ان کے دوسرے بیٹے اکبر مرزا اور ان کی بیگم حورم کی دو اولادیں تھیں مشاء اور رباب دونوں ہی بہت پیاری تھیں مشاء نے تو سمپل بی اے کر کے تعلیم کو خیرآباد کر دیا تھا جبکہ رباب تھرڈ ایئر میں تھی
مرزا سکندر کے تیسرے اور قدرے غصیلی طبعت کے بیٹے وجاہت مرزا اور ان کی بیگم نسیمہ کی ایک ہی اولاد تھی عمر جو کہ ان کے بزنس میں ہاتھ بٹاتا تھا عمر سنجیدہ اور خاموش طبعت کا مالک تھا مگر سب سے میل جول رکھتا تھا
مرزا سکندر کے چھوٹے بیٹے اسلم مرزا اور ان کی بیگم شمائلہ کی ایک ہی اولاد تھی نورالعین جسے سب پیار سے نور اور عینی بلاتے تھے نور بہت ہی حسین دوشیزہ تھی یا یوں کہا جائے کہ وہ اس محل کی خوبصورت ترین لڑکی تھی تو بے جا نہ ہو گا
ان کی شادی انہوں نے اپنے بزنس فرینڈ کے بیٹے ملک سلطان سے کر دی تھی ان کی دو اولادیں تھیں ایک بیٹا ارفعان جو کہ MBA کی ڈگری حاصل کر کے اپنے باپ کے بزنس میں دنیا کو منوانے کے جنوں میں تھا ایک بیٹی مشعال جو یونیورسٹی طالبہ تھی
مرزا سکندر کے بڑے بیٹے صدیق مرزا اور ان کی بیگم نجمہ صدیق کی چار اولادیں تھیں ہارون، نعمان شادی شدہ تھے جبکہ برہان اور ثناء یونیورسٹی کے تھرڈ ایئر میں تھے
ان کے دوسرے بیٹے اکبر مرزا اور ان کی بیگم حورم کی دو اولادیں تھیں مشاء اور رباب دونوں ہی بہت پیاری تھیں مشاء نے تو سمپل بی اے کر کے تعلیم کو خیرآباد کر دیا تھا جبکہ رباب تھرڈ ایئر میں تھی
مالی صبح صبح اپنے فرض سے سبکدوش ہو رہا تھا
لان کے درمیان میں شاندار محل نما سفید کوٹھی مضبوطی سے اپنے پیروں پر کھڑی تھی جس کے اوپر بہت بڑا شیر کا خوبصورت چہرہ تراشا گیا تھا جو کاریگر کے ہاتھوں کا منہ بولتا ے مثال ثبوت تھا
________
یہ تھا مرزا سکندر کے خوابوں کا جہاں" خواب جہاں"جہاں پر بہت سے خواب بستے تھے جو کہ اس میں بسنے والوں نے بسائے تھے
مرزا سکندر پاکستان کے ایک جانے مانے بزنس مین تھے اور اب ان کا بزنس ان کے بچے سنبھال رہے تھے ان کی پانچ اولادیں تھیں چار بیٹے اور ایک بیٹی آصفہ سب کی چہیتی تھیں گھر میں کوئ ایسا نہیں تھا کہ ان کے منہ سے نکلا ہوا کوئ بھی حکم ٹالا ہو مگر اس کے باوجود ان کی طبعت میں کسی قسم کی خودسری تک نہ پائ جاتی تھی
اس سے اس پر عجیب سا احساس طاری ہو چکا تھا اور اسے مدہوش کر دیا تھا
اور پھر آہستہ آہستہ کسی الگ ہی دنیا میں پہنچ کر اس دنیا سے مکمل طور پر غافل ہو گیا
یہی تو تھا اسکے غصے کا علاج۔۔۔۔۔۔۔!
_________________________
جدید طرز کے لان میں ہر قسم کے موسمی اور غیر موسمی بے تحاشہ پھول پودے اپنی چھب دکھلا رہے تھے
رات میں ہوئ بارش نے ان پر اپنا جادو چھوڑ رکھا تھا
یوں معلوم ہو رہا تھا کہ دن کے سمے ڈھیر سارے جگنوؤں نے اپنا دھاوا بول دیا ہو ننھے ننھے شبنم کے قطروں کی صورت۔۔۔۔۔
نادر جانتا تھا کہ اب یہ اپنے غصے کا علاج کر نے گیا ہو گا اور پھر یہ علاج اسے کافی دیر بعد اسے جان بخشی دے گا اور پھر اس نے اپنے ساتھی ملازم نواز کی مدد سے اسے اٹھایا اور باہر چل دیا کہ اب انہیں بھی نیند نصیب ہوگی کیونکہ جب تک سالار شجاعت جاگ رہا ہے تو دوسرا کوئ کیسے سو سکتا ہے
اور ادھر سالار شجاعت نے اپنے کمرے میں آکر وارڈروب کھولی اور پھر اس کا لاکڈ دراز کھول کر اس میں سے اس نے نہایت پیار سے نرم ہاتھوں سے گلابی رنگ کا ریشمی آنچل نکالا اور پھر اس کی خوشبو نتھنوں کے زریعے اپنے اندر اتارنے لگا اور پھر ایسے ہی چلتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا اور سیدھا لیٹ گیا اور دوپٹے کو کھول کر اپنے چہرے پہ پھیلا لیا اور پھر آنکھیں موند لیں ایسا کر سے اسے سب بھول گیا
وہ کہاں ہے؟؟؟؟
کس حالت میں ہے؟؟؟؟
کیا کر کے آ رہا ہے؟؟؟؟
کچھ یاد نہ رہا تھا.......
جبکہ سیکریٹری کی تکلیف دیکھ کر اس کو سکون محسوس ہو رہا تھا پھر وہ دو قدم آگے بڑھا اسکے روبرو آکے تھوڑا نیچے جھکا اور دھیمی سرد آواز میں اس سے بولا
تم۔۔۔۔۔۔۔۔نے۔۔۔۔۔۔۔۔میری۔۔۔۔۔۔سوچ۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔دخلاندازی کی
اور وہ بھی بنا میری اجازت کے اوپر سے ایک اور غلطی بنا دستک کے تم اندر آئے تو آئے کیسے
پھر وہ نادر کی طرف بڑھا اور بولا
کریم سے کہنا کہ آئندہ "سالار شجاعت "کے لئے کسی کو بھی رکںھنے سے پہلے اچھی طرح دیکھے کہ وہ اس قابل ہے بھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک سرد نگاہ اس سیکریٹری پہ ڈال کہ وہ باہر نکلتا چلا گیا اور جا کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا
Nxt
نادر ڈرتے ڈرتے اسکے قریب گیا اور اسکا حکم سنا اور افسوس بھری نگاہ اس سیکریٹری پہ ڈال کہ باہر نکلتا چلا گیا جبکہ سیکریٹری حیران تھا کہ اتنی بڑی خبر سن کر اس کا باس کچھ کہہ کیوں نہیں رہا ابھی وہ اسی سوچ میں الجھا ہوا تھا کہ نادر نےایک ملازم کی مدد سے ایک برتن فرش پہ رکھا تھا اور پھر انہوں نے اسے اپنی طرف آ تے دیکھا تو سیکریٹری سر جھٹک کر اسکی طرف متوجہ ہو گیا
اپنے مالک کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوے نادر نے نے سیکریٹری کا منہ پکڑ کے گرم پانی اسکے منہ میں انڈیل دیا سیکریٹری تو بلبلا ہی گیا اسکا منہ جل چکا تھا اور اسکے آنسو نکل رہے تھے پھر نادر نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کے گرم پانی والے برتن میں ڈال دیے جس سے اس کی تکلیف اور بڑھ گئ اور وہ تکلیف سے بری طرح مچلنے لگا
Nxt
جہاں اس نے جملہ مکمل کیا وہی اسکے دونوں ملازموں کے چہروں پر خوف کے تاثرات صاف صاف دیکھے جا سکتے تھے ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنے مالک کی طرف دیکھا جو رننگ مشین پر سے اتر چکا تھا اسکی پشت ان تینوں کی طرف تھی اس لئے یہ اسکے تاثرات نہیں دیکھ پا رہے تھے
سیکریٹری ابھی اس انتظار میں تھا کہ اس کا باس اتنی بڑی خبر سن کر اس سے خوش ہوگا اور اسے انعام سے نوازے گا
وہ بہت خوش تھا اور اسکے بولنے کا بے تابی سے منتظر تھا
کہ تبھی ایک بلند ٹھنڈی برف جیسی سرد آواز آئ
نادر۔۔۔۔۔۔۔
ج۔۔۔۔۔جج۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔جی مالک حکم
Nxt
اسکی برہنہ پشت پر درمیان میں بلیک اسکارپین( بچھو )ٹیٹو بنا ہوا تھا
اسکے پیچھے کھڑے دو ملازم کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں تولیہ اور ٹومیٹو جوس تھا دونوں حیران نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے کہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا اسے اس مشین پر دوڑتے ہوئے مگر اس کا زرا سا بھی سانس نہ پھولا تھا ابھی وہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک جم روم کا دروازہ کھلا اور ایک سانولے رنگ کا درمیانے قد کا سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر داخل ہوا اور آتے ہی اس کو مخاطب کر ڈالا
سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری کمپنی کی انفارمیشن کوئ سہیل خان کی کمپنی کو دے رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ کون ہے۔۔۔۔۔اس نے جلدی جلدی سے اسے بتایا
یہ اسکے سیکریٹری کریم کی جگہ عارضی طور پر نیا نیا اپوائنٹ ہوا تھا
Nxt
#ضدی_جنون
نینا_خان
قسط1
لندن میں جہاں اس وقت رات کے دو بجے تقریبا سب سو چکے وہاں ایک انسان رننگ مشین پر فاسٹ سپیڈ پر دوڑ رہا تھا
چھ فٹ سے نکلتا قد ،سفید کسرتی جسم،کالی گہری سرد وحشت سے بھرپور خوفناک آنکھیں ،کھڑی مغرور ناک اور کالے گھنے سیاہ بال کشادہ خوبصورت پیشانی پہ بکھیرے ان میں چھپیں لکیریں اسے کسی سوچ میں گم کا پتہ دے رہی تھیں
وہ اس وقت گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک آتے شارٹس میں تھا
پورا جسم اسکا پسینے سے شرا بور تھا
پسینے کے چمکتے قطرے اسکے سفید جسم پر اس طرح گر رہے تھے کہ جیسے وہ شاور کے نیچے کھڑا ہو
Sunoooooo me novl start krny wala huuuuu....sub read kro
اب میرے یہی سوال سب غیرت مند بھائیوں، شوہروں اور باپوں سے بھی ہیں ۔
کہ میں اس لڑکے کو کس جرم میں گرفتار کروں؟.
THE END
میرے تھپڑ سے وہ زمین پہ بیٹھ گیا تھا ، میں نے کالر سے کھینچ کر اسے اٹھایا اور پوچھا کہ: کس جرم میں اسے گرفتار کروں،
"اس میں کہ تمہاری ادھ ننگی بہن کھلے گلے والی قمیض پہنے اپنے نقش و نقوش ظاہر کیئے گذشتہ آدھے گھنٹے سے ایک نامحرم کے سامنے بیٹھ کر اس کے گھنٹنے پر ہاتھ رکھے مہندی لگوا رہی ہے؟"
"یا اس جرم میں کہ تمہاری بہن کی جھکی ہوئی گردن سے اس کی چھاتی نظر آرہی ہے جسے آدھے گھنٹے سے تمہاری بہن نے ڈھکنے کی ایک بار بھی کوشش نہیں کی؟"
" یا اس جرم میں کہ تمہاری عزت دار بہن موبائل پر ایک نامحرم کے سامنے بیٹھ کے اپنے محبوب سے پیار محبت کی باتیں کر رہی ہے؟"
بے شک اسلام عورتوں کی عزت کرنا سیکھاتا ہے لیکن ہر بار صرف مرد ہی گہنگار نہیں ہوتا
Next
سر اس نے میری بہن کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہے اسے گرفتار کرو۔ لڑکی کی طرف سے بولنے والے نے اپنا رشتہ بتاتے ہوئے کہا۔
چلو بھائی یہ معافی مانگ رہا اب چھوڑو اسے جاو ۔
میں نے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کہا
یہ کیا طریقہ ہے معافی مانگ لی تو اس کا گناہ ختم ہوگیا؟ یا آپ ان سے رشوت لے کے ان کی ہی طرف ہوئے بیٹھے ہیں؟ لڑکی کے بھائی کا سارا غصہ اب مجھ پر ٹرانسفر ہوگیا
ایسے الزام پر تو میں شروع سے ہی بہت جلدی ایکٹو ہوتا رہا ہوں کہ آپ رشوت لے کے بیٹھے ہو
ایک زناٹے دار تھپڑ لڑکی کے بھائی کے چہرے پر پڑا ۔ اور میرا ٹیمپریچر ہائی ہوگیا
Next
باجی جلدی میں یاد نہیں رہا سوری آء ایم ویری سوری۔ لڑکے کا لہجہ عاجزانہ ہوگیا
پھر بات جنگل کی آگ کی طرح وہاں موجود لوگوں میں پھیل گئی تو وہاں موجود اس لڑکی کے پہرے دار بھی آگئے آئو نہ تائو اس لڑکے کا گریبان پکڑ لیا گیا۔
یہاں تم دکان چلانے کو بیٹھے ہو یا لڑکیوں کو چھیڑنے کے لیے؟ _اس جیسے ہزاروں جملے لڑکے پر کسے جا رہے تھے اب ظاہر ہے اس جھگڑے کو ختم کرنے کی ذمہ داری مجھ پر تھی تو مجھے ان کے بیچ میں جانا پڑا۔
کیا مسئلہ ہے چھوڑو اسے ۔ میں نے پولیس والوں کا رسمی جملہ دہرایا۔
Next
تقریباً آدھے گھنٹے سے ایک لڑکی اپنے ہاتھ کی پشت پر مہندی کی ڈیزائن بنوانے میں مصروف تھی جب اس کے ہاتھ کا فرنٹ بنانے کی باری آئی تو ڈیزائن بنانے والے لڑکے نے اس کا ہاتھ اپنی ٹانگ پر پونچھنے کے انداز میں دو تین مرتبہ گھمایا
میرے حساب سے اس کا یہ عمل اس کے ہاتھ پر موجود پسینہ پونچھنے کی کوشش میں تھا, اور اسی دوران اس نے لڑکی کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر وہ لڑکی بھڑک اٹھی,
یہ کیا کر رہے ہو؟ لڑکی نے شدید غصے کی کیفیت میں یہ سوال کیا
باجی پسینہ تھا آپ کے ہاتھ پہ وہ صاف کیا: لڑکے نے حالات کا اندازہ لگاتے ہی فوراً جواب دیا
پسینہ صاف کرنا تھا تو ٹشو سے کرتے یہ کیا گھٹیا حرکت کی؟
Next
چند لمحوں کے لیے تو میں دم بخود ہو کہ رہ گیا پھر کچھ ہوش سنبھال کے اپنی نشت سنبھالی.___
بازار میں رش اس قدر تھا کہ کندھے کندھوں سے نہیں لوگ چھاتیاں اور پیٹھ گھسا کے بڑی مشکل سے گذر رہے تھے, سب سے زیادہ رش چوڑیوں اور مہندی کے اسٹالوں پر اور شوز سینڈل کی دکانوں پر تھا
کچھ خواتین اور لڑکیاں مہندی کے اسٹال پر بیٹھے پانچ لڑکوں سے ہاتھوں پر مہندی کی بہترین ڈزائن بنوانے میں مصروف تھیں
اور کچھ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں.
مہندی کا اسٹال قریب ہونے کی وجہ سے اس پر ہونے والی ساری ایکٹوٹی میرے سامنے تھی, یا یوں کہا جائے کہ تقدیر نے مجھے یہ سب نوٹ کرنے کے لیے یہاں پر بٹھایا تھا
Next
مجرم کون لڑکا یا لڑکی (چاند رات کا قصہ)
_________________
اور یہ سچا واقعہ ہے یہ میرے دوست ہیں
چاند رات میری ڈیوٹی حیدرآباد کی مصروف ترین بازار میں لگی تھی, اپنا فریضہ ادا کرنے میں اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر پنہچا تو وہاں پر موجود رونقیں و رنگینیاں دیکھ کر دنگ رہ گیا.
صنفِ نازک کے قدرتی حُسن کو دوبالا سے چار بالا کرنے والے بیوٹی پارلر کاریگروں نے کیا خوب محنت کی تھی, بازار میں آنے جانے والی خواتین و نو عمر لڑکیاں نت نئے ملبوسات میں حوروں کے مثل لگ رہی تھیں,
Next
میری پہلے والی بیوی سنا ہے کہ اب پاگل ہو چکی ہے ۔میرے نام لکھ لکھ کر چومتی رہتی ہے۔ اور گلیوں میں پھرتی رہتی ہے۔ اسے اپنی ہوش ہی نہیں رہی اب ایک دو دفعہ زہر بھی کھا لیا مگر بچ گئی
لوگ اب بھی کہتے ہیں میں ظالم ہو اس پر ظلم اتنے کیے کہ وہ پاگل ہو گئی ہے
اب میں کیا کہوں لوگوں سے ؟
حرام محبت کا مقدر ہمیشہ ذلت ہی ہوتی ہے۔ یارانے عاشقی معشوقی لگا کر توقع کرنا کہ یہ ٹھیک ہوگا۔ ذلت ہی ملتی ہے
میری بچیوں بہنوں بیٹیو یاد رکھو
حرام محبت کا مقدر ذلت ہے بس ...!!
THE END!
پھر آخر میں نے دوسری عورت سے شادی کر لی۔
اب الحمداللہ میرے 3 بچے ہیں میری یہ دوسری والی بیوی بہت ہی نیک نکلی۔پتا نہیں وہ دو تین سال جو میں نے حوصلے سے گزارے اس کی وجہ سےاللہ نے انعام کی صورت میں دیا کہ میں اب تھوڑی سی بھی ہمدردی کو بہت بڑی بات سمجھنے لگا تھا ۔
میں زرا سا بھی پریشان ہو جاوں تو میری بیوی کی نیندیں اڑ جاتی ہیں اس کو مجھے سے عشق کی حد تک پیار ہے اور بے انتہا عشق۔ میں ذرا کام سے دیر سے آوں یا کچھ میسج نہ کروں تو پریشان ہو جاتی سائے کی طرح آگے پیچھے آگے پیچھے۔ بعض دفعہ تو میں جنجھلا سا جاتا ہوں اور اس سے جگھڑ پڑتا ہوں کہ اللہ کی بندی میں دودھ پیتا بچہ نہیں ۔
اک وہ پہلی عورت اک یہ عورت
میں تو وہی تھا وہی ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain