ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں
اک دن جو یونہی پردۂ افلاک اٹھایا
برپا تھا تماشا کوئی تنہائی سے آگے
حسرتیں دفن هیں مجھ میں
خود کا خود مزار هوں میں
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
میری جگہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھے
میں اپنے آ پ سے اتنے سوال کرتا ہوں۔
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں
بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
تو مجھ کو رونے دے یار! شانے پہ ہاتھ مت رکھ
میں گیلے کاغذ کی طرح چُھونے سے پَھٹ رہا ہوں
پاؤں کے زَخم دِکھانے کی اِجازَت دی جاۓ
وَرنہ رَاہگِير کَـو جـانے کی اِجازَت دی جاۓ
اِس قَدرضَبط مَیری جان بھی لےسَکتا ہے
کَم سےکَم اَشک بَہانےکی اِجازَت دی جاۓ
تمہارے لیے تو فقط رابطہ ہی ختم ہوا ہے
میں خود پر گزری قیامت نہیں بتا سکتا