Damadam.pk
M+ZaRRaaR's posts | Damadam

M+ZaRRaaR's posts:

M+ZaRRaaR
 

اوئے تو کیوں منہ پھاڑ پھاڑ کے ڈنٹونک کا اشتہار بن رہا ہے اظفر نے اپنے دیدے پھاڑ کے برہان کو گھور کے دیکھا جس کا خوبصورت چہرہ ہنس ہنس کے لال و لال ہو چکا تھا
شش۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔شکیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا تو شکیرہ کو خواب میں دیکھ رہا تھا بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو قابو کرتے ہوئے برہان نے اس سے پوچھا جبکہ اظفر یہ سن کر تو ایسا شرما یا کہ مانو اسکے سامنے برہان نہیں بقلم خود شکیرہ بےبی کھڑی ہوں۔۔۔۔
اور یہ دیکھ کر تو برہان کے پھر سے قہقہے ابل پڑے ہاہاہا۔۔۔۔۔
اظفر حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا پھر بولا
ہاں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

M+ZaRRaaR
 

جبکہ دوسری طرف مانو بلہ اپنی خوبصورت نازک سی گردن (بقول اظفر کے)پر کسی حسین لڑکی کے بال محسوس کر رہا تھا اور اپنی مسکراہٹ پر احسان کرتے ہوئے اسے اور پھیلا رہا تھ
ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔۔۔۔امم۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے جان اظفر یہ کیا کر رہی ہو رہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔اوئے اللہ نہ کرو نہ شکیرہ جان گد گدی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔بڑھی مشکل سے مانو بلہ نیند میں بول رہا تھا جبکہ. برہان کا تو اپنے آخری بوائلنگ پوائنٹ پر ابلتے ہوئے قہقہے روکنے ناکام لگ رہے تھے
شکیرہ بےبی۔۔۔۔۔۔۔ہائے جانو اپنی بےبی کی جان لوگی کیا
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بس پھر کیا تھا برہان کا ضبط جواب دے گیا اور یہ پھٹا ڈھول (بقول اظفر کے) اور یہ پھرا پانی مانو بلے کے حسین خواب پہ۔۔۔۔۔۔۔۔

M+ZaRRaaR
 

برہان سیدھا باتھروم میں گیا اور ڈرار میں سے کبوٹ برش اٹھایا اور واپس روم میں آیا اپنے شکار پر نظر جمائے بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں مانو بلہ محو استراحت تھا جس کہ خوبصورت سے مگر بڑے من پر شرما دینے والی ہلکی سی مسکان سجی تھی
ایک شیطانی مسکراہٹ برہان کے چہرے پہ بھی پھیلی ہوئ تھی
اظفر کے پاس پہنچ کر برہان نے برش اٹھایا اور اسکی گردن پر آہستہ آہستہ پھیرنے لگا دوسرا ہاتھ اس نے اپنے منہ پر رکھا تھا اپنی ہنسی کو روکنے کے لئے

M+ZaRRaaR
 

اظفر کا پسندیدہ مشغلہ کھانا کھانا کھانا اور صرف کھانا ہی تھا اسکا ماننا تھا کہ اللہ تعالہ نے پیدا ہی کھانے کی ریسرچ کے لئے کیا ہے تاکہ ہم مختلف مزے مزے کے بہت سارے کھانوں پر ریسرچ کر کے رپورٹ پیش کریں کہ جنت کہ مینیو میں کون کون سے کھانے ایڈ کر نے چاہیے
ایسی شاندار منطقیں مانو بلہ ہی ایجاد کر سکتا ہے یہ برہان کا ماننا تھا۔۔۔۔
اس محل کا ایک پورشن ان کے لئے مختص کیا گیا تھا
چونکہ آج اتوار تھا اس لئے سب سو رہے تھے
برہان دی گریٹ دبے پاؤں اپنے بستر سے اٹھا کہ اظفر جاگ نہ جائے یہ انکا مشترکہ کمرہ تھا

M+ZaRRaaR
 

سالار گھر میں کم کم ہی پایا جاتا تھا زیادہ تر بزنس میٹنگ کے سلسلے میں بیرون ملک ہی رہتا تھا ابھی بھی اسی کام کے لئے گھر میں موجود نہیں تھا
بلکہ دفعان ہوا تھا بقول برہان کے اسی لئے خواب جہاں میں گونا سکون ہی سکون تھا اور اس وقت بادشاہ برہان صدیق دی گریٹ کا راج تھا اور اپنی شرارتوں اور شیطانیوں سے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا اس وقت بھی وہ اپنے خالہ کے بیٹے مانو بلے اظفر کے ناک و چنے چبوا رہا تھا اظفر برہان کے بچپن کا گہرا دوست تھا جو کہ پڑھائ کے سلسلے میں ملتان سے اسلام آباد ان کے محل میں تھا
برہان اسے مانو بلے کے نام سے پکارتا تھا وہ تھا ہی بلے جیسا موٹا سا۔۔۔۔

M+ZaRRaaR
 

شجاعت اسکے دادا کا نام تھا سالار اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ شجاعت ہی لگاتا تھا کیونکہ اسے اپنے باپ محمود شجاعت سے بے حد نفرت تھی کیونکہ انہوں نے ایسی عورت سے شادی کی تھی جو ماں کہلانے کے قابل ہی نہ تھی ایسا سالار شجاعت کا ماننا تھا ایسا کیوں تھا اس کی وجہ کسی کو معلوم نہ تھی سوائے مرزا سکندر اور خود سالار شجاعت کے۔۔۔۔۔۔
کہنے کو تو سالار مرزا سکندر کے چھوٹے بھائ کا پوتا تھا مگر انہوں نے اسے اپنا سگا پوتا مانا تھا جس وجہ سے اسے سپیشل ویلیوز بھی دیتے تھے جو کہ گھر کی ینگ پارٹی کو زرا ہضم نہ ہوتا تھا
برہان تو کچھ زیادہ ہی خار کھاتا تھا ویسے تو برہان شوخ و چنچل لڑکا تھا مگر وہ ہٹلر سے بہت چڑتا تھا کیونکہ اسکے زیادہ تر عتاب کا شکار بھی وہی بنتا تھا

M+ZaRRaaR
 

اس محل میں بسنے والوں میں ایک فرد اور بھی تھا اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس محل کا حقیقی بادشاہ تھا تو زیادہ بہتر ہوگا
سب ینگ پارٹی پر اس کا دبدبہ تھا ایک رعب اور خوف قائم کر رکھا تھا ان سب پر۔۔۔۔۔۔۔
برہان نے اس کا نام ہٹلر تجویز کیا تھا اور پھر خود ہی کہتا تھا کہ یہ تو ہٹلر سے کہیں آگے کی چیز ہے
دادا کا چہیتا، انکا لاڈلا، ان کی جان تھا وہ۔۔۔۔۔
ان سب سے بڑا پینتیس سالہ حسین و جمیل وجاہت سے بھرپور شہزادوں سی آن بان رکںھنے والا" سالار شجاعت"۔۔۔۔۔۔

M+ZaRRaaR
 

گھٹنوں تک آتے کالے سیاہ ریشمی خوبصورت بال جن کو نور حجاب میں چھپا کر رکھتی تھی، سفید دودھ جیسی گلابی رنگت، مناسب قد و قامت، چھوٹی سی صاف پیشانی، بڑی بڑی سبز کانچ سی روشن آنکھیں جو کبھی گھنی اور لمبی سیاہ پلکوں کی اوٹ میں چھپ سی جاتی تھیں،پھولے پھولے کسی چھوٹے بچے کی مانند گلابی گال جسے دیکھ کر کھینچنے کا من کرے ،چھوٹے سے نرم و نازک بھرے بھرے خوبصورت کٹاؤ کے حامل لب اور ان کے نیچے بلکل ساتھ کالا تل جو کہ شائد قدرت نے اسکی نظر اتارنے کے لئے بنا یا تھا مگر یہ تو سونے پہ سہاگہ کا کام کرتا تھا
نور نماز کی پابند تھی اور صبح صبح قرآن پاک کی تلاوت اپنی میٹھی سی آواز میں روز کرتی تھی
نور کالج میں بارہویں جماعت میں پڑھتی تھی
نور کو کوکنگ کا بہت شوق تھا مگر سب اسے کچن میں گھسنے تک نہ دیتے تھے کہ کہیں اپنا ہاتھ ہی نہ جلا بیٹھے

M+ZaRRaaR
 

ان کے دوسرے بیٹے اکبر مرزا اور ان کی بیگم حورم کی دو اولادیں تھیں مشاء اور رباب دونوں ہی بہت پیاری تھیں مشاء نے تو سمپل بی اے کر کے تعلیم کو خیرآباد کر دیا تھا جبکہ رباب تھرڈ ایئر میں تھی
مرزا سکندر کے تیسرے اور قدرے غصیلی طبعت کے بیٹے وجاہت مرزا اور ان کی بیگم نسیمہ کی ایک ہی اولاد تھی عمر جو کہ ان کے بزنس میں ہاتھ بٹاتا تھا عمر سنجیدہ اور خاموش طبعت کا مالک تھا مگر سب سے میل جول رکھتا تھا
مرزا سکندر کے چھوٹے بیٹے اسلم مرزا اور ان کی بیگم شمائلہ کی ایک ہی اولاد تھی نورالعین جسے سب پیار سے نور اور عینی بلاتے تھے نور بہت ہی حسین دوشیزہ تھی یا یوں کہا جائے کہ وہ اس محل کی خوبصورت ترین لڑکی تھی تو بے جا نہ ہو گا

M+ZaRRaaR
 

ان کی شادی انہوں نے اپنے بزنس فرینڈ کے بیٹے ملک سلطان سے کر دی تھی ان کی دو اولادیں تھیں ایک بیٹا ارفعان جو کہ MBA کی ڈگری حاصل کر کے اپنے باپ کے بزنس میں دنیا کو منوانے کے جنوں میں تھا ایک بیٹی مشعال جو یونیورسٹی طالبہ تھی
مرزا سکندر کے بڑے بیٹے صدیق مرزا اور ان کی بیگم نجمہ صدیق کی چار اولادیں تھیں ہارون، نعمان شادی شدہ تھے جبکہ برہان اور ثناء یونیورسٹی کے تھرڈ ایئر میں تھے
ان کے دوسرے بیٹے اکبر مرزا اور ان کی بیگم حورم کی دو اولادیں تھیں مشاء اور رباب دونوں ہی بہت پیاری تھیں مشاء نے تو سمپل بی اے کر کے تعلیم کو خیرآباد کر دیا تھا جبکہ رباب تھرڈ ایئر میں تھی

M+ZaRRaaR
 

مالی صبح صبح اپنے فرض سے سبکدوش ہو رہا تھا
لان کے درمیان میں شاندار محل نما سفید کوٹھی مضبوطی سے اپنے پیروں پر کھڑی تھی جس کے اوپر بہت بڑا شیر کا خوبصورت چہرہ تراشا گیا تھا جو کاریگر کے ہاتھوں کا منہ بولتا ے مثال ثبوت تھا
________
یہ تھا مرزا سکندر کے خوابوں کا جہاں" خواب جہاں"جہاں پر بہت سے خواب بستے تھے جو کہ اس میں بسنے والوں نے بسائے تھے
مرزا سکندر پاکستان کے ایک جانے مانے بزنس مین تھے اور اب ان کا بزنس ان کے بچے سنبھال رہے تھے ان کی پانچ اولادیں تھیں چار بیٹے اور ایک بیٹی آصفہ سب کی چہیتی تھیں گھر میں کوئ ایسا نہیں تھا کہ ان کے منہ سے نکلا ہوا کوئ بھی حکم ٹالا ہو مگر اس کے باوجود ان کی طبعت میں کسی قسم کی خودسری تک نہ پائ جاتی تھی

M+ZaRRaaR
 

اس سے اس پر عجیب سا احساس طاری ہو چکا تھا اور اسے مدہوش کر دیا تھا
اور پھر آہستہ آہستہ کسی الگ ہی دنیا میں پہنچ کر اس دنیا سے مکمل طور پر غافل ہو گیا
یہی تو تھا اسکے غصے کا علاج۔۔۔۔۔۔۔!
_________________________
جدید طرز کے لان میں ہر قسم کے موسمی اور غیر موسمی بے تحاشہ پھول پودے اپنی چھب دکھلا رہے تھے
رات میں ہوئ بارش نے ان پر اپنا جادو چھوڑ رکھا تھا
یوں معلوم ہو رہا تھا کہ دن کے سمے ڈھیر سارے جگنوؤں نے اپنا دھاوا بول دیا ہو ننھے ننھے شبنم کے قطروں کی صورت۔۔۔۔۔

M+ZaRRaaR
 

نادر جانتا تھا کہ اب یہ اپنے غصے کا علاج کر نے گیا ہو گا اور پھر یہ علاج اسے کافی دیر بعد اسے جان بخشی دے گا اور پھر اس نے اپنے ساتھی ملازم نواز کی مدد سے اسے اٹھایا اور باہر چل دیا کہ اب انہیں بھی نیند نصیب ہوگی کیونکہ جب تک سالار شجاعت جاگ رہا ہے تو دوسرا کوئ کیسے سو سکتا ہے
اور ادھر سالار شجاعت نے اپنے کمرے میں آکر وارڈروب کھولی اور پھر اس کا لاکڈ دراز کھول کر اس میں سے اس نے نہایت پیار سے نرم ہاتھوں سے گلابی رنگ کا ریشمی آنچل نکالا اور پھر اس کی خوشبو نتھنوں کے زریعے اپنے اندر اتارنے لگا اور پھر ایسے ہی چلتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا اور سیدھا لیٹ گیا اور دوپٹے کو کھول کر اپنے چہرے پہ پھیلا لیا اور پھر آنکھیں موند لیں ایسا کر سے اسے سب بھول گیا
وہ کہاں ہے؟؟؟؟
کس حالت میں ہے؟؟؟؟
کیا کر کے آ رہا ہے؟؟؟؟
کچھ یاد نہ رہا تھا.......

M+ZaRRaaR
 

جبکہ سیکریٹری کی تکلیف دیکھ کر اس کو سکون محسوس ہو رہا تھا پھر وہ دو قدم آگے بڑھا اسکے روبرو آکے تھوڑا نیچے جھکا اور دھیمی سرد آواز میں اس سے بولا
تم۔۔۔۔۔۔۔۔نے۔۔۔۔۔۔۔۔میری۔۔۔۔۔۔سوچ۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔دخلاندازی کی
اور وہ بھی بنا میری اجازت کے اوپر سے ایک اور غلطی بنا دستک کے تم اندر آئے تو آئے کیسے
پھر وہ نادر کی طرف بڑھا اور بولا
کریم سے کہنا کہ آئندہ "سالار شجاعت "کے لئے کسی کو بھی رکںھنے سے پہلے اچھی طرح دیکھے کہ وہ اس قابل ہے بھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک سرد نگاہ اس سیکریٹری پہ ڈال کہ وہ باہر نکلتا چلا گیا اور جا کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا
Nxt

M+ZaRRaaR
 

نادر ڈرتے ڈرتے اسکے قریب گیا اور اسکا حکم سنا اور افسوس بھری نگاہ اس سیکریٹری پہ ڈال کہ باہر نکلتا چلا گیا جبکہ سیکریٹری حیران تھا کہ اتنی بڑی خبر سن کر اس کا باس کچھ کہہ کیوں نہیں رہا ابھی وہ اسی سوچ میں الجھا ہوا تھا کہ نادر نےایک ملازم کی مدد سے ایک برتن فرش پہ رکھا تھا اور پھر انہوں نے اسے اپنی طرف آ تے دیکھا تو سیکریٹری سر جھٹک کر اسکی طرف متوجہ ہو گیا
اپنے مالک کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوے نادر نے نے سیکریٹری کا منہ پکڑ کے گرم پانی اسکے منہ میں انڈیل دیا سیکریٹری تو بلبلا ہی گیا اسکا منہ جل چکا تھا اور اسکے آنسو نکل رہے تھے پھر نادر نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کے گرم پانی والے برتن میں ڈال دیے جس سے اس کی تکلیف اور بڑھ گئ اور وہ تکلیف سے بری طرح مچلنے لگا
Nxt

M+ZaRRaaR
 

جہاں اس نے جملہ مکمل کیا وہی اسکے دونوں ملازموں کے چہروں پر خوف کے تاثرات صاف صاف دیکھے جا سکتے تھے ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنے مالک کی طرف دیکھا جو رننگ مشین پر سے اتر چکا تھا اسکی پشت ان تینوں کی طرف تھی اس لئے یہ اسکے تاثرات نہیں دیکھ پا رہے تھے
سیکریٹری ابھی اس انتظار میں تھا کہ اس کا باس اتنی بڑی خبر سن کر اس سے خوش ہوگا اور اسے انعام سے نوازے گا
وہ بہت خوش تھا اور اسکے بولنے کا بے تابی سے منتظر تھا
کہ تبھی ایک بلند ٹھنڈی برف جیسی سرد آواز آئ
نادر۔۔۔۔۔۔۔
ج۔۔۔۔۔جج۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔جی مالک حکم
Nxt

M+ZaRRaaR
 

اسکی برہنہ پشت پر درمیان میں بلیک اسکارپین( بچھو )ٹیٹو بنا ہوا تھا
اسکے پیچھے کھڑے دو ملازم کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں تولیہ اور ٹومیٹو جوس تھا دونوں حیران نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے کہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا اسے اس مشین پر دوڑتے ہوئے مگر اس کا زرا سا بھی سانس نہ پھولا تھا ابھی وہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک جم روم کا دروازہ کھلا اور ایک سانولے رنگ کا درمیانے قد کا سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر داخل ہوا اور آتے ہی اس کو مخاطب کر ڈالا
سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری کمپنی کی انفارمیشن کوئ سہیل خان کی کمپنی کو دے رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ کون ہے۔۔۔۔۔اس نے جلدی جلدی سے اسے بتایا
یہ اسکے سیکریٹری کریم کی جگہ عارضی طور پر نیا نیا اپوائنٹ ہوا تھا
Nxt

M+ZaRRaaR
 

#ضدی_جنون
نینا_خان
قسط1
لندن میں جہاں اس وقت رات کے دو بجے تقریبا سب سو چکے وہاں ایک انسان رننگ مشین پر فاسٹ سپیڈ پر دوڑ رہا تھا
چھ فٹ سے نکلتا قد ،سفید کسرتی جسم،کالی گہری سرد وحشت سے بھرپور خوفناک آنکھیں ،کھڑی مغرور ناک اور کالے گھنے سیاہ بال کشادہ خوبصورت پیشانی پہ بکھیرے ان میں چھپیں لکیریں اسے کسی سوچ میں گم کا پتہ دے رہی تھیں
وہ اس وقت گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک آتے شارٹس میں تھا
پورا جسم اسکا پسینے سے شرا بور تھا
پسینے کے چمکتے قطرے اسکے سفید جسم پر اس طرح گر رہے تھے کہ جیسے وہ شاور کے نیچے کھڑا ہو

M+ZaRRaaR
 

Sunoooooo me novl start krny wala huuuuu....sub read kro

M+ZaRRaaR
 

اب میرے یہی سوال سب غیرت مند بھائیوں، شوہروں اور باپوں سے بھی ہیں ۔
کہ میں اس لڑکے کو کس جرم میں گرفتار کروں؟.
THE END