جینا پڑتا ہے کبھی #ظرف سے کمتر ہوکر بھیک دریاؤں سے مانگی ہے سمندر ہو کر ہاں یہ تصویر کبھی بات کیا کرتی تھی دیکھتی رہتی ہیں آنکھیں جسے پتھر ہوکر میرا اس عشق میں نقصان ہوا ہے کتنا خود سے محروم ہوئے تجھ کو میسر ہوکر
میں متفق ہوں تیری تمام باتوں سے ___! بہر حال یوں دل توڑا نہیں کرتے ___! عشق ایک ہی شخص سے حلال ہوتا ہے ___! ہر ایک سے تھوڑا تھوڑا نہیں کیا کرتے ___!
مرمتیں کر کر کے روز تھکتا ہوں روز میرے اندر نیا نقص نکل آتا ہے
کبھی یوں بھی آ میرے روبرو کہ تجھے پاس پاکے میں رو پڑوں
ہم آسماں سر پہ اٹھانے والے خاموش رہنے لگے ہیں، دیکھو
بنا مطلب کے بات کرے مجھ سے ایسے ایک شخص کی تلاش میں ہوں
جس دور سے ہم گزرے ہیں تم گزرتے تو شاید گزر ہی جاتے
ہم محفل میں ہو کے بھی اکیلے ہوتے ہیں
تم نہ کرنا میری نصیحت ہے یہ محبت بھی اک اذیت ہے
ہم بدلے نہیں ہیں مرشد بس دنیا کو سمجھ گئے ہیں
تم اپنی انتہا تو بتاتے خود کو اور گرا دیتا میں
میں ٹھہر گیا، وہ گزر گیا وہ کیا گزرا، سب ٹھہر گیا
ڈوبتے وقت سمجھ آئی جہاں والوں کی جو مجھے دیکھتا تھا، ہاتھ ہلا دیتا تھا
جی میں آتا ہے سب چھوڑ دوں ایک شب اور کمرے میں کہیں لکھ دوں معزرت