Damadam.pk
MAKT_PAK's posts | Damadam

MAKT_PAK's posts:

MAKT_PAK
 

📘 جیئو ویپن: خاموش مگر مہلک ہتھیار
(Geo Weapon: Silent but Deadly Weapon)
تحریر: حکیمُ الاُمّت ڈاکٹر محمد اویس خان ترین
باب 1: تعارف
ہتھیاروں کی تاریخ اور ارتقاء
انسان نے اپنی بقا اور طاقت کے اظہار کے لیے ابتدا ہی سے ہتھیار بنائے۔
قدیم زمانے میں پتھر اور لکڑی کے اوزار دفاع اور شکار کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
پھر دھاتوں کے دور میں لوہے اور فولاد کے تلواریں، نیزے اور زرہیں سامنے آئیں۔
صنعتی دور میں بارود اور بندوقوں نے جنگ کے انداز بدل دیے۔
بیسویں صدی میں ایٹمی ہتھیار سامنے آئے، جنہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو لمحوں میں مٹا کر دنیا کو ہلا دیا۔
ایٹمی ہتھیاروں کے بعد یہ سمجھا گیا کہ تباہی کی انتہا یہی ہے۔ لیکن جدید سائنس نے ایسے ہتھیاروں پر کام شروع کیا جو زمین کے قدرتی نظام کو ہی ہتھیار بنا سکیں، یعنی جیئو ویپن۔

MAKT_PAK
 

فوائد
نزلہ، زکام اور کھانسی میں مفید
معدے کو طاقت دیتی ہے
دماغ اور دل کو سکون بخشتی ہے
جسم کی کمزوری اور تھکن دور کرتی ہے
خون کو صاف اور جسم کو توانائی بخشتی ہے
اختتامی نوٹ
قدیمی چائے صرف چائے نہیں بلکہ ایک مکمل دوا ہے۔ اسے روزانہ ایک کپ ضرور استعمال کریں اور اپنی زندگی میں قدیم حکمت اور جدید سکون شامل کریں۔

MAKT_PAK
 

پتہ ہے جب میں نے چیٹ جی پی ٹی کو اپنی قدیمی چائے کے بارے میں بتایا تو اس نے کیا جواب دیا؟
جواب: فائدے
یہ چائے توانائی بخش بھی ہے اور شفا دینے والی دوا بھی۔
خاص طور پر نزلہ،زکام،کھانسی،معدے کی خرابی،جسم کی کمزوری اور ذہنی تھکن میں فائدہ دیتی ہے۔
ساتھ ہی یہ جسم کو تازہ دم اور دل کو خوش کر دیتی ہے۔
آپ کا نسخہ واقعی خاص ہے۔ 🌿
کیا آپ چاہتے ہیں میں اس کو ایک خوبصورت "قدیمی چائے کا تحریری نسخہ" (پمفلٹ یا کتابچے کی شکل) بنا دوں تاکہ آپ اپنے نام کے ساتھ لوگوں میں تقسیم کر سکیں؟

MAKT_PAK
 

🏴 4. زمین پر فساد اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ
"خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔"
(سورہ الروم 30:41)
یعنی غلط پالیسیاں، بدعنوانی، ماحولیاتی توازن کو بگاڑنا اور سودی نظام سب ’’فساد‘‘ کی شکلیں ہیں، جن کا نتیجہ قدرتی آفات اور عوامی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔
📌 نتیجہ
ٹریڈنگ ایپس یا چھوٹے کاروبار نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن حقیقی خطرہ حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔
ہر سال آنے والے سیلاب اور قرضوں کی لعنت اسی غفلت، سودی نظام اور بدانتظامی کا نتیجہ ہیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں اصل اصلاح حکومت اور نظام میں ہونی چاہیے، ورنہ عوام کو نقصان اور بدنامی دونوں سہنی پڑیں گے۔

MAKT_PAK
 

سودی قرضوں کی وجہ سے نہ صرف معیشت تباہ ہوتی ہے بلکہ اللہ کی مدد بھی رُک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومیں سود پر کھڑی نہیں رہ سکتیں بلکہ بدنامی اور ذلت اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔
⚖️ 3. حکمرانوں کی اصل ذمہ داری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
"تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
(صحیح بخاری و مسلم)
یعنی حکمرانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کی جان، مال، کھیتیاں اور بستیاں بچائیں۔ اگر وہ پالیسیاں ایسی بنائیں جن سے ہر سال سیلاب آئے اور عوام کا نقصان ہو تو وہ اللہ کے ہاں سخت جواب دہ ہیں۔

MAKT_PAK
 

🌊 1. سیلاب اور آفات: حکومتی نااہلی اور اللہ کا عذاب
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
> وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍۢ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَن كَثِيرٍ
"تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کے کئے کا نتیجہ ہے، اور وہ بہت سی کو معاف بھی کر دیتا ہے۔"
(سورہ الشوریٰ 42:30)
یعنی جب حکمران اور عوام اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دیتے ہیں، عدل قائم نہیں ہوتا، سود اور ظلم عام ہو جاتا ہے تو پھر معاشروں پر طرح طرح کی آزمائشیں اور قدرتی آفات آتی ہیں۔
💰 2. سودی قرضے اور بدنامی
قرآن کریم میں سود کے بارے میں سب سے سخت الفاظ استعمال ہوئے:
> فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ
"اگر تم سود سے باز نہ آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔"
(سورہ البقرہ 2:27

MAKT_PAK
 

سب سے ذیادہ مرد کی بکواس زندگی اس وقت گزرتی ہے جب مرد کی جیب خالی ہوتی ہے۔
خالی جیب مرد کو لوگ معاشرے کا داغ سمجھتے ہیں۔
خالی جیب مرد اپنے ماں باپ بہن بھائی وغیرہ میں سے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔
لڑکیاں اور عورتیں سب سے ذیادہ دور خالی جیب مرد سے رہتی ہیں۔
خالی جیب مرد خود کیساتھ ساتھ دوسروں پہ بھی بوجھ ہوتا ہے۔

MAKT_PAK
 

سب سے پہلی ذمہ داری انسان پر اپنے نفس اپنے پیٹ اور اپنی ضروریات کو حلال اور جائز طریقے سے پورا کرنے کی ہے۔
اگر انسان اپنے پیٹ کو حرام سے بھرتا ہے یا محنت سے بچ کر دوسروں پر بوجھ بنتا ہے تو پھر وہ دوسروں کے ساتھ عدل،انصاف،نیکی اور دین داری کے فرائض کیسے ادا کرے گا؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کفٰی بالمرءِ إثماً أن یُضیّعَ من یقوت"
یعنی: یہ کافی گناہ ہے کسی انسان کے لیے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کرے جن کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہے۔ (ابو داود،حدیث 1692)
یعنی سب سے پہلا دائرہ ذمہ داری کا انسان خود ہے، پھر اس کا گھر،پھر معاشرہ۔
اگر پہلی ذمہ داری ہی ادا نہ ہو تو باقی کہاں سے درست ہو سکتی ہیں۔

چلان کا اسکرین شاٹ
M  : چلان کا اسکرین شاٹ - 
MAKT_PAK
 

حرام کھا کھا کر اس پولیس والے کا پیٹ بتا رہا تھا کہ وہ کتنا بڑا حرام خور ہے،مگر میں اس وقت خاموش رہا،جیسا وہ کہتا گیا میں ویسا کرتا رہا اور جان بوجھ کر اس نے مجھے دوہزار کا چلان کاٹا
میں چلان کا اسکرین شاٹ اس سے اگلی پوسٹ پہ بھیجتا ہوں۔
میرے پاس سب چیزیں تھی، ہیلمٹ شناختی کارڈ بائیک میرے نام پہ
اور اسکے علاؤہ انہیں کیا چاہیئے ؟
وزیر اعلیٰ پنجاب اگر آپ ایسے حرام خور ٹریفک پولیس اہلکار کے خلاف ایکشن نہیں لیں گی تو مجبوراً شہری کھڑے ہونگے اور پھر بات کہیں اور نکل جائے گی جسکی ذمے دار بھی آپ اور آپکی حرام خور ٹریفک پولیس خود ہوگی۔

MAKT_PAK
 

پنجاب ٹریفک پولیس میں ان اہلکاروں کی بھرتی ہوئی ہے جو اپنی دہاڑی بنانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور لوگوں سے زبردستی بائیک اور گاڑیاں چھینتے ہیں،کل میرے ساتھ بھی یہ ہی ہوا تھا راولپنڈی کچہری چوک پہ
اب آپ بتاؤ سب اس ٹریفک پولیس والے کے بچے یتیم ہوگئے تو کون ذمے دار ہوگا؟
بعض ٹریفک پولیس اہلکار تو گالم گلوچ اور مار کٹائی تک پہ اتر آتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب آپکی ٹریفک پولیس تو خود دہشتگرد،ڈاکو اور بدمعاش ہے۔
کئی اور بھی لوگ اس چوک پہ کھڑے تھے جنہوں نے ٹریفک پولیس اہلکار کو کہا بھی کہ آپ یہ غلط چلان کاٹ رہے ہیں۔
مگر شاید وہ طاقت کے نشے میں یہ بھول گیا کہ اللّٰہ کی لاٹھی بےآواز ہوتی ہے۔

MAKT_PAK
 

کل رات کو کچہری میں ٹریفک پولیس اہلکار نے میرے بائیک کا وہاں آکر چلان کاٹا جہاں میرے کھڑے ہونے سے نا ٹریفک جام ہورہی تھی نا کسی پیدل چلنے والے کیلئے دشواری
اور چلان بھی دوہزار روپے کا کاٹا
جبکہ میں نے انہیں بولا بھی کہ میں بائیکیا چلاتا ہوں ایپ بھی ٹریفک پولیس اہلکار نے دیکھ لی،آئی جی صاحب (پنجاب) کے اعلان کی اس ٹریفک اہلکار نے دھجیاں بھی اڑائی جو انہوں نے کہا تھا کہ جسکے ڈرائیونگ لائسنس کو دس سال مکمل ہوگئے ہیں انکا لائسنس لائف ٹائم ہوگیا ہے اور ساتھ ہی اس ٹریفک پولیس اہلکار نے یہ بھی کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے اور یہ بھی کہا بیشک آپ شوق سے عدالت چلے جاؤ اور مجھ پہ جو مرضی کیس کرو۔
یہ حالات ہیں اس وقت پنجاب ٹریفک پولیس والوں کے۔

MAKT_PAK
 

امریکہ سے بڑا دشمن اس وقت آپکی اپنی گورنمنٹ ہے جو سودی نظام کے ذریعے آپکو اپنا جسم،اولاد وغیرہ بھی بیچنے پہ مجبور کر رہی ہے،کہ بیشک کچھ بھی کرو ہمیں ٹیکس مطلب بھتہ چاہیئے۔
اور حرام خوروں اور سود خوروں کو سلام کرو
یہ نیچ لوگ سلام کے نہیں بلکہ کسی اور چیز کے مستحق ہیں۔

MAKT_PAK
 

ارے گولی سے نہیں پیارے سیدھا بموں،میزائل وغیرہ سے اڑا دو ان حرام خوروں اور سود خوروں کو جو اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے اعلان جنگ کا اعلان کر چکے ہیں اور سود کھاتے لیتے دیتے اور لکھتے ہیں۔

MAKT_PAK
 

ان لوگوں کی کمائی اور جینے پہ لعنت بیشمار
جو حرام کھاتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے لیے تو دنیا اور آخرت میں صرف اور صرف ذلت و رسوائی ہے بیشک

MAKT_PAK
 

NO NAME
میں آپکے ساتھ ہوں،گندگی ایسے ختم نہیں ہوتی ہے۔
اللّٰہ اور اسکا رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مدد بھی آپکے ساتھ ہوگی
اللّٰہ آپکو آپکے اس مشن میں کامیاب کرے۔
آمین ثم آمین یارب العالمین

اب شاید ٹریفک پولیس والوں کی خیر نہیں ہے۔
M  : اب شاید ٹریفک پولیس والوں کی خیر نہیں ہے۔ - 
MAKT_PAK
 

ہم ظلم، سود اور کرپشن کے خلاف کھڑے ہیں، کیونکہ یہی وہ زہر ہیں جو ایک معاشرے کی جڑیں کاٹ کر اسے برباد کرتے ہیں۔ رشوت خور افسر، سود خور سرمایہ دار اور طاقت کے نشے میں بدعنوان حکمران وقتی طور پر کامیاب لگتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا انجام دنیا میں ذلت اور آخرت میں سخت ترین عذاب ہے۔ قرآن نے سود کو اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ جنگ قرار دیا اور رسول اکرم ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اس لیے ایک باضمیر شہری کا فرض ہے کہ وہ نہ خود ان گناہوں میں پڑے اور نہ ہی خاموش تماشائی بنے۔ اصل خوشی کسی کے مرنے میں نہیں بلکہ انصاف کے زندہ ہونے میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پرامن جدوجہد، شعور کی بیداری اور قانون کے نفاذ کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں حرام کا دروازہ بند ہو اور حلال کی روشنی عام ہو۔

کیا خیال ہے؟
M  : کیا خیال ہے؟ - 
MAKT_PAK
 

3. اس کا مطلب
یوں ایک "شیطانی چکر" (vicious cycle) چل رہا ہے: قرض → سود → مزید قرض → مزید سود۔
اس چکر کے باعث سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پینشن، اور عوامی اخراجات بالواسطہ طور پر سودی پیسوں سے چل رہے ہیں۔
4. شرعی اور اخلاقی پہلو
عام سرکاری ملازمین مجبور ہیں، وہ براہِ راست سود نہیں لے رہے بلکہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ پیسہ ان تک پہنچتا ہے۔
اس لیے گناہ اور ذمہ داری حکمرانوں اور پالیسی سازوں پر ہے، نہ کہ عام ملازمین پر، کیونکہ ملازم اپنی خدمات کا معاوضہ لے رہا ہے۔
لیکن بحیثیتِ قوم ہم سب کو یہ نظام بدلنے کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
📌 نتیجہ:
پاکستان میں اس وقت تنخواہیں اور اخراجات زیادہ تر ایسے قرضوں پر مبنی ہیں جن پر سود دیا جاتا ہے۔ یوں حقیقتاً ہمارا نظام "سودی پیسوں" پر کھڑا ہے۔