جی بھر کے بات کر لو مجھ سے
میں بہت جلد چپ کی چادر اوڑھنے والا ہوں
مجھے جی بھر کے دیکھ لو لوگوں
میں پھر دفن ہو جانے والا ہوں
اچھا تو میں اب چلتا ہوں سفرِ آزاد پر
کوئی میرا پوچھے کہہ دینا إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا
میں تو ہر روز دیکھتا ہوں آئینے میں
تیری جیت کی خاطر ہارا ہوا شخص
بھیڑ میں بھی مل جائوں گا آسانی سے ،،
کھویا کھویا رہنا، نشانی ہے میری ،،