عورت یعنی میری بیوی آج بھی اپنے میکے گھر میں ہے۔ طلاق نہیں مانگی اس نے ۔
اور ہاں
جس کے عشق میں وہ پاگل تھی اس نے اس کو اپنایا ہی نہیں اور اپنا مطلب نکال کر بھاگ گیا۔اک دن روتے ہوئے اسکی کال آئی تھی کہ مجھے اپنے نام سے محروم نہ کرنا بس ۔ بھلے ہی مجھے اپنے پاس جگہ نہ دو لیکن طلاق مت دینا۔ بس اک آخری خواہش پوری کر دو۔
میں نے اسکی خواہیش کا احترام کیا اسکو طلاق نہیں دی۔
اس کے بعد مجھے تین سے چار سال لگے خود کو نارمل انسان بنانے میں عورت پر یقین کرنے میں کہ ہر عورت اک جیسی نہیں ہوتی۔
مجھے پہلے تو یقین نہ آیا لیکن جب اپنی بیوی کو گھر نہ پایا تو بے حد غصہ آیا اتنا کہ مجھے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے اس کی عزت رکھی کسی کو کچھ نہ بتایا پر اس نے میری عزت نہ رکھی۔
میں ہوٹل کی طرف چل دیا۔ خود کو پرسکون رکھا ۔ وہاں اس کو کسی غیر مرد کے ساتھ بیٹھا دیکھا تو آواز دی اور کہا کہ چلو گھر چلو۔ وہ چپ چاپ گھر آگئی ۔ گھر لا کر اسے میں نے انتہائی زور دار تھپڑ مارا کہ میری انگلیاں اس کے منہ پر چھپ سی گئی۔اور اس کو بولا اب تم اپنے گھر دفع ہو جاو آج سے میری طرف سے آزاد ہو جب تمہیں طلاق چاہیے ہو تو کہہ دینا۔مگر میرے ساتھ میرے گھر میں تم ہرگز نہیں رہ سکتی۔
پانچ ماہ ایسے ہی گزر گئے۔ میں کام سے تھکا ہارا رات میں گھر آتا کھانا باہر سے کھا آتا۔ اور جب بھی گھر آتا وہ فون پر ہی باتیں کر رہی ہوتی۔
اک دن اس نے پوچھا اک بات پوچھوں میں نے کہا پوچھ لو۔اس نے کہا کیا آپ کو مجھے دیکھ کر طلب نہیں ہوتی ؟میں نے کہا شادی سے پہلے بھی تو کنٹرول ہی تھا تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ اب بھی نہیں ہو سکے گا ؟ مگر اس رات بات کچھ اور تھی۔ میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔
فون میرے دوست کا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تمہاری بیوی کسی اور مرد کے ساتھ فلانے ہوٹل پر بیٹھی ہے۔
خیر
صبح وہ اپنے گھر چلی گئی کوئی بات نہیں ہوئی۔ تین دن تک کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔ تین دن بعد اس کی امی کی کال ائی کہ بیٹا تم آئے نہیں اپنی دلہن کو لینے تو میں لینے چلا گیا۔میں نے وہاں بھی کوئی بات نہیں کی۔
ہم واپس گھر آگئے۔ میری بیوی میرے سامنے تو نہیں البتہ باہر جا کر یا گھر کی چھت پر جا کر ہر رات کو فون پر کسی سے باتیں کرتی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا تک نہیں کہ وہ کس سے باتیں کرتی کون ہے وہ۔ بس اک بار پوچھا تھا کہ اسے طلاق چاہیے ؟ اس نے کہا نہیں۔
اس کا فون پر جو عشق تھا اس کا مجھے کوئی مطلب نہیں تھا۔
اک بار تو سوچا کہ زبردستی کرتا ہوں۔گناہ نہیں میرے نکاح میں ہے مگر میرا دل نہیں مانا۔ میں نے اس سے بات کرنا چاہی مگر مجھے گوارہ نہ ہو کہ میں اس عورت کی منت کروں جس نے مجھے یوں ٹھکرا دیا۔
اللہ تعالی سے شکوے شکائتیں کرتا کرتا سو گیا۔۔
اگر اسے کسی اور سے محبت تھی تو نکاح کے لئے ہاں ہی نہ کرتی یا مجھے ہی بتا دیتی میں اس سے خود رشتہ ختم کر دیتا بات شادی تک بڑھتی ہی نا۔میری زندگی برباد تو نہ ہوتی۔میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا آدمی شادی پر ساری جمع پونجی لگا چکا تھا۔
میں حیران و پریشان پاگلوں کی طرح اسے دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اٹھا اور وضو کیا اور نماز کے لئے چلا گیا۔اور اپنے اللہ سے ذکر کیا کہ یا ربا یہ کیسا امتحاں ہے ؟
مجھے ڈر تھا بہت زیادہ ڈر۔ معاشرے کا ڈر خاندان والوں کا ڈر ۔ میں ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں اور ایسی اونچ نیچ پر ہمارے ہاں عزت کا جلوس نکل جاتا۔ مختلف سوچیں آ جا رہی تھیں۔کہ اگر یہ صبح گھر گئی اور واپس نہ ائی تو میری عزت کا کیا ہو گیا۔ کیا پتہ یہ اپنے گھر میں یہ ہی نہ کہہ دے کہ یہ نامرد ہے اس سے شادی ختم کرواو۔
وہ ایک عجیب سی رات تھی ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیا کروں کیا نہ کروں
شادی کی پہلی رات تھی اور دلہن بنی بیٹھی میری بیوی نے کہا کہ خبردار مجھے ہاتھ مت لگانا میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔ یہ زبردستی کی شادی ہوئی ہے۔ اور یاد رکھو تم کچھ بھی کر لو میری محبت نہ حاصل کر پاو گے۔ نہ میں تمہیں چاہونگی۔اس کی انکھوں میں آنسو تھے۔
آخری خواہش پوچھتے ہو تو سنو جاناں
جب میرا جنازہ گزرے" تم تالیاں بجانا🍁
شــوق اُس کے بـدل گئے، شـاید
وہ میــــرے شعــــر اب نہیں پـــڑھتی
🍁
بربادئیوں کا جائزہ لینے کے واسطے
وہ پوچھتے ھیں حال ھمارا کبھی کبھی۔۔۔ 💔
ہم تنہا کھوۓ ہوۓ لوگ اچھے لگتے ہیں
جن کی دنیا دنیا والوں کی دنیا سے الگ ہوتی ہے🖤
وہ جب آئے گا دیکھے گا، تو مجھ سے پوچھے گا
یہ کس کا ہجر ہے، یہ کون کھا گیا تم کو🖤
کنتی اذیت ہے کہ تیرے بعد بھی،
جیا کریں گے، ہنسا کریں گے، سنورا کریں گے.
پيره سرسايه ماته راغونډه کړٸ
پيره زه لاک ډاون خراب کړى يم
کوئی میرا پوچھے تو کہنا
اناللّٰہ واناالیہ راجعون __ 💔🔥
کیسے ہوتے ہیں______بچھڑنے والے
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں
سپردِ خاک کر ڈالا تیری آنکھوں کی مستی نے،،،،،،،
ہزاروں سال جی لیتے......اگر تیرا دیدار نہ ہوتا،،،،
چپ رہ، تنہا بیٹھ، رو اور یاد کر
تو نے عشق کیا ہے گناہ چھوٹا نہیں ہے تیرا
🔥🔥🔥
ایک دِن طوطے 🦜 نے طوطی 🦜 کی چُمی 💋 لے لی۔ مالک نے سزا کے طور پہ طوطے کی ٹنڈ کرا دی۔ کُچھ دِن بعد مالک کے گھر محفلِ نعت تھی۔ مالک نے طوطے 🦜 کو "Welcome" کیلئے دروازے پہ بٹھا دیا۔ کُچھ دیر بعد مالک نے دیکھا سب اندر آگئے ہیں، لیکن گنجے 👴 آدمی باہر ہیں!
مالِک نے طوطے 🦜 سے کہا کہ!
"اِنہیں کیوں نہیں اندر آنے دیا؟"
طوطا🦜 بولا!
"لینیاں چُمیاں💋 تے پڑھنیاں 🎤 نعتاں، نہ پُتر نہ"😆😆
💪👊👊گنجے ایویں تے نہیں ہوئے نہ
یونہی اچانک میرا دم گھٹنے لگا ہے
جانے کس کو تو نے گلے لگایا ہو گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain