زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے.
ڈھونڈ پائے تو کبھی ڈھونڈ ہمارے جیسے.
کرچیاں چنتے ہوئے عمر گزر جاتی ہے.
کوئی دیکھے تو سہی خواب ہمارے جیسے.
ابھی آتی ہے بُو، بالش سے، اُس کی زلفِ مشکیں کی
ہماری دید کو ، خوابِ زلیخا ، عارِ بستر ہے
اب میں سارے جہاں میں ہوں بدنام
اب بھی تم مجھ کو جانتی ہو کیا؟؟؟
کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب
یہاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے
اک زخم جو میرے لیئے کعبے کی طرح ہے
ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں!
میں اک تجسس کے سوا کچھ بھی نہیں...
آپ پرکھیں گے ، جانیں گے ، اکتا جائیں گے...
ہم سا بھی یادداشت کا سخی نہ ہو کوئی
ہر شعر میں اک واقعہ خیرات کر دیا
ہم نے سوچا تھا کہ گھل مل کے ذرا کم ہوگا
رنج بڑھتا گیا , لوگوں سے شناسائی میں
ایسی تصویر بنا ،روتے ہوئے خوش بھی لگوں
غم کی ترسیل تو ہو ، غم کا تماشہ نہ بنے
ناسور ، درد ، زخم ، تپش ، سوز و اضطراب
سامان سو طرح کا دلِ مختصر میں ہے۔!!
وقت سے پہلے بہت حادثوں سے لڑا ہوں
میں اپنی عمر سے کئی سال بڑا ہوں
دکھ تو یہ ہے کہ اِک بھی گواہی نہ مل سکی
حالانکہ اِک ہجوم میں مارا گیا مجھے
میری آنکھوں کی نمی کسی کو نہیں دیکھتی
میرے الفاظ سب کو تلخ لگتے ہیں
مر جانے کو دل چاہتا ہے
کہ یہ زندگی اچھی نہیں لگتی
دِل کی بَغداد میں تہزیب کا چالیسواں ہے..
مسخ تاریخ کی چیخیں ہیں میرےکانوں میں..
مِلنے آئے ہیں کئی زخَم پُرانے مُجھ کو ..
آج مصروف رہوں گا اِنہی مِہمانوں میں_
کم سے کم موت سے ایسی اُمید نہیں مجھے ۔۔
زندگی تُو نے تو دھوکے پہ دیا ھے دھوکہ ۔۔
بے وجہ اُداسی کا سبب کوئی جو پُوچھے !
کہہ دینا ، یونہی! بس ذرا __حالات وغیرہ..
میرا دل کرتا ہے شدید بیمار ہو جاؤں
اسے پتا بھی نہ چلے اور میں مر جاؤں
إنا لله وإنا إليه راجعون
پوچھا نہ زندگی میں کسی نے بھی دل کا حال
مرنے کے بعد تذکرہ میری خود کشی کا ہے
مگر مجھ کو یہ غم ہے
کہ جب میں مروں گا
یہ سب چاند ، تارے ، بہاریں ، خزائیں
بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
تیرا حُسن ، دنیا کے رنگیں فسانے
یہ سب مل کر زندہ رہیں گے
فقط میری اشک آلود ، آنکھیں نہ ہوں گی!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain