شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر اب کے سینہ اس بدن افگار کا کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام کون پُر احوال ہے پوچھو خبر راہ میں اس شہسوار ناز کی کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
دھرم کی بانسری سے راگ نکلے وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے رکھو دیر و حرم کو اب مقفّل کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے وہ گنگا جل ہو یا آبِ زمزم یہ وہ پانی ہیں جن سے آگ نکلے خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے ہے آخر آدمیت بھی کوئی شے ترے دربان تو بُل ڈاگ نکلے یہ کیا انداز ہے اے نکتہ چینو کوئی تنقید تو بے لاگ نکلے پلایا تھا ہمیں امرت کسی نے مگر منہ سے لہو کے جھاگ نکلے
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشورت کا چلتے ہیں اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں، یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں ہے اُسے دُور کا سفر درپیش ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں میں اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب جس طرح بہلتے ہیں ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں
دل میں کم کم ملال تو رکھیے نسبتِ ماہ و سال تو رکھیے آپ کو اپنی تمکنت کی قسم کچھ لحاظِ جمال تو رکھیے صبر تو آنے دیجیے دل کو اپنا پانا محال تو رکھیے رہے جاناں کی یاد تو دل میں دشت میں اِک غزال تو رکھیے آپ اپنی گلی کے سائل کو کم سے کم پر سوال تو رکھیے
وہ درویشی جو تج کر آ گیا تو یہ دولت اس کی قیمت ہے؟ نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے اس پر ندامت ہے؟ نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری حکایت ہے ؟ نہیں تو اذیت ناک امیدوں سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے ؟ نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب میں گم تو اس کی وجہ فرصت ہے ؟ نہیں تو وہاں والوں سے ہے اتنی محبت یہاں والوں سے نفرت ہے؟ نہیں تو سبب جو اس جدائی کا بنا ہے وہ مجھ سے خوبصورت ہے؟ نہیں تو
یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو ہے وہ اک خوابِ بے تعبیر اس کو بھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو کسی کے بن ،کسی کی یاد کے بن جیئے جانے کی ہمت ہے؟ نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ؟ ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو ترے اس حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی اس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو
اک گلی تھی جب اُس سے ہم نکلے ایسے نکلے کہ جیسے دم نکلے جن سے دل کا معاملہ ہوتا یاں بہت کم ہی ایسے غم نکلے جو پھرے در بدر یہاں، وہ لوگ اپنے باہر بہت ہی کم نکلے آگ دل شہر میں لگی جس دن سب سے آخر میں واں سے ہم نکلے جون یہ جو وجود ہے یہ وجود کیا بنے گی اگر عدم نکلے کوچہء آرزو جو تھا اُس میں زلفِ جاناں طرح کے خم نکلے
تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں جو کوئی کام نہ ہو بس وہ کرنے لگتے ہیں تمہارے آئینۂ ذات کے تصور میں ہم اپنے آئینے آگے سنورنے لگتے ہیں تمہارے کوچۂ جاں بخش کے قلندر بھی عجیب لوگ ہیں ہر لمحہ مرنے لگتے ہیں ہم اپنی حالتِ بے حالتی اذیت میں نہ جانے کس کو کسے یاد کرنے لگتے ہیں بہت اُداس ہوں میں غم سدا نہیں رہتا بہت اداس ہوں میں زخم بھرنے لگتے ہیں انہیں میں تیری تمنا کا فن سکھاتا ہوں جو لوگ تیری تمنا سے ڈرنے لگتے ہیں یہاں میں ذکر نہیں کر رہا مکینوں کا کبھی کبھی در و دیوار مرنے لگتے ہیں
کتنے عیش اُڑاتے ہوں گے، کتنے اِتراتے ہونگے جانے کیسے لوگ وہ ہونگے جو اُس کو بھاتے ہونگے شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہونگے اُس کی یاد کی بادِ صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے وہ جو نہ آنے والا ہے نا، اُس سے ہم کو مطلب تھا آنے والوں سے کیا مطلب، آتے ہیں آتے ہونگے یارو! کچھ تو حال سناؤ اُس کی قیامت بانہوں کا وہ جو سمٹتے ہوں گے اُس میں وہ تو مر جاتے ہونگے بند رہے جن کا دروازہ ایسے گھروں کی مت پوچھو دیواریں گر جاتی ہوں گی، آنگن رہ جاتے ہوں گے میرے سانس اُکھڑتے ہی سب بین کریں گے رؤئیں گے یعنی میرے بعد بھی یعنی، سانس لیے جاتے ہوں گے
تِرے خواب بھی ہُوں گنوارہا ، ترے رنگ بھی ہیں بکھررہے یہی روز و شب ہیں تو جانِ جاں یہ وظیفہ خوار تو مررہے وہی روزگار کی محنتیں کہ نہیں ہے فرصتِ یک نَفَس یہی دن تھے کام کے اور ہم کوئی کام بھی نہیں کررہے ہمیں شکوا تیری ادا سے ہے تری چشمِ حال فزا سے ہے کہ دریچہ آگے بھی ہم ترے یونہی بے نشاطِ ہُنر رہے مرا دل ہے خوں کہ ہوا یہ کیا ترے شہرِ ماجرا خیز کو نہ وہ ہوش ہے نہ خروش ہے ، نہ وہ سنگ ہیں نہ وہ سر رہے ہے مقابلے کی حریف کو بہت آرزو مگر اس طرح کہ ہمارے ہاتھ میں دَم کو بھی کوئی تیغ ہو ، نہ سپر رہے ّعجیب ایک ہم نے ہُنر کیا ، وہ ہُنر بطورِ دِگر کیا کہ سفر تھا دُور و دراز کا ، سو ہم آکے خود میں ٹھر رہے یہاں رات دن کا جو رن پڑا تو گلہ یہ ہے کہ یہی ہوا رہے شہر میں وہی معتبر جو اِدھر رہے نہ اُدھر رہے
ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں دلِ برباد یہ خیال رہے اُس نے گیسو نہیں سنوارے ہیں ان رفیقوں سے شرم آتی ہے جو مرا ساتھ دے کے ہارے ہیں اور تو ہم نے کیا کِیا اب تک یہ کیا ہے کہ دن گزارے ہیں اس گلی سے جو ہو کے آئے ہوں اب تو وہ راہرو بھی پیارے ہیں جوؔن ہم زندگی کی راہوں میں اپنی تنہا روی کے مارے ہیں