کون تکتا ہے کسی لیلٰی کو مثلِ مجنوں اب یہاں اہلِ محبت ہیں کے زر دیکھتے ہیں جن کی فطرت میں ہو رخصت کا ارادہ مری جاں کون کہتا ہے وہ پھر لَوٹ کے در دیکھتے ہیں
زہر دیتا ہے کوئی کوئی دوا دیتا ہے جو بھی ملتا ہے مرا درد بڑھا دیتا ہے کس نے ماضی کے دریچوں سے پکارا ہے مجھے کون بھولی ہوئی راہوں سے صدا دیتا ہے نقشؔ رونے سے تسلی کبھی ہو جاتی تھی اب تبسم مرے ہونٹوں کو جلا دیتا ہے
خنجر تھا تحہِ دست جب بڑھایا اسنے ہاتھ ہم کہ نادانی میں بڑھتی ہوئی کلائی سمجھی ہم جان بھی دے سکتے ہیں جب جان گیا وہ سو اسنے جان ہی لینے میں بھلائی سمجھی
میرے نزدیک نہ آ ، رشتۂِ تطہیر نہ دیکھ میں کہ بد شکلِ زمانہ مری تصویر نہ دیکھ میرے معصوم ! میں بدبختی کا اک ہوں نسخہ میری تقریر نہ سن تُو مری تحریر نہ دیکھ