کیا بتاؤں تجھے اسباب جئے جانے کے
مجھ کو خود بھی نہیں معلوم کہ کیوں زندہ ہوں
اپنے ہونے کی خبر کس کو سناؤں ساغر
کوئی زندہ ہو تو میں اس سے کہوں زندہ ہوں
ساغر صدیقی
اس کے لفظوں کی کرامات بتاؤں ساحلؔ ؟؟؟
دل پہ لگتے ہیں اور آنکھوں سے نکل آتے ہیں🔥
کس رقص جان و تن میں مرا دل نہیں رہا
گو میں کسی جلوس میں شامل نہیں رہا
ہر چند تیری روح کا محرم رہا ہوں میں
لیکن ترے بدن سے بھی غافل نہیں رہا
تجھ سے کوئی گلہ ہے نہ تیری وفا سے ہے
میں ہی ترے خیال کے قابل نہیں رہا
باہر چہک رہی ہو کہ اندر مہک رہی
دل اب کسی بہار کا قائل نہیں رہا
یارو سفینۂ غم دل کا بنے گا کیا
لگتا ہے اب کہیں کوئی ساحل نہیں رہا
احمد مشتاق
کرنے لگے ہیں جو نظرانداز ان کی خیر
اتنا تو طے ہوا کہ نظر آ رہا ہوں میں !
عمیر نجمی
ہم نے دیا جو گزرے ہوئے حالات کا حوالہ💔💔
اس نے ہنس کر کہا کہ رات گئ بات گئ🔥🔥
*میں چاہوں بھی تو "وہ _______الفاظ نہیں لِکھ پاؤں💕*
*جِس میں بیان ہو جائے________کہ کتنی" محبت" ہے تُم سے💕
آنکھوں میں ترا ہجر بسانے کے نہیں ہیں۔
یہ دن توسنو روٹھ کے جانے کے نہیں ہیں۔
تا عمر گوارا ہیں یہ مخمل سے اندھیرے ۔
آنکھوں سے ترے ہاتھ ہٹانے کے نہیں ہیں ۔
طائف ہو کہ ڈیـــــرہ ہو یا ملتان کہ روہی ۔
ہم خانـــہ بدوش ایک ٹھکانے کے نہیں ہیں۔
کٹ جائیں نہ ان سےکہیں ماوں کے کلیجے
یہ اشک چھپانےہیں،دکھانے کے نـــہیں ہیں ۔
جس دشت میں کھویاتھا کوئ سرخ کـــجاوہ
اس دشت میں ہم لوٹ کےجانے کے نہیں ہیں ۔
یہ شعر ترے غم کی ریاضت سے مـــــلےہیں
یہ شـــعر زمانے کو ســـــنانے کے نہیں ہیں ۔
یہ سچ کہ نبھائ تیـــــری بے دام غـــــلامی۔
سچ یہ بھی کہ اب دام میں آنے کے نہیں ہیں۔
کچھ چوم کے ماتھوں پہ سجانے کو ہیں ایماں
سب داغ تو دامن پہ سجانے کے نہیں ہیں ۔
ایمان قیصرانی
ہم جو خوش تھے اسے قضا کر کے
"رات کاٹی خدا خدا کر کے"
زندگی قہقہہ ہے جس کو فقیر
پھونک دیتے ہیں دل بڑا کر کے
شہر جانے لگا تو امی نے
گھر سے رخصت کیا دعا کر کے
اب کہاں چل پڑی ہو حسن پری
ایک مجمع فدا شدا کر کے
روز آتے ہیں اپنی تربت پر
لوٹ جاتے ہیں اک صدا کر کے
اب ہمیں نام چاہیے عرباض
تھک گٸے عمر بھر وفا کر کے
عرباض عرضی
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے, ہم اپنے کام سے
رئیس فروغ
کبھی بہار ادھر آئی تو ہم بھی پوچھیں گے
نقوش کیسے تھے اس کے؟ لباس کیا کچھ تھا؟
رام ریاض
Meri janu k liy
*_دل ہی تھا نہ_*
*_کہیں اور لگ گیا ہو گا🖤_*
مجھ سے باتیں کر کہ دیکھو
میں باتوں میں آسکتا ہوں
شہزاد قیس کی ایک خوبصورت غزل
دل کے اندر ، جا سکتا ہوں
میں بھی اُس کو پا سکتا
اپنی سانسیں مجھ کو دے دو
میں۔۔ گلشن مہکا سکتا ہوں
بیٹھے بیٹھے ، میں نے سوچا!
میں بھی سوچا جا سکتا ہوں
جنت کے دربان۔۔۔ بتانا
کیا میں باہر جا سکتا ہوں؟
چھُو مت لینا میں سپنا ہوں
میں بس دیکھا جا سکتا ہوں
مجھ سے باتیں کر کے دیکھو
میں ، باتوں میں آسکتا ہوں
.
اتنی بھوک لگی ہے ، مجھ کو
میں دھوکہ بھی کھا سکتاہوں
ندیم قیس
پہلے بنتے ہی موت کا باعث
پھر لوگ برسیاں مناتے ہیں
ذوالقرنین حیدر
بہت ہی مہنگی مجھے اپنی زندگانی پڑی
وہ اس لیے کہ ترے ہجر میں بتانی پڑی
خطوں کو کھولتی دیمک کا شکریہ ورنہ
تڑپ رہی تھی لفافوں میں بے زبانی پڑی
اظہر فراغ
آخری اشعااااااار 🙏
انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے
بے وفا ہونے سے پہلے سوچ لے
بندگی مجھ کو تو راس آ جائے گی
تو خدا ہونے سے پہلے سوچ لے
✍️ Jigar G
تُـو ہمیں وصل سے سرشار کـرے یا نـہ کـرے
ہم ترے ہجر میں رہ کر بھی مہک جاتے ھیں.
بچھڑ جاؤ تو دیواروں سے ٹکریں مار کے روئیں
میسر شخص کی قیمت ٹکے کی بھی نہیں ہوتی
کومل جوئیہ
ھاتھ رکھ دل پہ مِرے اور قسم کھا کے بتا
کیا مِری طرح تُجھے چاھنے والا کوئی ھے ؟
رحمان فارس
یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال
اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
؛ اسرار الحق مجازؔ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain