حسرتیں روگ بن گئیں مرشد
لوگ ذہنی مریض کہتے ہیں اب
ﮨﺎﺋﮯ _____ﺻﺪﻗﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮐﮭﻮﮞ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺗﺤﻔﮯ ﻣﯿﮟ
گزری رفاقتوں کی نمی آنکھ میں لۓ
اک شخص تیرے شہر سے تنہا گزر گیا
ہم بھی دل خراب سے بیزار ہیں مگر
کیا کیجیے کہ بات نہیں اختیار کی _!
یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بے وفا کی نشانیاں
یہی میرے دن کے رفیق ہیں یہی میری رات کی رانیاں
احباب سبھی مجھ سے اب شکوہ کناں ہیں
کـہ تم اتنا تڑپتـے ہو تو مر کیوں نہیں جاتـے
ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے
جب تم ہی میرے مقابل ہو تو فتح کیسی
جاؤ ہم ساری خوشیاں وار گئے، ہم ہار گئے
اور پھر کچھ راتیں ایسی بھی ہوتی
ہیں کہ سانس لینا وبال لگتا ہے
دوا بھی چل رہی ہے مرض بھی بڑھ رہا ہے
جانے کون میرے مرنے کی دعا کر رہا ہے
میرے پاس نہ بیٹھو صاحب
میری تنہائی خفا ہوتی ہے
کوئی تھک چکا ہے سفر سے
کوئی ہار چکا ہے خود سے
تم نے پوچھا ہے چلو تم کو بتا دیتے ہیں
جو ہم پہ گزری ہے تم کو بھی سنا دیتے ہیں
تیرے بعد ہمیں خود پہ بھی اعتبار نہیں
لفظ لکھتے ہیں لکھ کر مٹا دیتے ہیں
عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
جاگتی آنکھوں کے کچھ خواب ہوا کرتے ہیں
ہر کوئی رو کے دکھا دے یہ ضروری تو نہیں
خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
اپنی سانسوں میں آباد رکھنا مجھے
میں رہوں یا نہ رہوں یاد رکھنا مجھے
وقت سے پہلے بہت حادثوں سے لڑا ہوں
میں اپنی عمر سے کئی سال بڑا ہوں
اس راہِ محبت کی تم بات نہ پوچھو،
انمول جو انساں تھے بے مول بِکےھیں،
ہم خاک نشینوں کو بیزاری مواقف تھی
ہم خاک نشینوں پر فرصت سے زوال آیا
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
خود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میری
بھیڑ میں بھی تمہیں مل جاؤں گا آسانی سے
کھویا کھویا ہوا رہنا ہے نشانی میری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain