وقت کس جنتِ موہوم کا لالچ دے کر مجھ کو ماضی کے جزیروں سے اُٹھا لایا ہے ذہن پر جیسے ہوں بیتے ہوئے لمحوں کے نقوش جیسے بھولی ہوئی یادیں کسی افسانے میں اس طرح لا کے یہاں چھوڑ گیا ہے کوئی جیسے بھٹکا ہوا راہی کسی ویرانے میں ❣❣
بہت سی باتیں انسان کو اندر ہی اندر جلاتی ہیں جو کبھی کسی سی نہیں کی جاتیں وہی باتیں انسان کو اندر سے کھا جاتی ہیں کھوکھلا کر دیتی ہیں اور کھوکھلے لوگوں کا ضبط کانچ کی نازک چوڑیوں کی مانند ہوتا ہے کھنکتا ہے تو آنکھ نم کر دیتا ہے اور ٹوٹ جائے تو بہت کچھ ختم کر دیتا ہے ❣❣