ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو چلی سونے اپنے اوپر بلینکٹ لے کر آنکھیں بند کر لیں اور جلد ہی اپنی خوابوں کی دنیا میں گم ہو گئ
رات کے دو بج رہے تھے اور نورالعین گہری نیند میں حال سے بیگانہ سو رہی تھی جب اسکے روم کا دروازہ کھلا اور کوئ چل کر بیڈ کے پاس آیا دروازہ وہ پہلے ہی لاکڈ کر چکا تھا بیڈ پہ نور دنیا سے بیگانی محو خواب تھی اس نے اسکے چہرے سے بلینکٹ ہٹایا تو نظریں وہی ساکت ہو گئیں دائیں طرف کھلی کھڑکی میں سے آتی چاند کی روشنی میں نور کا چہرہ حسیں سے حسیں تر لگ رہا تھا اسکی لمبی مڑی ہوئ گھنی پلکوں کا اپنے ہی چہرے پہ سایہ تھا جو نہایت دلکش لگ رہا تھا
سالار اس منظر میں گم ہی ہو گیا
آہستہ سے وہ نور کے سرہانے ٹک گیا اور ٹکٹکی باندھ کے نور کے چہرے کو اپنے دل میں سمونے لگا
بس بہت ہوگیا میں جارہا ہوں۔۔۔۔جب سے دیکھو مجھ پہ ہنستے ہی جا رہے ہو جب مجھ سے کام پڑے گا نہ میں بھی ایسے ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔کروں گا دیکھ لینا وعدہ ہے میرا تم سب سے قسم سے یہ کہ کر وہ فور"ا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
کردیا نہ میرے بھائ کو ناراض اب میں بھی آپ دونوں سے ناراض ہوں اور اب مجھے سونا ہے نورالعین نے نروٹھے انداز میں رباب اور مشاء سے کہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آپی بے بی نے فیڈر پی لیا ہے۔۔۔اب بے بی کو نی نی آ رہی ہے۔۔۔۔بائے بےبی اچھے سے نی نی کرنا۔۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہے گڈ نائیٹ مشاء نے بھی رباب کی تقلید کرتے ہوئے اپنا فرض نبھایااور دونوں بھاگ کے نور کے کمرے سے نکل گئیں جبکہ نور تو دروازے کو ہی گھورے گئی جیسے ان دونوں کو گھور رہی ہو
اچھا بس۔۔۔۔۔اب کوئ میلے پیالے بھائ کو تنگ نہ کرے نور نے دلارے انداز میں اپنے پیارے اور لاڈلے بھائ کی ہمیشہ کی طرح سائڈ لی
بس بس دیکھ لیا تمہارے پیارے بھائ کے لئے تمہارا پیار پہلے میری ان دونوں کے ساتھ مل کر ٹانگیں کھینچتی ہو پھر ہمیشہ کی طرح اینڈ میں پیارا بھائ یاد آجاتا ہے برہان نے خشمگیں نظروں سے نور کو دیکھا
ہاہاہا۔۔۔۔۔ویسے کیا سین تھا جج۔۔۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔۔سر۔۔۔ہاہا۔۔۔۔۔
یہ مشاء تھی جو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی اور اسکا ساتھ رباب زور و شور سے نبھا رہی تھی یہ چاروں ہمیشہ کی طرح بیٹھ کر کافی دیر سے باتوں میں مگن تھے اور ان کا موضوع خاص برہان کی آج کی کلاس تھی وہ بھی سالار شجاعت کے ہاتھوں
نہیں کچھ نہیں چلو ناشتہ کرتے ہیں
ہاں چلو یار مجھے تو بہت بھوگ لگ رہی ہے۔۔
__________________
ہو۔۔۔۔۔ہو ہو ہو۔۔۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب تک ہے جاں جان جہاں میں بانٹوگی۔۔۔۔میں بانٹوگی۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں میں بانٹوگی اس وقت رات کے ۹بج رہے تھے برہان،رباب اور مشاء نورالعین کے کمرے میں بیٹھ کر اظہار افسوس کر رہے تھے مگر رباب میڈم کا تو الگ ہی اسٹائل تھا افسوس کرنے کا اسی لئے وہ گا نے کی ٹانگیں بہت اچھے سے توڑ رہی تھی۔۔
کیا بانٹوگی۔۔۔؟؟؟
برہان نے حیران سے پوچھا
ارے وہی یار جو آجکل تم پہ کچھ زیادہ ہی چڑھا ہوا ہے ۔۔۔۔
کیا چڑھا ہوا ہے؟؟؟؟
۔۔۔۔غم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تینوں لڑکیوں نے ایک ساتھ کہ کر قہقہے لگائے۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
جبکہ برہان ناراض نظروں سے تینوں کو گھور رہا تھا
وہ جو ہٹلر کے آرڈر کو ہونق زدہ انداز میں منہ کھولے سن رہا تھا ایکدم بولا جی۔۔۔۔۔۔جی سر۔۔۔۔
واٹ۔۔۔؟؟؟؟
جلدی جلدی میں اسکے منہ سے سر نکل گیا
و۔۔۔وہ ۔۔۔بھائ ۔۔۔۔مطلب جی بلکل انڈرسٹینڈ بھائ۔۔۔۔!
سالار اپنے پورشن کی طرف بڑھ گیا
جبکہ اظفر تو کب کا موقع پاکر غائب ہو چکا تھا
اور اب برہان صاحب دکھی آتمہ کا صحیح صحیح رول نبھا رہا تھا
پیچھے سیڑھیوں پہ کھڑی نور نے یہ سب ناگوار اور بےزار بھری نظروں سے دیکھا نہ جانے خود کو کیا سمجھتے ہیں
نور ۔۔۔
ہہںاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔
نور جو خود سے ہی باتوں میں مگن تھی رباب کے اچانک بلا نے پر ہڑبڑا گئ
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟
چل ہو گئ بونی تیری برہان صبح ہی صبح۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اوپر " سالار شجاعت" کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔سٹینڈ اپ۔۔۔۔۔
آواز خاصی اونچی تھی
فور"ا ہی برہان ایسے ہی کھڑا ہوا جیسے ایک فوجی کھڑا ہو۔۔۔۔
کیا ہو رہا تھا یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس بار آواز پہلے سے بھی اونچی تھی
وہ بھائ۔۔۔۔
واٹ بھائ ۔۔۔
ہاں واٹ بھائ۔۔۔
کب بڑے ہوگے تم۔۔۔؟؟؟
تمہارے اندر اتنی بھی سینس نہیں ہے کہ how to behave۔۔۔!
سوری۔۔۔
واٹ سوری۔۔۔۔۔۔تمہاری دو مہینے کی پاکٹ منی بند۔۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔؟
ہاں تو چلو دیر تو تم ہی کر رہی ہو اپنی مردہ ایکٹنگ دکھا دکھا کر جلدی جلدی شریر انداز میں کہہ کر نور جھپاک سے باہر نکل گئ اور رباب تو کھڑی اسکی خالی جگہ کو ہی دیکھ رہی تھی پھر ایکدم صدمے بھری آواز میں بولی
۔۔۔۔مردہ ایکٹنگ۔۔۔۔۔۔۔
نوررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور یہ گئ نور کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
برہان جو کہ پیچھے دیکھ کر بھاگ رہا تھا اچانک کسی سخت چٹان جیسی چیز سے ٹکرا کر زمین بوس ہوگیا اور سامنے دیکھ کر تو سکتہ ہی طاری ہو گیا
نورالعین نے اسی کے انداز میں اسکی کھلی اڑائ۔۔۔۔۔
تھی تو نور رباب سے چھوٹی مگر دونوں میں پیار اسقدر گہرا تھا کہ لگتا تھا کہ دونوں ٹوئنس ہوں کچھ اثر رباب کے دبلا پتلا ہو نے کا بھی تھا مگر تھی وہ بھی بہت پیاری۔۔
چونکہ اماں جان نے آپکو عشائیہ میں طلب فرمایا ہے نورالعین شہزادی صاحبہ۔۔رباب نے خاصے مخلیانہ انداز میں اپنی ایکٹنگ جھاڑی
افف۔۔۔۔۔۔رباب عشائیہ رات کا ہوتا ہے ابھی تو بریک فاسٹ ہے نور نے اسکے الفاظ کی تصحیح کی
جی جی correcty صاحبہ اب چلییں نہیں تو میری اور آپ ہم دونوں کی اماں جاناوں نے آجانا ہے رباب نے کھسیانہ لہجے میں کہا
رباب مصنوعی شرماہٹ سے گل افشانی کر ہی رہی تھی کہ نور نے اسے زور سے دو ہتھڑ مارے
بس کردو رباب بہت ہوگئ تمہاری شرمیلی نوٹنکی ۔۔حد ہوتی ہے
تمہیں تو چانس مل جائے اپنی ایکٹنگ کے جوہر دکھانے کا
نورالعین نے اپنی پیاری اور میٹھی آواز کو غصے کا رنگ دے کر اسکے لتے لئے
ائےےےے۔۔۔۔۔۔ڈونٹ انڈرایسٹیمیٹ دی پاور آف رباب اکبر مرزا کی
شاندار ایکٹنگ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی سٹائلش نظر کی عینک کو ناک سے اوپر کیا
واہ کیا انداز تھا(رباب کے خیال میں)
اچھا بس بس صبح ہی صبح نہ دماغ چاٹو میرا کام بتاو کام کیوں اتنی صبح صبح آپ نےاپنی تشریف آوری فرما کر ہم پر اپنا احسان فرما یا ہے
#ضدی_جنون
نینا_خان
قسط 2
ہاؤوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔۔۔
رباب کی بچی۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین ہلکے سبز رنگ کے ریشمی سادہ شلوار قمیض اور اسی رنگ کا دوپٹہ اچھی طرح کندھوں پر پھیلائے ڈارک رنگ کے حجاب میں کھڑی شیشے میں خود کو ایک نظر دیکھ رہی تھی کہ رباب نے ایکدم پیچھے سے آکر ڈرا دیا نورالعین کی تو مانو جان ہی نکل گئی ،وہ تھی ہی ایسی سہمی سہمی سی نازک ڈرپوک گڑیا جیسی۔۔۔۔!
اوئ اللہ کیا کہہ رہی ہے نور۔۔۔ابھی تو میلی شادی بھی نہیں ہوئ اور تم۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ اوئ ماں مر گئ۔۔۔
تو رک برہان تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں اظفر برہان کو پکڑ نے کے لئے اٹھا جبکہ برہان تو نیچے بھاگ چکا تھا
نیچے ڈائننگ ہال سے منسلک کچن میں تمام خواتین ناشتہ بنا رہی تھیں اور ان دونوں کو ایک نظر دیکھ کر پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئں
ارے رک جاو برہان۔۔۔۔حورم بیگم نے کام میں مصروف ہوتے ہوئے برہان سے کہا
ارے چاچی میں تو رک جاوں پہلے اس چپڑ گلے کو تو کسی طرح رکوائیں۔۔۔۔۔۔۔برہان نے اظفر سے بچتے ہوئے کہا
اظفر کے ہاتھ میں وہی برش تھا کہ اب بدلہ تو لے کر ہی رہنا ہے
کیا اااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
کیا کہا تونے؟؟؟؟؟
رک تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں۔۔
بچاؤ۔۔۔۔مج۔۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
تجھے جیلسی فیل ہو رہی ہے نہ کہ شکیرہ بےبی نے تجھے جو شرف نہیں بخشا اپنی ہوائ کالر کھڑے کرتے ہوئے اظفر نے غرورانہ انداز میں کہا
اچھا اااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تجھے پھر سے شکیرہ کا شرف حاصل کر نا ہے اظفر رررر۔۔۔۔۔۔۔
نہایت ہی پیار سے پوچھا گیا
کیا مطلب۔۔۔۔۔اظفر الجھا
مطلب یہ۔۔۔۔۔برہان نے اپنی کمر کے پیچھے سے برش نکالا اور پھر سے اس کی گردن پر پھیرنے لگا اس طرح اسے پھر سے گد گدی ہوئ اور وہ ہنسنے لگا اور پھر جب برہان دی گریٹ کا کارنامہ سمجھ آیا تو
امی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمینے انسان تونے مجھے گنے برش سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک۔۔۔ ای ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔یو۔۔۔۔۔۔
اوئے تو کیوں منہ پھاڑ پھاڑ کے ڈنٹونک کا اشتہار بن رہا ہے اظفر نے اپنے دیدے پھاڑ کے برہان کو گھور کے دیکھا جس کا خوبصورت چہرہ ہنس ہنس کے لال و لال ہو چکا تھا
شش۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔شکیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا تو شکیرہ کو خواب میں دیکھ رہا تھا بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو قابو کرتے ہوئے برہان نے اس سے پوچھا جبکہ اظفر یہ سن کر تو ایسا شرما یا کہ مانو اسکے سامنے برہان نہیں بقلم خود شکیرہ بےبی کھڑی ہوں۔۔۔۔
اور یہ دیکھ کر تو برہان کے پھر سے قہقہے ابل پڑے ہاہاہا۔۔۔۔۔
اظفر حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا پھر بولا
ہاں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف مانو بلہ اپنی خوبصورت نازک سی گردن (بقول اظفر کے)پر کسی حسین لڑکی کے بال محسوس کر رہا تھا اور اپنی مسکراہٹ پر احسان کرتے ہوئے اسے اور پھیلا رہا تھ
ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔۔۔۔امم۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے جان اظفر یہ کیا کر رہی ہو رہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔اوئے اللہ نہ کرو نہ شکیرہ جان گد گدی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔بڑھی مشکل سے مانو بلہ نیند میں بول رہا تھا جبکہ. برہان کا تو اپنے آخری بوائلنگ پوائنٹ پر ابلتے ہوئے قہقہے روکنے ناکام لگ رہے تھے
شکیرہ بےبی۔۔۔۔۔۔۔ہائے جانو اپنی بےبی کی جان لوگی کیا
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بس پھر کیا تھا برہان کا ضبط جواب دے گیا اور یہ پھٹا ڈھول (بقول اظفر کے) اور یہ پھرا پانی مانو بلے کے حسین خواب پہ۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان سیدھا باتھروم میں گیا اور ڈرار میں سے کبوٹ برش اٹھایا اور واپس روم میں آیا اپنے شکار پر نظر جمائے بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں مانو بلہ محو استراحت تھا جس کہ خوبصورت سے مگر بڑے من پر شرما دینے والی ہلکی سی مسکان سجی تھی
ایک شیطانی مسکراہٹ برہان کے چہرے پہ بھی پھیلی ہوئ تھی
اظفر کے پاس پہنچ کر برہان نے برش اٹھایا اور اسکی گردن پر آہستہ آہستہ پھیرنے لگا دوسرا ہاتھ اس نے اپنے منہ پر رکھا تھا اپنی ہنسی کو روکنے کے لئے
اظفر کا پسندیدہ مشغلہ کھانا کھانا کھانا اور صرف کھانا ہی تھا اسکا ماننا تھا کہ اللہ تعالہ نے پیدا ہی کھانے کی ریسرچ کے لئے کیا ہے تاکہ ہم مختلف مزے مزے کے بہت سارے کھانوں پر ریسرچ کر کے رپورٹ پیش کریں کہ جنت کہ مینیو میں کون کون سے کھانے ایڈ کر نے چاہیے
ایسی شاندار منطقیں مانو بلہ ہی ایجاد کر سکتا ہے یہ برہان کا ماننا تھا۔۔۔۔
اس محل کا ایک پورشن ان کے لئے مختص کیا گیا تھا
چونکہ آج اتوار تھا اس لئے سب سو رہے تھے
برہان دی گریٹ دبے پاؤں اپنے بستر سے اٹھا کہ اظفر جاگ نہ جائے یہ انکا مشترکہ کمرہ تھا
سالار گھر میں کم کم ہی پایا جاتا تھا زیادہ تر بزنس میٹنگ کے سلسلے میں بیرون ملک ہی رہتا تھا ابھی بھی اسی کام کے لئے گھر میں موجود نہیں تھا
بلکہ دفعان ہوا تھا بقول برہان کے اسی لئے خواب جہاں میں گونا سکون ہی سکون تھا اور اس وقت بادشاہ برہان صدیق دی گریٹ کا راج تھا اور اپنی شرارتوں اور شیطانیوں سے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا اس وقت بھی وہ اپنے خالہ کے بیٹے مانو بلے اظفر کے ناک و چنے چبوا رہا تھا اظفر برہان کے بچپن کا گہرا دوست تھا جو کہ پڑھائ کے سلسلے میں ملتان سے اسلام آباد ان کے محل میں تھا
برہان اسے مانو بلے کے نام سے پکارتا تھا وہ تھا ہی بلے جیسا موٹا سا۔۔۔۔
شجاعت اسکے دادا کا نام تھا سالار اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ شجاعت ہی لگاتا تھا کیونکہ اسے اپنے باپ محمود شجاعت سے بے حد نفرت تھی کیونکہ انہوں نے ایسی عورت سے شادی کی تھی جو ماں کہلانے کے قابل ہی نہ تھی ایسا سالار شجاعت کا ماننا تھا ایسا کیوں تھا اس کی وجہ کسی کو معلوم نہ تھی سوائے مرزا سکندر اور خود سالار شجاعت کے۔۔۔۔۔۔
کہنے کو تو سالار مرزا سکندر کے چھوٹے بھائ کا پوتا تھا مگر انہوں نے اسے اپنا سگا پوتا مانا تھا جس وجہ سے اسے سپیشل ویلیوز بھی دیتے تھے جو کہ گھر کی ینگ پارٹی کو زرا ہضم نہ ہوتا تھا
برہان تو کچھ زیادہ ہی خار کھاتا تھا ویسے تو برہان شوخ و چنچل لڑکا تھا مگر وہ ہٹلر سے بہت چڑتا تھا کیونکہ اسکے زیادہ تر عتاب کا شکار بھی وہی بنتا تھا
اس محل میں بسنے والوں میں ایک فرد اور بھی تھا اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس محل کا حقیقی بادشاہ تھا تو زیادہ بہتر ہوگا
سب ینگ پارٹی پر اس کا دبدبہ تھا ایک رعب اور خوف قائم کر رکھا تھا ان سب پر۔۔۔۔۔۔۔
برہان نے اس کا نام ہٹلر تجویز کیا تھا اور پھر خود ہی کہتا تھا کہ یہ تو ہٹلر سے کہیں آگے کی چیز ہے
دادا کا چہیتا، انکا لاڈلا، ان کی جان تھا وہ۔۔۔۔۔
ان سب سے بڑا پینتیس سالہ حسین و جمیل وجاہت سے بھرپور شہزادوں سی آن بان رکںھنے والا" سالار شجاعت"۔۔۔۔۔۔
گھٹنوں تک آتے کالے سیاہ ریشمی خوبصورت بال جن کو نور حجاب میں چھپا کر رکھتی تھی، سفید دودھ جیسی گلابی رنگت، مناسب قد و قامت، چھوٹی سی صاف پیشانی، بڑی بڑی سبز کانچ سی روشن آنکھیں جو کبھی گھنی اور لمبی سیاہ پلکوں کی اوٹ میں چھپ سی جاتی تھیں،پھولے پھولے کسی چھوٹے بچے کی مانند گلابی گال جسے دیکھ کر کھینچنے کا من کرے ،چھوٹے سے نرم و نازک بھرے بھرے خوبصورت کٹاؤ کے حامل لب اور ان کے نیچے بلکل ساتھ کالا تل جو کہ شائد قدرت نے اسکی نظر اتارنے کے لئے بنا یا تھا مگر یہ تو سونے پہ سہاگہ کا کام کرتا تھا
نور نماز کی پابند تھی اور صبح صبح قرآن پاک کی تلاوت اپنی میٹھی سی آواز میں روز کرتی تھی
نور کالج میں بارہویں جماعت میں پڑھتی تھی
نور کو کوکنگ کا بہت شوق تھا مگر سب اسے کچن میں گھسنے تک نہ دیتے تھے کہ کہیں اپنا ہاتھ ہی نہ جلا بیٹھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain