1. پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ
پاکستان کی حکومت اپنے اخراجات (جیسے تنخواہیں، پینشنز، ترقیاتی کام، دفاعی بجٹ وغیرہ) ٹیکس آمدن اور قرضوں کے ذریعے پورا کرتی ہے۔
ٹیکس آمدن ہمیشہ اخراجات سے کم رہتی ہے۔
باقی خلا قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے، اور ان قرضوں پر سود ادا کرنا بھی لازمی ہوتا ہے۔
2. بجٹ کا بوجھ
2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے سالانہ بجٹ کا سب سے بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں (Debt Servicing) پر جا رہا ہے۔
سود دینے کے بعد حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں بچتے کہ تنخواہیں اور دوسرے اخراجات اپنے وسائل سے دے سکے۔
نتیجہ: حکومت پھر سے مزید قرض لیتی ہے تاکہ تنخواہیں، پینشن، اور باقی اخراجات پورے کرے۔
شق 8: نفاذ اور نگرانی
ایک "انسدادِ سودی قرضہ کمیشن" قائم ہوگا جو سالانہ رپورٹ جاری کرے گا اور عوام کو آگاہ کرے گا کہ حکومت سودی قرضوں سے پاک ہے یا نہیں۔
2. قومی سطح پر جان بوجھ کر سودی قرض لینے کو خیانتِ عظمیٰ (High Treason) کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔
شق 5: متبادل نظام
1. حکومت پابند ہوگی کہ 5 سال کے اندر اندر پاکستان میں بلا سود اسلامی مالیاتی نظام رائج کرے۔
2. قرضہ جات صرف مشارکہ، مضاربہ، اجارہ، اور دیگر اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق ہوں گے۔
شق 6: خصوصی عدالتیں
سودی قرضوں کے مقدمات سننے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی جو 6 ماہ کے اندر فیصلہ سنائیں گی۔
شق 7: عوامی تحفظ
1. ہر شہری کو حق ہوگا کہ وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے اگر حکومت سودی قرضہ لے۔
2. عوام کو سودی بوجھ سے بچانے کے لیے ایسے قرضوں کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے گا۔
2. "قومی خیانت" سے مراد ایسا عمل ہے جس سے پاکستان کی خودمختاری اور عوام کی معیشت سودی قرضوں کے ذریعے نقصان کا شکار ہو۔
3. "ذمہ داران" میں شامل ہوں گے:
موجودہ اور سابق حکمران (وزیرِاعظم، وزیرِخزانہ وغیرہ)
بیوروکریٹس اور پالیسی ساز ادارے جو سودی قرضوں کے معاہدے کرتے رہے۔
مالیاتی ادارے جو سودی قرضوں کے اجرا میں شریک ہوئے۔
شق 3: سودی قرض لینا جرم قرار
1. پاکستان کی ریاست یا کوئی بھی حکومتی ادارہ اگر بین الاقوامی یا ملکی سطح پر سود پر قرض لے گا تو یہ "قومی جرم" تصور ہوگا۔
2. اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
شق 4: سزائیں
1. جو شخص یا ادارہ سود پر قرض لینے کا ذمہ دار ہوگا:
پہلی مرتبہ جرم پر 10 سال قید اور کڑی مالی سزا (جرمانہ) دی جائے گی۔
بار بار جرم پر عمر قید یا تاحیات نااہلی دی جائے گی۔
سودی قرضوں اور قومی خیانت کے انسداد کا قانون 2025
(مسودہ قانون برائے پاکستان)
دیباچہ (Preamble):
چونکہ سود (ربا) قرآن و سنت کی رو سے حرام اور اللہ و رسول ﷺ کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے، اور چونکہ آئینِ پاکستان کی دفعہ 38 (f) میں سودی نظام کے خاتمے کی ضمانت دی گئی ہے، لہٰذا یہ قانون بنایا جاتا ہے تاکہ پاکستان کو سودی قرضوں کے جال سے آزاد کرایا جائے اور اُن افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے قوم کو سودی قرضوں میں جکڑ کر قومی خیانت کی۔
شق 1: نام اور نفاذ
یہ قانون "انسدادِ سودی قرضہ و قومی خیانت قانون 2025" کہلائے گا اور فوری طور پر پورے پاکستان میں نافذ ہوگا۔
شق 2: تعریفات
1. "سود" سے مراد وہ تمام مالی اضافہ ہے جو اصل رقم پر وقت گزرنے کے ساتھ لیا جائے، خواہ ملکی یا غیر ملکی سطح پر ہو۔
نام مسلمانوں والے اور کرتوت کافروں والے
یہ ہیں آجکل کے مسلمانوں کے کارنامے
3. دینی و اخلاقی سطح پر
مساجد اور مدارس میں کاروباری اخلاقیات پر خطبات اور دروس ہونے چاہئیں۔
علماء اور مشائخ عوام اور تاجروں کو بار بار یاد دلائیں کہ بےایمانی وقتی فائدہ ہے مگر برکت اور عزت کو تباہ کر دیتا ہے۔
📌 نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر کاروباری مسائل لالچ، بددیانتی اور قرض کے غلط استعمال سے جنم لیتے ہیں۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات کو اپنالیں تو یہ سب مسائل حل ہو سکتے ہیں، اور معیشت میں برکت بھی آ سکتی ہے۔
4. برکت کی اصل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "اَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاءِ" (ترمذی)
"ایماندار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔"
✅ عملی حل
1. انفرادی سطح پر
ایمانداری کو کاروبار کا حصہ بنانا۔
قرض صرف اتنا لینا جتنا لوٹایا جا سکے۔
منافع کم ہو تو بھی حلال اور دیانتدارانہ طریقے سے بیچنا۔
2. اجتماعی سطح پر
حکومت کو ذخیرہ اندوزی اور قرض واپس نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین پر عملدرآمد کروانا چاہیے۔
سپلائر اور دوکاندار کے درمیان تحریری معاہدے عام کرنے چاہئیں۔
عوام کو چاہیے کہ صرف انہی دکانداروں سے خریداری کریں جو دیانتداری کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔
🌙 اسلامی نقطۂ نظر
1. دیانتداری کا حکم
قرآن پاک میں ہے:
> "وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ" (المطففین: 1)
"تباہی ہے ان کے لیے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔"
یعنی کاروبار میں بےایمانی اور لوگوں کو دھوکہ دینا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
2. امانت داری اور قرض کی واپسی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "مُطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ" (بخاری و مسلم)
"مالدار شخص کا قرض واپس نہ کرنا ظلم ہے۔"
یعنی جو شخص قرض لے اور ادا نہ کرے، وہ قیامت کے دن ظالموں میں شمار ہوگا۔
3. ذخیرہ اندوزی (Hoarding) کی ممانعت
حدیث شریف میں ہے:
> "مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ" (مسلم)
"جو کوئی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گناہگار ہے۔"
یعنی مال روک کر مہنگا بیچنے والا سخت گناہ کا مرتکب ہے۔
https://www.youtube.com/live/YirtbHvyaxY?si=cZYmaZ37e5B2Wi5s
.
.
.
🔴 BOL NEWS LIVE | Latest Pakistan News 24/7 | Headlines - Bulletins| Breaking News | Today News 2025
🔑 اصل پیغام:
یہ سب واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اللہ کی زمین پر سرکشی اور غرور انسان کو ہمیشہ ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا، اصل ظلم انسان خود اپنی جان پر کرتا ہے۔
ان میں سے کسی پر ہم نے پتھروں والی آندھی بھیجی، اور کسی کو ایک سخت دھماکے نے آلیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا، اور کسی کو ہم نے غرق کر دیا۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔
📚 مختصر تفسیر
قارون: مال و دولت پر غرور کرنے والا، اللہ کو بھلا بیٹھا، نتیجہ یہ ہوا کہ زمین نے اسے نگل لیا۔
فرعون: خدائی کا دعویٰ کیا، اللہ کے پیغمبر کی نافرمانی کی، انجام یہ کہ سمندر میں ڈوب گیا۔
ہامان: فرعون کا وزیر، باطل میں اس کا مددگار، وہ بھی ہلاک ہوا۔
دیگر اقوام:
قومِ لوط پر آسمانی پتھروں کی بارش نازل کی گئی۔
قومِ ثمود کو ایک زبردست چیخ نے تباہ کر دیا۔
کچھ زمین میں دھنسا دیے گئے۔
کچھ پانی میں غرق ہوئے۔
📖 قرآن کریم
سورۃ العنکبوت (آیات 39-40):
وَقارُونَ وَفِرعَونَ وَهامانَ ۖ وَلَقَد جاءَهُم موسىٰ بِالبَيِّنٰتِ فَاستَكبَروا فِى الأَرضِ وَما كانوا سابِقينَ ٣٩
فَكُلًّا أَخَذنا بِذَنبِهِ ۖ فَمِنهُم مَن أَرسَلنا عَلَيهِ حاصِبًا ۖ وَمِنهُم مَن أَخَذَتهُ الصَّيحَةُ ۖ وَمِنهُم مَن خَسَفنا بِهِ الأَرضَ ۖ وَمِنهُم مَن أَغرَقنا ۚ وَما كانَ اللَّهُ لِيَظلِمَهُم وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ ٤٠
🌐 اردو ترجمہ (آسان فہم)
اور قارون، فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کیا۔ موسیٰؑ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، مگر انہوں نے زمین میں سرکشی کی، حالانکہ وہ (ہماری گرفت سے) آگے نکل جانے والے نہ تھے۔
پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑا۔
اللّٰہ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے،بس اللّٰہ سے مانگو کیوں کہ یہ انسانوں کے خزانوں کیطرح نہیں جو خالی ہو جائے یا پھر پاپا،ماما،چچا،ماموں وغیرہ کے خزانوں کیطرح ہے جو کبھی بھی خالی ہوسکتے ہیں۔
شب بخیر دوستوں
اسلام وعلیکم
🚀 BTTC – The Future of Web3 Starts Today! 🚀
🌐 World’s Largest P2P Network + ⚡ Superfast TRON Blockchain = BTTC 💎
✨ Over 1 Billion Users
⚡ Lightning-Fast Transactions
💰 Ultra-Low Fees
🎮 Perfect for NFTs | Metaverse | Gaming
📉 Today’s price: just a few cents…
📈 Tomorrow: could be the next big crypto star!
🔥 Remember: Smart investors take action before the world catches on… and later, everyone follows their lead.
👉 Don’t wait for tomorrow — grab BTTC today and secure your future! 💎
#BTTC #Crypto #Web3 #Blockchain #FutureOfFinance
🚀 BTTC – The Future of Web3 is Here! 🚀
🌐 World’s Largest P2P Network + ⚡ Superfast TRON Blockchain = BTTC 💎
💥 1+ Billion Users | Ultra-Fast & Low-Fee Transactions | Perfect for Gaming, NFTs & Metaverse
💰 Price today: just cents… tomorrow? Could be the NEXT BIG THING! ✨
👉 Smart investors act early. The world follows later.
🔗 Join the Web3 revolution. Buy BTTC & hold your future! 💎
#BTTC #Crypto #Web3 #Blockchain #NextBigThing
پاکستان کی گورنمنٹ کبھی پاکستانیوں کے کام نہیں آئی، صرف ان سے مال کھانا ہے،رشوت لینی ہے انکے اوپر سود چڑھانا ہے وغیرہ
اب بھی سنبھل جاؤ بیس کروڑ عوام اور اس حرام خور گورنمنٹ کیخلاف بھرپور ایکشن لو اور ان سالوں کے دانت توڑ کر انکے ہاتھوں میں دو،جو اس وقت سے تمہارے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں جب سے ان لوگوں نے آزاد ملک کے نام پہ تمہیں غلام بنایا ہے اپنا۔
مریم نواز صاحبہ آپ نے کہا کہ کوئی بھی مرد کسی بھی لڑکی یا عورت سے بدتمیزی کرے گا تو جیل کی ہوا کھائے گا تو یہ بھی یاد رکھیں کہ کوئی بھی لڑکی یا عورت ہم مردوں کیساتھ بدتمیزی کرے گی تو اسکے دانت بھی ہم مرد توڑ دینگے پھر چاہے کوئی بھی لڑکی یا عورت ہو یہ بھی لڑکیوں اور عورتوں کو بتا دیں کیونکہ ہم مرد ہیں ایف آئی آر درج کروانے تھانے نہیں جائیں گے۔
پاکستان میں کرپشن کیسے نہ عروج پہ ہو ادھر تو جائز تعلیم بھی پیسے دیکر بچے حاصل کرتے ہیں۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain