Damadam.pk
Lofarr's posts | Damadam

Lofarr's posts:

Lofarr
 

شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر

Lofarr
 

دھرم کی بانسری سے راگ نکلے
وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے
رکھو دیر و حرم کو اب مقفّل
کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے
وہ گنگا جل ہو یا آبِ زمزم
یہ وہ پانی ہیں جن سے آگ نکلے
خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے
ہے آخر آدمیت بھی کوئی شے
ترے دربان تو بُل ڈاگ نکلے
یہ کیا انداز ہے اے نکتہ چینو
کوئی تنقید تو بے لاگ نکلے
پلایا تھا ہمیں امرت کسی نے
مگر منہ سے لہو کے جھاگ نکلے

Lofarr
 

میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
تم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دیں
کر لیا تھا میں نے عہد ترک عشق
تم نے پھر بانہیں گلے میں ڈال دیں

Lofarr
 

ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں
ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں
کیا تکلف کریں، یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
ہے اُسے دُور کا سفر درپیش
ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں
میں اسی طرح تو بہلتا ہوں
اور سب جس طرح بہلتے ہیں
ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں

Lofarr
 

دل میں کم کم ملال تو رکھیے
نسبتِ ماہ و سال تو رکھیے
آپ کو اپنی تمکنت کی قسم
کچھ لحاظِ جمال تو رکھیے
صبر تو آنے دیجیے دل کو
اپنا پانا محال تو رکھیے
رہے جاناں کی یاد تو دل میں
دشت میں اِک غزال تو رکھیے
آپ اپنی گلی کے سائل کو
کم سے کم پر سوال تو رکھیے

Lofarr
 

وہ درویشی جو تج کر آ گیا تو
یہ دولت اس کی قیمت ہے؟ نہیں تو
ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری
تجھے اس پر ندامت ہے؟ نہیں تو
ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا
یہی ساری حکایت ہے ؟ نہیں تو
اذیت ناک امیدوں سے تجھ کو
اماں پانے کی حسرت ہے ؟ نہیں تو
تو رہتا ہے خیال و خواب میں گم
تو اس کی وجہ فرصت ہے ؟ نہیں تو
وہاں والوں سے ہے اتنی محبت
یہاں والوں سے نفرت ہے؟ نہیں تو
سبب جو اس جدائی کا بنا ہے
وہ مجھ سے خوبصورت ہے؟ نہیں تو

Lofarr
 

یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو
ہے وہ اک خوابِ بے تعبیر اس کو
بھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو
کسی کے بن ،کسی کی یاد کے بن
جیئے جانے کی ہمت ہے؟ نہیں تو
کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ؟ ہاں
تو کچھ دن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو
ترے اس حال پر ہے سب کو حیرت
تجھے بھی اس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو

Lofarr
 

اک گلی تھی جب اُس سے ہم نکلے
ایسے نکلے کہ جیسے دم نکلے
جن سے دل کا معاملہ ہوتا
یاں بہت کم ہی ایسے غم نکلے
جو پھرے در بدر یہاں، وہ لوگ
اپنے باہر بہت ہی کم نکلے
آگ دل شہر میں لگی جس دن
سب سے آخر میں واں سے ہم نکلے
جون یہ جو وجود ہے یہ وجود
کیا بنے گی اگر عدم نکلے
کوچہء آرزو جو تھا اُس میں
زلفِ جاناں طرح کے خم نکلے

Lofarr
 

تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں
جو کوئی کام نہ ہو بس وہ کرنے لگتے ہیں
تمہارے آئینۂ ذات کے تصور میں
ہم اپنے آئینے آگے سنورنے لگتے ہیں
تمہارے کوچۂ جاں بخش کے قلندر بھی
عجیب لوگ ہیں ہر لمحہ مرنے لگتے ہیں
ہم اپنی حالتِ بے حالتی اذیت میں
نہ جانے کس کو کسے یاد کرنے لگتے ہیں
بہت اُداس ہوں میں غم سدا نہیں رہتا
بہت اداس ہوں میں زخم بھرنے لگتے ہیں
انہیں میں تیری تمنا کا فن سکھاتا ہوں
جو لوگ تیری تمنا سے ڈرنے لگتے ہیں
یہاں میں ذکر نہیں کر رہا مکینوں کا
کبھی کبھی در و دیوار مرنے لگتے ہیں

Lofarr
 

کتنے عیش اُڑاتے ہوں گے، کتنے اِتراتے ہونگے
جانے کیسے لوگ وہ ہونگے جو اُس کو بھاتے ہونگے
شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہونگے
اُس کی یاد کی بادِ صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
وہ جو نہ آنے والا ہے نا، اُس سے ہم کو مطلب تھا
آنے والوں سے کیا مطلب، آتے ہیں آتے ہونگے
یارو! کچھ تو حال سناؤ اُس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے اُس میں وہ تو مر جاتے ہونگے
بند رہے جن کا دروازہ ایسے گھروں کی مت پوچھو
دیواریں گر جاتی ہوں گی، آنگن رہ جاتے ہوں گے
میرے سانس اُکھڑتے ہی سب بین کریں گے رؤئیں گے
یعنی میرے بعد بھی یعنی، سانس لیے جاتے ہوں گے

Lofarr
 

اب تو جس طور بھی گزر جائے
کوئی اسرار زندگی سے نہیں
اس کے غم میں کیا سبھی کو معاف
کوئی شکوہ بھی اب کسی سے نہیں

Lofarr
 

ہے ضرورت بہت توجہ کی
یاد آؤ تو کم نہ یاد آؤ
چاہیے مجھ کو جان و دل کا سکوں
میرے حق میں عذاب بن جاؤ

Lofarr
 

حالت یہ ہے کہ گردشِ حالات کے سبب
دل بھی میرا تباہ ہے، ہمت بھی پست ہے
تم سوچتی بہت ہو تو پھر یہ بھی سوچنا
میری شکست اصل میں کس کی شکست ہے!

Lofarr
 

تِرے خواب بھی ہُوں گنوارہا ، ترے رنگ بھی ہیں بکھررہے
یہی روز و شب ہیں تو جانِ جاں یہ وظیفہ خوار تو مررہے
وہی روزگار کی محنتیں کہ نہیں ہے فرصتِ یک نَفَس
یہی دن تھے کام کے اور ہم کوئی کام بھی نہیں کررہے
ہمیں شکوا تیری ادا سے ہے تری چشمِ حال فزا سے ہے
کہ دریچہ آگے بھی ہم ترے یونہی بے نشاطِ ہُنر رہے
مرا دل ہے خوں کہ ہوا یہ کیا ترے شہرِ ماجرا خیز کو
نہ وہ ہوش ہے نہ خروش ہے ، نہ وہ سنگ ہیں نہ وہ سر رہے
ہے مقابلے کی حریف کو بہت آرزو مگر اس طرح
کہ ہمارے ہاتھ میں دَم کو بھی کوئی تیغ ہو ، نہ سپر رہے
ّعجیب ایک ہم نے ہُنر کیا ، وہ ہُنر بطورِ دِگر کیا
کہ سفر تھا دُور و دراز کا ، سو ہم آکے خود میں ٹھر رہے
یہاں رات دن کا جو رن پڑا تو گلہ یہ ہے کہ یہی ہوا
رہے شہر میں وہی معتبر جو اِدھر رہے نہ اُدھر رہے

Lofarr
 

ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں
اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں
دلِ برباد یہ خیال رہے
اُس نے گیسو نہیں سنوارے ہیں
ان رفیقوں سے شرم آتی ہے
جو مرا ساتھ دے کے ہارے ہیں
اور تو ہم نے کیا کِیا اب تک
یہ کیا ہے کہ دن گزارے ہیں
اس گلی سے جو ہو کے آئے ہوں
اب تو وہ راہرو بھی پیارے ہیں
جوؔن ہم زندگی کی راہوں میں
اپنی تنہا روی کے مارے ہیں

Lofarr
 

دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ

Lofarr
 

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

Lofarr
 

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

Lofarr
 

درد و تنہائی میں شب وروز گزر جاتے ہیں
بس اس حال میں جیتے اور مر جاتے ہیں

Lofarr
 

کیوں درد دل ہے جھلک رہا
کیوں ازیتیں ہیں بھری بھری