سنتا نہیں کوئی یہاں فریاد ہماری اتی نہیں کسی کو کبھی یاد ہماری محبت کے دوستی کے فریب میں لے کے سب نے ہی کی ہے زندگی برباد ہماری پہلے یہ چاہتے تھے کہ اپنا کوئی ملے پر اب اس بات سے سوچ ہے ازاد ہماری جس جس نے سنی تنہا اس نے سبق لیا ہے کہو تو تمہیں بھی سنا دے ہم روداد ہماری
*میں نے محسوس کیا ہے کہ میں ایک بیکار شخصیت ہوں مجھ میں کچھ کام بھی ڈھنگ کا نہیں ہے نا ہی مجھے کسی کا دل جتنا آتا ہے اور نا ہی کسی سے تعلق نبھانا آتا ہے مجھ میں کچھ بھی خاص نہیں ہے میں عام سے بھی عام ہوں میری ضرورت کسی کو بھی نہیں نا ہی میں کسی کہانی کا اہم کردار ہوں میں نے دیکھا ہے کہ میرے بغیر بھی سب مکمل ہے اور شاید بہترین بھی*💔🔥🙂🥀