میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں
دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے
ابھی میعاد باقی ہے ستم کی
محبت کی سزا ہے اور میں ہوں
یہ بھی اک دھوکا تھا نیرنگ طلسم عقل کا
اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے
اٹھ اٹھ کے بیٹھ بیٹھ چکی گرد راہ کی
یارو وہ قافلے تھکے ہارے کہاں گئے
تنہائی فراق میں امید بارہا
گم ہو گئی سکوت کے ہنگامہ زار میں
گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا
گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے
آج بہت اداس ہوں
یوں کوئی خاص غم نہیں
Khamoshiyan Kar Dein Bayaa’n Toh Alag Baat Hai,
Kuch Dard Hain Jo Lafzon Mein Utaare Nahi Jaate
اندر ایسا حبس تھا، میں نے کھول دیا دروازہ
جس نے دل سے جانا ہے وہ خاموشی سے جائے
کتنی لمبی خاموشی سے گزرا ہوں
ان سے کتنا کچھ کہنے کی کوشش کی
آج کے بعد عشرتِ مجلسِ شامِ غم کہاں!!!!!
دل نہ لگے گا تیرے بعد، پر تیرے بعد ہم کہاں
یہ جبین و چشم و لب تم کو نظر نہ آئیں گے
غور سے دیکھ لو ہمیں، آج کے بعد ہم کہاں..
تیری قربتوں کا نشاط، اپنی جگہ مگر
وہ جو زخم ہِجر کی دین تھا، وہ بَھرا نہیں
کئی حادثے، میرے جسم و جاں پہ گزر گئے
مجھے جانے کس کی تھی بد دُعا، میں مَرا نہیں
کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا
جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں
میرے نزدیک نہ آ ، رشتۂِ تطہیر نہ دیکھ
میں کہ بد شکلِ زمانہ مری تصویر نہ دیکھ
میرے معصوم ! میں بدبختی کا اک ہوں نسخہ
میری تقریر نہ سن تُو مری تحریر نہ دیکھ
آج کے بعد عشرتِ مجلسِ شامِ غم کہاں!!!!!
دل نہ لگے گا تیرے بعد، پر تیرے بعد ہم کہاں
یہ جبین و چشم و لب تم کو نظر نہ آئیں گے
غور سے دیکھ لو ہمیں، آج کے بعد ہم کہاں..
بہتر ہوں میں یہ کہنا تو رسماََ آداب ہے!!
سچ یہ ہے تیرے بعد میری طبیعت خراب ہے!!
تیری تمنا ، تیرا انتظار اور تنہا سا میں
تھک کر مسکرا دیا جب رو نہیں پایا
تیرے عتاب سے کتنی نبھاہ کی ہم نے
نا کوئی اشک بہایا نا آہ کی ہم نے
عدم ہماری جوانی ہماری دولت تھی
بڑی فراخ دلی سے تباہ کی ہم نے...
کوٸی تو رکھے مصیبت میں ہاتھ کاندھے پر
کوئی تو ہو جو مرے ساتھ دیر تک جاگے
بروزِ حشر، سبھی کو پڑی تھی بخشش کی
جو ہم اُٹھے تو تری سمت بے خبر بھاگے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain