میں نے ایک شخص جیت کر ہارا
اب مجھے کھیل کے میدان برے لگتے ہیں
حسرتیں روگ بن گئیں مرشد
لوگ ذہنی مریض کہتے ہیں اب
اور پھر کچھ راتیں ایسی بھی ہوتی
ہیں کہ سانس لینا وبال لگتا ہے
آج چھیڑو نہ نبھا کی باتیں
آج ہم دکھ سے بھرے بیٹھے ہیں
ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں
بہت سے الفاظ ہیں مجھ میں خوبصورت لیکن'
کتابوں کی طرح میں اکثر خاموش رہتا ہوں.
میں تیری بددعا سے مر جاؤں
یہ میری آخری خواہش ہے
تم سے دور جانے کا ارادہ نہ تھا
ساتھ رہنے کا بھی وعدہ نہ تھا
تم یاد نہ کرو گے جانتے تھے ہم
اتنی جلدی بھول جاو گے اندازہ نہ تھا
رکھیے ذرا سنبھال کے نشتر حروف کے
اپنا جگر تو آپ کے لہجے سے کٹ گیا
میں ہی گراں تھا آپ کو میں ہی تھا ناگوار
لیجے یہ سنگِ راہ بھی رستے سے ہٹ گیا
Duniya Meri Wafaon Ka Sila De Chuki Mujhe,
Laa Tu Bhi Mera Khaloos Mere Munh Pe Maar Dey