کہانی ٹھیک بنتی ہے نظارے ٹھیک مِلتے ہیں عموماً وقت اچھا ہو تو سارے ٹھیک ملتے ہیں . . . ہمیں جو مِلا اپنا وہی ڈسنے مِیں ماہر تھا ناجانے کیسے لوگوں کو سہارے ٹھیک مِلتے ہیں
سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا . دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا . اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا . اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا . میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا . مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا . کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا