Damadam.pk
Kandeel-11's posts | Damadam

Kandeel-11's posts:

Digital Art image
K  🔥 : تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گۓ ٠٠٠ہم اپنے آپ سے بچھڑے سب جہاں سے گۓ - 
Attitude Poetry image
K  : کیسے ممکن تھا تجھے دل سے بھلاۓ جاتے ٠٠٠حق یہی تھا کہ تیرے ناز اٹھاۓ جاتے٠٠٠ - 
Kandeel-11
 

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے

Digital Art image
K  : بس ایک ہی بلا ہے محبت کہیں جسے ٠٠ وہ پانیوں میں آگ لگاتی ہے آج بھی - 
محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے ٠٠٠٠
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا
K  : محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے ٠٠٠٠ کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا - 
Life Advice image
K  🔥 : تجھ کو منظور نہیں تھی جو محبت میری !٠٠٠٠ میرے بڑھتے ہوئی قدموں کو تو روکا - 
Romantic Poetry image
K  : کچھ تو بات ہے فطرت میں تیری ورنہ٠٠٠ ہم تجھ سے گفتگو کی خطا بار بار نہ کرتے - 
ملے جو کوئی ہم سا تو تھام کے رکھنا٠٠٠٠
ہم بھی تو دیکھیں۔۔۔۔۔ مدِ مقابل اپنا
K  : ملے جو کوئی ہم سا تو تھام کے رکھنا٠٠٠٠ ہم بھی تو دیکھیں۔۔۔۔۔ مدِ مقابل اپنا - 
Kandeel-11
 

تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
مجھ سے گریز پا ہے تو ہرراستہ بدل
میں سنگ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں
تو آچکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں
بے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں
اے یارِ خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں
تو لُوٹ کر بھی اہلِ تمناکوخوش نہیں
میں لُٹ کے بھی وفا کے انہیں قافلوں میں ہوں
بدلا نہ میرے بعد بھی موضوعِ گفتگو
میں جاچکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں
مجھ سے بچھڑ کے توبھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں
تو ہنس رہا ہے مجھ پہ مرا حال دیکھ کر
اور پھر بھی میں شریک ترے قہقہوں میں ہوں
خود بھی مثالِ لالۂِ صحرا لہولہو
اور خود فراز اپنے تماشائیوں میں ہوں

Kandeel-11
 

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

وہ چاہے دوستی ہو دشمنی ہو یا محبت ہو٠٠٠
یہاں ہر حال میں اپنی ضرورت یاد رہتی ہے
K  : وہ چاہے دوستی ہو دشمنی ہو یا محبت ہو٠٠٠ یہاں ہر حال میں اپنی ضرورت یاد رہتی - 
Kandeel-11
 

تجھے یقین تو نہیں مگر یہی سچ ہے
٠٠٠میں تیرے واسطے عمریں گزار سکتا ہوں ٠٠٠
یہ
نہیں کہ تجھے جیتنے کی خواہش ہے مجھے ٠٠٠
میں تیرے واسطے خود کو بھی ہار سکتا ہوں

Sad Poetry image
K  🔥 : تجھے یقین تو نہیں مگر یہی سچ ہے ٠٠٠میں تیرے واسطے عمریں گزار سکتا ہوں ٠٠٠یہ - 
رِم جِھم رِم جِھم برس رہی ہے٠٠٠
یاد تمھاری قطرہ قطرہ
K  : رِم جِھم رِم جِھم برس رہی ہے٠٠٠ یاد تمھاری قطرہ قطرہ - 
Kandeel-11
 

بارش کی برستی بوندوں نے
جب دستک دی دروازے پر
محسوس ہوا ۔۔ تم آۓ ہو
انداز تمھارے جیسا تھا
ہوا کے ہلکے جھونکے کی
جب آہٹ پائی کھڑکی پر
محسوس ہوا ۔۔ تم گزرے ہو
احساس تمھارے جیسا تھا
میں نے جو گرتی بوندوں کو
جب روکنا چاہا ہاتھوں پر
اک سرد سا پھر احساس ہوا
وہ لمس تمھارے جیسا تھا
تنہا میں چلا جب بارش میں
تب اک جھونکے نے ساتھ دیا
میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے
وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا
پھر رک سی گئی وہ بارش بھی
باقی نہ رہی اک آہٹ بھی
میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گۓ
انداز تمھارے جیسا تھا

Beautiful People image
K  🔥 : آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت٠٠٠ جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا - 
Kandeel-11
 

تم مری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤ گے
ان کہی بات کو سمجھوگے تو یاد آؤں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحۂ زیست کو پلٹو گے تو یاد آؤں گا
اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
اسی انداز میں ہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آؤں گا
میری خوشبو تمہیں کھولے گی گلابوں کی طرح
تم اگر خود سے نہ بولو گے تو یاد آؤں گا
آج تو محفل یاراں پہ ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھرو گے تو یاد آؤں گا

Kandeel-11
 

یہ جو چہرے سے تمہیں لگتے ہیں بیمار سے ہم
خوب روئے ہیں لپٹ کر در و دیوار سے ہم
یار کی آنکھ میں نفرت نے ہمیں مار دیا
مرنے والے تھے کہاں یار کی تلوار سے ہم
عشق میں حکم عدولی بھی ہمیں آتی ہے
ٹلنے والے تو نہیں ہیں ترے انکار سے ہم
رنج ہر رنگ کے جھولی میں بھرے ہیں ہم نے
جب بھی گزرے ہیں کسی درد کے بازار سے ہم
بادشاہ شاعر و مجنوں سبھی آتے ہیں یہاں
لگ کے بیٹھے ہیں وصیؔ شاہ کے دربار سے ہم

Kandeel-11
 

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ
ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻏﻢ ﻧﮯ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍﺏ ﻧﺎﻡ ﺑﺪﻧﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﺟﻮ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺳﻤﺮ
ﺣﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ

تم نہ ہنستے تو نہ ہنستا یہ زمانہ مجھ پر۔۔۔
حوصلہ تم نے بڑھایا ہے تماشائی کا
K  : تم نہ ہنستے تو نہ ہنستا یہ زمانہ مجھ پر۔۔۔ حوصلہ تم نے بڑھایا ہے تماشائی کا -