آپ ہیرا، صدف، نگیں کیوں ہیں؟آپ بے انتہا حسیں کیوں ہیں؟ آپکے کاکلوں کے جنگل میں اتنی موسیقیاں مکیں کیوں ہیں؟ چاند خود بھی نہیں سمجھ پایا آپ اس درجہ مہ جبیں کیوں ہیں؟ شمس حیراں ہے, آپکے عارض پھول ہوکربھی آتشیں کیوں ہیں؟ آپ اتنے دروغ گو ہو کر بھی اسقدر قابلِ یقیں کیوں ہیں؟ شاعروں کے دلوں پہ آپ چلیں گامزن ، برسرِ زمیں کیوں ہیں جتنے بے رحم دلربا ہیں اتنے محبوب، دلنشیں کیوں ہیں ! *ساقی----—----*💔
نفرت پیر جما لیتی ہے گھر جنگل ہو جاتے ہیں اس موسم میں اچھے خاصے بھی پاگل ہو جاتے ہیں جانے کب کوئی آ کر چومے گا اُن کے ہاتھ حافی چوڑیاں پہنے پہنے جن کے بازو شل ہو جاتے ہیں تہذیب حافی