اگر مجھے محسوس ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے اکتا دو قدم درد جانا چاہتا ہے تو یقین مانیے میں خود اس سے دو چار قدم دور چلی جاتی ہوں ہر چیز برداشت ہو سکتی ہے مگر کسی اپنے بہت پیارے کا نظر انداز کرنا گوارا نہیں ...اگر وہ مجھ سے دور رہ کر خوشی محسوس کرتے ہیں تو ایسی ہزاروں خوشیاں ان پہ قربان
کبھی کبھی کچھ بھی بولنے کا دل نہیں چاہتا ایسا لگتا ہے کہ ہم احساس کو صحیح الفاظ میں ڈھال نہیں سکیں گے اور اگر ڈھال بھی لیں تو سامنے والا شائد سمجھ نہیں سکے گا اس لیے خاموشی کا سہارا لئے مسکرا کے جیتے رہتے ہیں ❤️❤️
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ سرِ بازار چلتے ہوئے کسی نے میرے ٹخنے پر ڈنڈے سے چوٹ لگائی درد اور غضب کی کیفیت میں پلٹ کر جو مارنے والے کو دیکھا تو ایک نابینا اپنے ڈنڈے سے راستہ ٹٹول رہا تھا غصے کی کیفیت جھٹ سے شفقت اور ترس میں تبدیل ہو گئی اور میں نے اس نابینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو اسکی منزل تک پہنچا آیا اس دن مجھے احساس ہوا کہ جب انسان کا نکتہ ء نظر تبدیل ہوتا ہے تو جذبات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ہمیں آج ایک دوسرے کے بارے میں نکتہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جذبات خود ہی تبدیل ہو جائیں گے انشاءاللہ
کسی ایک راستے کو بند پا کر تھک ہار کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ راستے اور بھی ہیں اور روزی دینے والی ذات آسمان میں ہے بسا اوقات وہ کسی چیز سے محروم کرتا ہے تاکہ تمہیں اس سے بہتر عطا کرے ❤️❤️