫ ایک میں اور ان میں سے ایک تمہارے بارے میں برا سوچ رہا ہو تو میرا ایمان ہے ایسا کرنے والے تم ہی ہو گے ___!!میں نہیں زویا ممتاز
__مولا تیری سَت رنگی دنیا میں ایک کنارے کے باسی ہیں تتلی جگنو خوشبو گلاب اور دور دیس اگلے کنارے کہیں پر خیمہ گاڑے میرے اندر رہتے ہیں گونگی چیخیں٫گھور اندھیرا ٫کچی نیندیں اور سرخ آب زویا ممتاز
سوکھے اور گیلے دکھ ایک دوجے سے جب ملتے ہیں اپنا اپنا روپ بدل کر ،٫آوازوں میں ڈھل جاتے ہیں اتنا بے ہنگم شور مچتا ہے کمرہ چھت تک بھر جاتا ہے آہیں روشن دان سے گرتی رہتی ہیں زویا ممتاز