برہان نے جیسے ہی جیب میں ہاتھ ڈالا تو خالی جیب اسکا منہ چڑا رہی تھی
اسے رباب کی ساری کارستانی اب سمجھ آرہی تھی
تمہیں میں چھوڑو گا نہیں ربان۔دانت چبا چبا کر سوچا
دراصل یہاں آتے وقت برہان نے رباب سے سارے پیسے لے لئے تھے
سیفٹی کے لئے مگر رباب بھی آخر رباب ہی تھی برہان سے بات کرتے وقت چالاکی سے والٹ اڑالیا ۔۔
اب جبکہ ان دونوں کے پاس پیسے نہیں تھے تو بیچاروں کو سارے برتن دھونے پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اظفر تو فری میں ہی مارا گیا
آئندہ کبھی کھاتے وقت واشروم نہیں جاؤں گا
اظفر نے دل میں پکا ارادہ کیا۔۔۔
_________________
ہا ہا ہا۔۔۔۔۔
او مائی گاڈ ۔۔۔
واہ رباب کیا کمال کر دیا واہ ہاہاہا۔۔۔
ویسے نور اگر تمہارا بھائ تمہیں یوں ہنستے ہوئے دیکھ لے نہ تو کیا ہی مزہ آئے گا مشاء نے ہنستے ہوئے نور سے کہا
کیا کروں آپی رباب نے کارنامہ ہی ایسا انجام دیا ہے
اوپس۔۔۔۔۔میں بھی نہ لوگ دیکھ رہے ہیں تم نہ اظفر کو لے کر جلدی آجانا ٹھیک ہے یہ کہہ کر رباب تو نو دو گیا رہ ہو گئی
اوئے برہان کہاں کھویا ہوا ہے کب سے آوازیں دے رہا ہوں۔۔
ہاں ۔۔نہیں۔۔وہ کہاں تھے تم ہاں کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے اب چلو زیادہ باتیں مت کرو پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں لڑکیاں باہر گاڑی میں انتظار کر رہی ہیں اظفر کو منہ کھولتا دیکھ کر برہان نے تیز تیز کہا اور اپنی جیب میں سے بٹوا نکالا۔۔۔۔۔۔
_________________
چلو برہان کا کوئی دوست مل گیا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ تم لوگ جاؤ وہ ہم دونوں کو ڈراپ کر دے گا
چلو چلو جلدی چلیں پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں
رباب نے آکر ان دونوں کو بتایا اور ڈرائوینگ سیٹ پر بیٹھ کر کار بھگادی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔مشاء اور نور اپنی چیئرز پر سے اٹھیں اور چار قدم چلیں تھیں کہ ایکدم رباب نے کہا
ارے یار میری رنگ کہاں گئی ۔۔۔۔لگتا ہے یہاں کہیں گر گئ ہے
تم لوگ جاؤ میں آتی ہوں ڈھونڈ کر رباب نے اپنی کمال ایکٹنگ کے جوہر دکھائے
اچھا ٹھیک ہے جلدی آنا یہ کہ کر وہ دونوں آگے چل دیں چابی وہ برہان سے پہلے ہی لے چکی تھیں
جب وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو رباب نے اپنی حسین آنکھوں سے برہان کی آنکھوں میں جھانکا اور لبوں پر پیاری سی مسکان لائی اور برہان صاحب تو اسکی مسکان میں ہی کھو گئے ایک عجیب سحر طاری ہو گیا تھا اس پر رباب نے برہان کا بایاں ہاتھ اٹھا کر اپنے بائیں گال پر رکھا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
برہان تم آج کتنے ہینڈسم لگ رہے ہو دیکھو نہ میں تو کنٹرول ہی نہیں رکھ پائی ۔۔۔۔برہان تو اسکی باتوں کے سہر میں ہی گم تھا
جبکہ برہان صاحب کو تو یہ تک یاد نہ رہا کہ اس نے اپنے کھلے منہ کے آگے چمچ رکھا ہوا ہے
مشاء اور نور اپنی پلیٹ فنش کرکے اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھیں
برہان۔۔۔۔۔برہان۔۔۔۔؟؟؟
ہہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔کک۔۔۔۔کیا۔۔۔۔کیا ہے برہان نے یوش میں آتے ہوئے کہا
کہاں گم ہو بھئی جلدی کرو نہ بہت لیٹ ہو گئے ہیں جلدی کرو نہیں تو بہت ڈانٹ پڑے گی
ہا۔۔ہاں بس کرلیا۔۔۔
چلو اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔ رباب نے بڑے آرام سے ان دونوں سے کہا
ہاں چلتے ہیں پہلے یہ موٹا اظفر تو اجائے
پتہ نہیں اتنا کھاتا کیوں ہے جب سے دیکھو گھنٹہ ہو نے کو ہے واشروم میں ہی بند ہے۔۔یہ مشاء تھی
ارے کوئی نہیں چلو ہم تینوں چلتے ہیں اظفر برہان کے ساتھ آجائے گا
کیوں برہان۔۔۔؟؟؟
رباب نے ان دونوں سے کہتے ہوئے آخر میں برہان سے استفسار کیا
ہاہ۔۔ہاں۔۔۔ہاں میں لے آؤگا تم لوگ گاڑی میں بیٹھ کر ویٹ کرو
پانچھوں اس وقت رات کے ۹بجے اسلام آباد کے مہنگے ریسٹورنٹ میں یٹھے ڈنر کر رہے تھے رباب برہان کے ساتھ اور نور مشاء کے ساتھ بیٹھی ہوئ تھی جبکہ اظفر واشروم گیا ہوا تھا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا جا رہا تھا
کھانا اختتام پہ تھا کہ اچانک رباب نے برہان کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور اپنی انگلیاں اسکے ہاتھ میں پھنسالیں جبکہ برہان کی منہ کی طرف بڑھا ہوا بریانی کا چمچ وہی اٹگ گیا برہان نے سٹپٹا کر رباب کی طرف دیکھا لیکن رباب تو مزے سے اپنی پلیٹ فنش کرتے ہوئے ایسے شو کر رہی تھی کہ اس نے تو کچھ کیا ہی نہیں ۔۔۔
جبکہ برہان صاحب کو تو یہ تک یاد نہ رہا کہ اس نے اپنے کھلے منہ کے آگے چمچ رکھا ہوا ہے
جبکہ برہان اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا
یہ آج تم اتنی سخی کیسے ہو گئ وہ بھی میرے ساتھ۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔بتاؤ بتاؤ۔۔۔۔۔tell me۔۔۔۔۔۔۔fast۔۔۔۔۔؟؟؟؟
و۔۔۔۔وہ۔۔۔۔برہان یار کیا کہہ رہے ہو
وہ اصل میں نہ آج میرا بڑا دل کر رہا تھا اور دیکھو اب تو رات ہو گئ ہے اسی لئے اب تمہارے ساتھ جانا مجبوری ہے اسی لئے کہہ رہی ہوں مجبوری میں۔۔۔
رباب نے معصوم سا منہ بنا کر سیدھا سیدھا برہان صاحب کو اپنے جال میں قید کر لیا
برہان تو اسکی معصوم شکل دیکھ کر کھو سا گیا
برہان۔۔۔۔۔برہااااان۔۔۔۔
ہاں؟؟۔۔۔۔ہاں۔۔۔
کہا کھو گئے؟؟
آ۔۔۔۔کہیں نہیں۔۔۔چلو ٹھیک ہے لے چلتا ہوں تم باقیوں کو بھی تیار کرلو اور یاد رکھنا اپنی شرط۔۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔!
ہاں ہاں تم تو فکر ہی نہ کرو اور پھر برہان کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔
ادھر ا'دھر دیکھتے خود کو نارمل کرتے ہوئے اس سے پوچھا
ویسے برہان تم کروگے کیا ان پیسوں کا؟؟؟
بس یار کافی دن ہوگئے ہم نے کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں اچھا سا کھانا نہیں کھایا۔۔
ہائے کون ہم۔۔؟؟؟
میں اور اظفر ۔۔۔۔برہان نے آرام سے بتایا
اچھااااا۔۔۔۔۔
رباب کو گہری مایوسی ہوئ پھر کچھ سوچ کر چمکتی ہوئ آنکھوں سے برہان کو دیکھا
دیکھو برہان میری ایک شرط ہے۔۔۔۔!
شرط ۔۔۔۔۔ کیسی شرط ؟؟
مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے برہان جو کہ اسکے پیسے دینے پر ہی خوش ہو رہا تھاایکدم سے بولا
شرط یہ ہے کہ تم مجھے مشاء آپی اور نور کو بھی اپنے ساتھ ڈنر کرانے لے کر جاو گے اور نہ کہ میں تمہیں ۵ ہزار دوگی بلکہ بل بھی میں ہی پے کروگے رباب نے احسان جتانے والے اندازمیں گردن اکڑا کر کہا
ارے یار دے دو نہ، دیکھو میں تمہارے کتنے کام آتا ہوں نہ تمہیں یونی چھوڑنے بھی جاتا ہوں اور لینے بھی برہان احسان جتانے والے اندازمیں بولا
ہاااااا۔۔۔۔۔۔۔وہ تم مجھے کوئ سپیشل چھوڑنے اور لینے نہیں جاتے بلکہ خود بھی اس یونی میں پڑھتے ہو اور ساتھ میں مجھے بھی گھسیٹ لے جاتے ہو رباب نے ناک چڑھا کر نخوت سے بولا
دراصل رباب کو آرٹ میں ایڈمیشن لینا تھا مگر برہان نے زبردستی اسے اپنے ساتھ بزنس میں ایڈمیشن لے دیا اس وجہ سے دونوں ساتھ میں پڑھنے جاتے تھے
اف۔۔۔۔۔او یار چھوڑو نہ تم کہاں کا موضوع کہاں لے جا رہی ہو
تم سے میں نے صرف ۵ ہزار ہی مانگے ہیں مجھے دے دو پلیز میری بیوٹیفل ایکٹر ۔۔۔۔برہان نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا
جبکہ رباب تو سٹپٹا ہی گئ
سالار تھوڑا سا جھکا اور پھر اس کے ماتھے پہ اپنے پیاسے لب رکھ دیے
نور تھوڑا سا کسمسائ اور پھر سے سو گئ
وہ اسکے کان کی طرف جھکا اور دھیرے سے اس کے کان میں سرگوشی کی
چلتا ہوں عین آخر تمہارے خواب میں تم سے ملنے بھی تو جانا ہے نہ جہاں تم میرا انتظار کر رہی ہو اور کان کی کو کو چوم لیا
ایک نظر بھر کر اسے دیکھنے کے بعد دروازہ بند کر کے اپنے پورشن کی طرف چل دیا ۔۔۔۔
Jari hyyýyy
ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو چلی سونے اپنے اوپر بلینکٹ لے کر آنکھیں بند کر لیں اور جلد ہی اپنی خوابوں کی دنیا میں گم ہو گئ
رات کے دو بج رہے تھے اور نورالعین گہری نیند میں حال سے بیگانہ سو رہی تھی جب اسکے روم کا دروازہ کھلا اور کوئ چل کر بیڈ کے پاس آیا دروازہ وہ پہلے ہی لاکڈ کر چکا تھا بیڈ پہ نور دنیا سے بیگانی محو خواب تھی اس نے اسکے چہرے سے بلینکٹ ہٹایا تو نظریں وہی ساکت ہو گئیں دائیں طرف کھلی کھڑکی میں سے آتی چاند کی روشنی میں نور کا چہرہ حسیں سے حسیں تر لگ رہا تھا اسکی لمبی مڑی ہوئ گھنی پلکوں کا اپنے ہی چہرے پہ سایہ تھا جو نہایت دلکش لگ رہا تھا
سالار اس منظر میں گم ہی ہو گیا
آہستہ سے وہ نور کے سرہانے ٹک گیا اور ٹکٹکی باندھ کے نور کے چہرے کو اپنے دل میں سمونے لگا
بس بہت ہوگیا میں جارہا ہوں۔۔۔۔جب سے دیکھو مجھ پہ ہنستے ہی جا رہے ہو جب مجھ سے کام پڑے گا نہ میں بھی ایسے ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔کروں گا دیکھ لینا وعدہ ہے میرا تم سب سے قسم سے یہ کہ کر وہ فور"ا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
کردیا نہ میرے بھائ کو ناراض اب میں بھی آپ دونوں سے ناراض ہوں اور اب مجھے سونا ہے نورالعین نے نروٹھے انداز میں رباب اور مشاء سے کہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آپی بے بی نے فیڈر پی لیا ہے۔۔۔اب بے بی کو نی نی آ رہی ہے۔۔۔۔بائے بےبی اچھے سے نی نی کرنا۔۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہے گڈ نائیٹ مشاء نے بھی رباب کی تقلید کرتے ہوئے اپنا فرض نبھایااور دونوں بھاگ کے نور کے کمرے سے نکل گئیں جبکہ نور تو دروازے کو ہی گھورے گئی جیسے ان دونوں کو گھور رہی ہو
اچھا بس۔۔۔۔۔اب کوئ میلے پیالے بھائ کو تنگ نہ کرے نور نے دلارے انداز میں اپنے پیارے اور لاڈلے بھائ کی ہمیشہ کی طرح سائڈ لی
بس بس دیکھ لیا تمہارے پیارے بھائ کے لئے تمہارا پیار پہلے میری ان دونوں کے ساتھ مل کر ٹانگیں کھینچتی ہو پھر ہمیشہ کی طرح اینڈ میں پیارا بھائ یاد آجاتا ہے برہان نے خشمگیں نظروں سے نور کو دیکھا
ہاہاہا۔۔۔۔۔ویسے کیا سین تھا جج۔۔۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔۔سر۔۔۔ہاہا۔۔۔۔۔
یہ مشاء تھی جو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی اور اسکا ساتھ رباب زور و شور سے نبھا رہی تھی یہ چاروں ہمیشہ کی طرح بیٹھ کر کافی دیر سے باتوں میں مگن تھے اور ان کا موضوع خاص برہان کی آج کی کلاس تھی وہ بھی سالار شجاعت کے ہاتھوں
نہیں کچھ نہیں چلو ناشتہ کرتے ہیں
ہاں چلو یار مجھے تو بہت بھوگ لگ رہی ہے۔۔
__________________
ہو۔۔۔۔۔ہو ہو ہو۔۔۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب تک ہے جاں جان جہاں میں بانٹوگی۔۔۔۔میں بانٹوگی۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں میں بانٹوگی اس وقت رات کے ۹بج رہے تھے برہان،رباب اور مشاء نورالعین کے کمرے میں بیٹھ کر اظہار افسوس کر رہے تھے مگر رباب میڈم کا تو الگ ہی اسٹائل تھا افسوس کرنے کا اسی لئے وہ گا نے کی ٹانگیں بہت اچھے سے توڑ رہی تھی۔۔
کیا بانٹوگی۔۔۔؟؟؟
برہان نے حیران سے پوچھا
ارے وہی یار جو آجکل تم پہ کچھ زیادہ ہی چڑھا ہوا ہے ۔۔۔۔
کیا چڑھا ہوا ہے؟؟؟؟
۔۔۔۔غم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تینوں لڑکیوں نے ایک ساتھ کہ کر قہقہے لگائے۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
جبکہ برہان ناراض نظروں سے تینوں کو گھور رہا تھا
وہ جو ہٹلر کے آرڈر کو ہونق زدہ انداز میں منہ کھولے سن رہا تھا ایکدم بولا جی۔۔۔۔۔۔جی سر۔۔۔۔
واٹ۔۔۔؟؟؟؟
جلدی جلدی میں اسکے منہ سے سر نکل گیا
و۔۔۔وہ ۔۔۔بھائ ۔۔۔۔مطلب جی بلکل انڈرسٹینڈ بھائ۔۔۔۔!
سالار اپنے پورشن کی طرف بڑھ گیا
جبکہ اظفر تو کب کا موقع پاکر غائب ہو چکا تھا
اور اب برہان صاحب دکھی آتمہ کا صحیح صحیح رول نبھا رہا تھا
پیچھے سیڑھیوں پہ کھڑی نور نے یہ سب ناگوار اور بےزار بھری نظروں سے دیکھا نہ جانے خود کو کیا سمجھتے ہیں
نور ۔۔۔
ہہںاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔
نور جو خود سے ہی باتوں میں مگن تھی رباب کے اچانک بلا نے پر ہڑبڑا گئ
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟
چل ہو گئ بونی تیری برہان صبح ہی صبح۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اوپر " سالار شجاعت" کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔سٹینڈ اپ۔۔۔۔۔
آواز خاصی اونچی تھی
فور"ا ہی برہان ایسے ہی کھڑا ہوا جیسے ایک فوجی کھڑا ہو۔۔۔۔
کیا ہو رہا تھا یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس بار آواز پہلے سے بھی اونچی تھی
وہ بھائ۔۔۔۔
واٹ بھائ ۔۔۔
ہاں واٹ بھائ۔۔۔
کب بڑے ہوگے تم۔۔۔؟؟؟
تمہارے اندر اتنی بھی سینس نہیں ہے کہ how to behave۔۔۔!
سوری۔۔۔
واٹ سوری۔۔۔۔۔۔تمہاری دو مہینے کی پاکٹ منی بند۔۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔؟
ہاں تو چلو دیر تو تم ہی کر رہی ہو اپنی مردہ ایکٹنگ دکھا دکھا کر جلدی جلدی شریر انداز میں کہہ کر نور جھپاک سے باہر نکل گئ اور رباب تو کھڑی اسکی خالی جگہ کو ہی دیکھ رہی تھی پھر ایکدم صدمے بھری آواز میں بولی
۔۔۔۔مردہ ایکٹنگ۔۔۔۔۔۔۔
نوررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور یہ گئ نور کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
برہان جو کہ پیچھے دیکھ کر بھاگ رہا تھا اچانک کسی سخت چٹان جیسی چیز سے ٹکرا کر زمین بوس ہوگیا اور سامنے دیکھ کر تو سکتہ ہی طاری ہو گیا
نورالعین نے اسی کے انداز میں اسکی کھلی اڑائ۔۔۔۔۔
تھی تو نور رباب سے چھوٹی مگر دونوں میں پیار اسقدر گہرا تھا کہ لگتا تھا کہ دونوں ٹوئنس ہوں کچھ اثر رباب کے دبلا پتلا ہو نے کا بھی تھا مگر تھی وہ بھی بہت پیاری۔۔
چونکہ اماں جان نے آپکو عشائیہ میں طلب فرمایا ہے نورالعین شہزادی صاحبہ۔۔رباب نے خاصے مخلیانہ انداز میں اپنی ایکٹنگ جھاڑی
افف۔۔۔۔۔۔رباب عشائیہ رات کا ہوتا ہے ابھی تو بریک فاسٹ ہے نور نے اسکے الفاظ کی تصحیح کی
جی جی correcty صاحبہ اب چلییں نہیں تو میری اور آپ ہم دونوں کی اماں جاناوں نے آجانا ہے رباب نے کھسیانہ لہجے میں کہا
رباب مصنوعی شرماہٹ سے گل افشانی کر ہی رہی تھی کہ نور نے اسے زور سے دو ہتھڑ مارے
بس کردو رباب بہت ہوگئ تمہاری شرمیلی نوٹنکی ۔۔حد ہوتی ہے
تمہیں تو چانس مل جائے اپنی ایکٹنگ کے جوہر دکھانے کا
نورالعین نے اپنی پیاری اور میٹھی آواز کو غصے کا رنگ دے کر اسکے لتے لئے
ائےےےے۔۔۔۔۔۔ڈونٹ انڈرایسٹیمیٹ دی پاور آف رباب اکبر مرزا کی
شاندار ایکٹنگ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی سٹائلش نظر کی عینک کو ناک سے اوپر کیا
واہ کیا انداز تھا(رباب کے خیال میں)
اچھا بس بس صبح ہی صبح نہ دماغ چاٹو میرا کام بتاو کام کیوں اتنی صبح صبح آپ نےاپنی تشریف آوری فرما کر ہم پر اپنا احسان فرما یا ہے
#ضدی_جنون
نینا_خان
قسط 2
ہاؤوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔۔۔
رباب کی بچی۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین ہلکے سبز رنگ کے ریشمی سادہ شلوار قمیض اور اسی رنگ کا دوپٹہ اچھی طرح کندھوں پر پھیلائے ڈارک رنگ کے حجاب میں کھڑی شیشے میں خود کو ایک نظر دیکھ رہی تھی کہ رباب نے ایکدم پیچھے سے آکر ڈرا دیا نورالعین کی تو مانو جان ہی نکل گئی ،وہ تھی ہی ایسی سہمی سہمی سی نازک ڈرپوک گڑیا جیسی۔۔۔۔!
اوئ اللہ کیا کہہ رہی ہے نور۔۔۔ابھی تو میلی شادی بھی نہیں ہوئ اور تم۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ اوئ ماں مر گئ۔۔۔
تو رک برہان تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں اظفر برہان کو پکڑ نے کے لئے اٹھا جبکہ برہان تو نیچے بھاگ چکا تھا
نیچے ڈائننگ ہال سے منسلک کچن میں تمام خواتین ناشتہ بنا رہی تھیں اور ان دونوں کو ایک نظر دیکھ کر پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئں
ارے رک جاو برہان۔۔۔۔حورم بیگم نے کام میں مصروف ہوتے ہوئے برہان سے کہا
ارے چاچی میں تو رک جاوں پہلے اس چپڑ گلے کو تو کسی طرح رکوائیں۔۔۔۔۔۔۔برہان نے اظفر سے بچتے ہوئے کہا
اظفر کے ہاتھ میں وہی برش تھا کہ اب بدلہ تو لے کر ہی رہنا ہے
کیا اااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
کیا کہا تونے؟؟؟؟؟
رک تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں۔۔
بچاؤ۔۔۔۔مج۔۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain