آ مرے زود فراموش! دکھا دوں تجھ کو. نقش ہیں دل پہ وہ باتیں جو تجھے یاد نہیں. . . مختصر ہے مِری ہستی کی حقیقت یہ جگرؔ. مُجھ میں آباد ہیں سب میں کہیں آباد نہیں
اُن کی صحبت میں گئے.سنبھلے، دوبارہ ٹوٹے. . ہم کسی شخص کو. دے دے کے سہارا ٹوٹے.. ۔ ۔ ۔ یہ عجب رسم ہے .بالکل نہ سمجھ آئی ہمیں.. پیار بھی ہم ہی کریں ، دل بھی ہمارا ٹوٹے
اب کیا خلاصہ بتائیں اپنی حالتِ زار کا تم کو . کہ ہم ایسے ہیں جیسےجلے ہوۓ خط ہوتے ہیں . مجھے یقیں تھا وہ واقف مرے احساس سے ہے . پھر اُس نے بتایا کہ اندازے غلط ہوتے ہیں