رونے سے نہیں حاصل کچھ اے دل سودائی آنکھوں کی بھی بربادی ، دامن کی بھی رسوائی ہم لوگ سمندر کے بچھڑے ہوئے ساحل ہیں اِس پَار بھی تنہائی ، اُس پَار بھی تنہائی
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain