ایک خاتون نے اپنی مہران گاڑی ایک دوسری خاتون کی برانڈ نیو ٹیوٹا کرولا میں ٹھوک دی۔ کرولا والی خاتون نے اتر کے مہران والی کو خوب باتیں سنائیں اور کہا کہ اس کے نقصان کا ہرجانہ بھرے۔ مہران والی خاتون نے اپنے شوہر کو فون کیا تو جواب ملا کہ میں بہت مصروف ہوں اسلئے نہیں آسکتا لہٰذا اپنے طور پہ معاملہ طے کرلے اور مطلوبہ رقم دے دلا کے جان چھڑا لے۔ کرولا والی بےبی نے اپنے بوائے فرینڈ کو فون کیا کہ جانو وہ جو کرولا تم نے مجھے برتھ ڈے پہ گفٹ کی تھی وہ ایک مہران والی کمینی نے ٹھوک دی ھے لہٰذا جلدی پہنچو اور نقصان کے پیسے بتاؤ، مجھے بہت صدمہ اور غصہ آرہا ھے۔ تھوڑی دیر میں کرولا والی بے بی کا بوائے فرینڈ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتا ھے اور وہ انسان بدقسمتی سے مہران والی خاتون کا شوہر نکلتا ھے۔ اس کے بعد کیا ہوا.. مُورّخ ابھی تک خاموش ھے۔۔
میں نے ابو جی سے پُوچھا۔۔ ابو جی یہ کُتے رات کو کیوں بُھونکتے ہیں..؟ ابو جی نے سرسری سا مجھے دیکھا اور کہا کُتے جو ہیں رات کو ہی بُھونکیں گے۔۔!! ابو جی جواب دے کر خاموش ہوگئے مگر جو اُنہوں نے کہا تھا وہ میرے سوال کا جواب نہیں تھا۔۔ میں نے پھر پوچھا؛ لیکن رات کو ہی کیوں..؟ ابو جی پھر میری طرف مُتوجہ ہوتے ہوئے بولے؛ "کہ جب جب تم پر رات جیسے کالے حالات آئیں گے کچھ کُتے اُٹھ کر تم پر بُھونکیں گے مگر تم اُن سے گھبرانا نہیں وہ بُھونک کر خُود ہی چُپ ہوجاتے ہیں 🖤🦋
..ہم انسان ہر کسی کے لیے ایک نیا اور الگ زاویہ رکھتے ہیں ہو سکتا ہے کسی کے لیے میں خود پسند اور مغرور ہوں اور کسی اور کے لیے نرم دل اور مہربان ہوں ہم سب کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔🌸🥀
“نظریات کی گہرائی میں اترو، ہر تکنیک میں مہارت حاصل کرو، مگر یاد رکھو! جب تم کسی انسانی روح کو چھوؤ، تو اپنے علم و ہنر کو پیچھے چھوڑ کر صرف ایک سچی، مخلص اور ہمدرد انسانی روح بن جاؤ۔ کیونکہ اصل تبدیلی عقل سے نہیں، دل سے آتی ہے۔” -