مجھے تکلیف کے بعد دی گٸ محبت سے نفرت ہے مجھے دکھ کے بعد دی گٸی خوشی سے نفرت ہے مجھے نظرانداز کرنے کے بعد دی گٸی توجہ سے نفرت ہے مجھے میری خوشیاں چھین کر سوری کہنے والے سے نفرت ہے کیونکہ میں کوٸی بھی بات بُھلا نہیں پاتی
مجھے لوگوں نے اپنے رویوں سے سمجھایا وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، چاہتوں میں شدت عمر بھر نہیں رہتی کسی کے لئے ہم عمر بھر تجسس کا پہلو بن کر نہیں رہتے، کوئی ہر وقت ہمارے لئے منتظر نہیں رہتا کسی کے دل میں ساری عمر ہمارا وہی مقام نہیں رہتا، ہم تاعمر اہم نہیں رہتے وقت بدل جاتا ہے لوگ بدل جاتے ہیں .ہاں لوگوں نے مجھے سمجھایا