کبھی کبھی انسان ایک عجیب سی وحشت کا شکار ھو جاتا ھے نا رو سکتا ھے نا خوش ره سکتا ھے کوئی لاکھ تسلی دے پرایا لگتا ھے تسلیاں بھی دل مسترد کر دیتا ھے ایسے حالات میں_ لیکن پھر اس تنہائی رعنائی میں اگر کوئی اپنا لگتا ھے تو وه رب باری تعالی کی ذات ھوتی ھے ایک سجده چند لمحوں کی گفتگو اور بس
انسان کو من چاہے کی ہی طلب ہوتی ہے ، پھر اس کو کتنا بھی سمجھا لو ، یہ اچھا ہے ، وہ حسین ، یہ لے لو ، وہ مانگ لو ، مگر نہیں ، بس من چاہا ہی چاہیے بس۔۔!!