https://youtu.be/cBGDDBHN22U?si=b3aLrY8j1tKLwCjA
.
.
.
Pehli Pehli Baar Mohabbat Ki Hai Full Video Song | Sirf Tum|Kumar Sanu,Alka Yagnik|Sanjay K, Priya G
https://youtu.be/WRQHV3kDcyo?si=u5ePoapZfcnFks8U
.
.
.
SAB TERA Video Song | BAAGHI | Tiger Shroff, Shraddha Kapoor | Armaan Malik | Amaal Mallik |T-Series
https://youtu.be/OMoU0Pfibc4?si=swOaRNFq1JzXPced
.
.
.
Tere Naam Humne Kiya Hai Full Song | Tere Naam | Salman Khan | Udit Narayan, Himesh Reshammiya
https://youtu.be/OtKa_eN88Qo?si=9o9xiYYuLulxbfei
.
.
.
Full Video : Pehle Kabhi Na Mera Haal | Baghban | Salman Khan, Mahima Chaudhary
https://youtu.be/aGbPyM6lzBs?si=9sP48hPlIbTgHD7A
.
.
.
Ek Pal Ka Jeena - Kaho Naa Pyaar Hai | Hrithik Roshan & Ameesha Patel | Lucky Ali | Rajesh Roshan
📌 نتیجہ
پاکستان کو بم سے زیادہ سود نے نقصان پہنچایا ہے۔ ہتھیار والا دہشتگرد فوری جان لیتا ہے مگر سودی نظام آہستہ آہستہ پوری قوم کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔
اس لیے وقت آ گیا ہے کہ ہم اصل دہشتگردوں کو پہچانیں:
وہ لوگ جو قوم کے نام پر قرض لیتے ہیں
مگر خود عیش کرتے ہیں اور عوام کو غلامی میں دھکیل دیتے ہیں۔
یہی اصل "معاشی دہشتگرد" ہیں۔
📌 اصلاحی تجاویز
1. سودی قرضوں پر پابندی – آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 227 کے مطابق تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق بننے چاہئیں، لہٰذا سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
2. اسلامی بینکاری – مضاربہ، مشارکہ اور تکافل جیسے نظام کو مضبوط کیا جائے۔
3. اپنے وسائل پر انحصار – ٹیکس کا بوجھ غریب پر نہیں بلکہ بڑے سرمایہ داروں پر ڈالا جائے۔
4. قومی اخراجات میں کفایت شعاری – حکمران اپنی عیاشی کم کریں۔
5. احتساب – سود پر قرض لینے والے حکمرانوں کو "معاشی دہشتگرد" قرار دے کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اگر کوئی ہتھیار اٹھا کر 50 افراد کو مارتا ہے تو وہ دہشتگرد ہے،
تو جو پالیسی بنا کر کروڑوں لوگوں کو بھوک، خودکشی اور غربت پر مجبور کرے وہ دہشتگرد کیوں نہیں؟
لہٰذا سود پر قرض لینے والے حکمرانوں اور اداروں پر بھی انسدادِ دہشتگردی قوانین لاگو ہونے چاہئیں۔
📌 عوامی اثرات
1. مہنگائی کا طوفان – روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔
2. غربت میں اضافہ – لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہو جاتے ہیں۔
3. خودکشیاں – قرض کے بوجھ سے تنگ آ کر لوگ اپنی جان لے لیتے ہیں۔
4. تعلیم و صحت کی بربادی – بجٹ کا بڑا حصہ سود کی قسطوں میں چلا جاتا ہے، عوامی سہولتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
5. غلامی – سودی قرض دینے والے ممالک اور ادارے پاکستان کی پالیسیوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
یہ سب براہِ راست عوام کے خلاف جرم ہے۔
📌 ریاستی ذمہ داری اور عوامی استحصال
جب حکمران عوام کے نام پر قرض لیتے ہیں تو یہ قرض عوام نے واپس نہیں لینا ہوتا بلکہ عوام نے ہی ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعے واپس کرنا ہوتا ہے۔
عام آدمی کی تنخواہ سے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے۔
ہر چیز پر سیلز ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
پٹرول اور بجلی مہنگی کر دی جاتی ہے۔
یعنی حکمران قرض لیتے ہیں، مگر عوام اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ یہ عوام کے ساتھ بدترین دھوکہ دہی ہے۔
📌 انسدادِ دہشتگردی قوانین اور سودی قرضے
پاکستان میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ (ATA) کے تحت دہشتگردوں کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔
لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ:
معیشت کو تباہ کرنے والے بھی عوام کو موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں؟
اور اگر ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔"
(البقرہ: 278-279)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "سود کھانے والا، سود دینے والا، سود لکھنے والا اور اس کے گواہ سب برابر ہیں۔"
(صحیح مسلم)
یعنی سود لینے دینا صرف گناہ ہی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ ہے۔
📌 دہشتگردی کی حقیقت اور معاشی دہشتگردی
عام طور پر دہشتگردی کا مطلب سمجھا جاتا ہے کہ کوئی ہتھیار اٹھا کر لوگوں کو قتل کرے۔ لیکن اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے عوام کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں، معیشت تباہ ہو جائے اور قوم غلامی میں دھنس جائے تو یہ بھی دہشتگردی ہے۔
بم دھماکے سے چند درجن افراد مرتے ہیں۔
مگر سودی قرضوں سے کروڑوں عوام غربت، بیماری اور بھوک سے مرتے ہیں۔
یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ اصل اور بڑی دہشتگردی "معاشی دہشتگردی" ہے۔
📖 معاشی دہشتگردی: سود پر قرض اور عوام کی بربادی
✍️ مصنف: حکیمُ الامت علامہ ڈاکٹر محمد اویس خان ترین
✨ تمہید
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ لیکن افسوس کہ یہاں کے حکمرانوں نے اسلامی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر سودی نظامِ معیشت کو اختیار کیا۔ آج پاکستان پر اربوں ڈالرز کا قرض ہے اور ہر آنے والی حکومت سود پر مزید قرض لے کر پچھلے قرض کا سود ادا کرتی ہے۔ اس طرح عوام پر مہنگائی، ٹیکس اور غربت کا پہاڑ توڑ دیا جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل دراصل ایک "معاشی دہشتگردی" ہے جس کے اثرات بندوق اور بارود سے بھی زیادہ تباہ کن ہیں۔
📌 سود کی حرمت (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سود کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے:
> "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود میں باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔
آج پھر آپ کے سامنے ایک ایسا سوال لے کر حاضر ہوں جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے:
"یہ جو اربوں کھربوں کا قرضہ سود پر لیا جاتا ہے… آخر یہ واپس کون کرے گا؟"
حکمران طبقہ؟ یا عام عوام؟
جب بھی نئی حکومت آتی ہے، وہ پچھلے حکمرانوں کے چھوڑے ہوئے قرضے چکانے کے بجائے مزید قرض لے لیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ پاکستان کے ہر شہری پر قرض کا بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
افسوس کہ جس سود کو قرآن و حدیث نے اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے، وہی سود آج ہماری معیشت کی بنیاد بنا دیا گیا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ کب تک ہم سود پر قرض لیتے رہیں گے؟ کب تک ہم اپنی نسلوں کو مقروض کرتے رہیں گے؟ اور آخر اس قرض کی اصل ذمہ داری کس پر ہے؟ حکمرانوں پر یا عوام پر؟
پاکستانی قوم یا نظام؟
اکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستانیوں پہ ترس آتا ہے۔ بظاہر یہ بات درست لگتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی عوام میں بے پناہ صلاحیتیں، قربانی اور محنت کا جذبہ موجود ہے۔ یہ قوم مشکل سے مشکل حالات میں بھی زندہ رہنا جانتی ہے۔
مسئلہ عوام میں نہیں، نظام میں ہے۔
قوم دن رات پسینہ بہاتی ہے مگر ان کی محنت کا صلہ چند طاقتور طبقے کھا جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت اور انصاف کے دروازے عام انسان پر بند ہیں، وسائل لامحدود ہیں لیکن کرپشن اور نااہلی نے انہیں ضائع کر دیا ہے۔
اسی پاکستانی مزدور کو باہر کے ملک میں دیکھیں تو وہاں ترقی بھی کرتا ہے اور عزت بھی کماتا ہے۔ فرق صرف نظام کا ہے۔
لہٰذا اصل ترس عوام پہ نہیں آتا، بلکہ اس ٹوٹے ہوئے نظام پہ آتا ہے جس نے اس باصلاحیت قوم کو قرض اور محرومیوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔
🔹 اسلامی نقطہ نظر
قرآن میں سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے (سورۃ البقرہ، آیت 279)۔
جب ایک اسلامی ملک ہی سود پر انحصار کرے تو پھر برکت کیسے آئے گی؟
🔹 ممکنہ سوالات برائے ڈسکشن
کیا حکومت کو ترقی کے لیے واقعی سود پر قرض لینا ضروری ہے؟
کیا مقامی وسائل پر بھروسہ کر کے ترقی ممکن ہے؟
قرض اتارنے کے لیے کیا "احتساب" ہونا چاہیے کہ جو لوگ قرض لیتے ہیں وہ ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرائے جائیں؟
پاکستانی عوام اکثر یہی سوال کرتے ہیں کہ "سود پر لیا گیا قرض واپس کون کرے گا؟" کیونکہ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے قرض اتارنے کے لیے مزید سود پر قرض لیتی ہے۔
🔹 بنیادی سوال
قرض کون لیتا ہے؟ عوام یا حکمران؟
سود کے ساتھ قرض لینا شریعت میں کیسا ہے؟
قرض کی اصل رقم تو شاید سمجھ آتی ہے، لیکن سود کیوں اور کب تک؟
🔹 عوامی نقطۂ نظر
عام آدمی اپنی زندگی میں ٹیکسز کے ذریعے یہ قرض اتارتا ہے۔
ہر بچہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی "قرض دار" کہلاتا ہے۔
بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خوردونوش پر ٹیکس لگا کر سود اتارا جا رہا ہے۔
🔹 حکمران طبقہ
کیا حکمران ذاتی طور پر یہ قرض واپس کرتے ہیں؟ یا سارا بوجھ عوام پہ ڈال دیتے ہیں؟
قرض لے کر "عیاشی" حکمران کرتے ہیں، اور قسط عوام بھرتی ہے۔
کل میں نے کئی لوگوں سے پوچھا،بتاؤ پاکستان میں سے سود والا قرض کیسے ختم ہوسکتا ہے؟
سب ایک ہی جواب پہ متفق تھے اور جواب تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ پاکستان پہ سے سارا قرض اتر جائے اور پاکستان امریکہ اور دیگر دوسرے ملکوں کی غلامی سے بچ سکے۔
سبق: ریاست کو سچائی اور انصاف کے ساتھ میڈیا کو سنبھالنا اور عوام تک صحیح بات پہنچانی چاہیے۔
7️⃣ فوج اور سیاست کی علیحدگی
1971 کے بعد ایک بڑا سبق یہ بھی سمجھا گیا کہ فوج کو صرف دفاع تک محدود رہنا چاہیے، اور سیاست دانوں کو سیاست کرنے دینی چاہیے۔
خلاصہ
1971 کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
عوام کو ساتھ رکھنا سب سے اہم ہے۔
ناانصافی، محرومی اور جمہوریت کی خلاف ورزی ملک توڑ دیتی ہے۔
دشمن سے پہلے ہمیں اپنی اندرونی کمزوریوں کو درست کرنا ہوگا۔
جب عوام ساتھ نہ ہوں تو فوجی فتح بھی ممکن نہیں۔
سبق: فوج کو عوامی حمایت کے بغیر لڑائی نہیں جیت سکتی۔
4️⃣ بیرونی دشمن ہمیشہ موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں
بھارت نے مشرقی پاکستان میں عوامی غصے اور بغاوت کا فائدہ اٹھایا، مکتی باہنی کو ٹریننگ دی، اور پھر جنگ میں براہِ راست کود پڑا۔
سبق: جب اندرونی کمزوریاں ہوں تو بیرونی دشمن ان کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
5️⃣ سیاسی مفاہمت کی ضرورت
اگر مغربی اور مشرقی پاکستان کے لیڈران ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات اور سمجھوتہ کر لیتے تو شاید ملک نہ ٹوٹتا۔
سبق: سیاست میں ضد اور انا ملکوں کو برباد کر دیتی ہے۔
6️⃣ میڈیا اور پروپیگنڈا کی طاقت
1971 میں بھارتی میڈیا اور مکتی باہنی کا پروپیگنڈا عوام کو فوج کے خلاف کرنے میں کامیاب ہوا۔
1971 کی شکست سے حاصل ہونے والے بڑے اسباق
1️⃣ قومی یکجہتی کی اہمیت
اگر ایک ملک کے مختلف حصوں کے عوام اپنے آپ کو مظلوم، نظرانداز یا محروم سمجھنے لگیں تو وہ ریاست سے دور ہو جاتے ہیں۔
مشرقی پاکستان میں یہی ہوا: وہاں کے لوگ محسوس کرتے تھے کہ ان کے ساتھ معاشی، سیاسی اور ثقافتی ناانصافی کی جا رہی ہے۔
سبق: ہر صوبے اور قوم کو برابر حقوق دینا ضروری ہے۔
2️⃣ سیاست میں جمہوریت اور انصاف
1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی، مگر اقتدار ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔
طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش الٹا نقصان دہ ثابت ہوئی۔
سبق: جمہوریت اور عوامی فیصلے کا احترام نہ کرنا ملک توڑ دیتا ہے۔
3️⃣ فوجی طاقت سب کچھ نہیں
پاکستان آرمی دنیا کی بہادر افواج میں سے ہے، مگر صرف فوجی طاقت قوم کو متحد نہیں رکھ سکتی۔
"پینٹ اُتروانے" کا مطلب
اس ہتھیار ڈالنے کے بعد:
بھارتی فوج نے پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنایا۔
ان سے ہتھیار، بیج، فوجی ٹوپیاں، بوٹ اور بعض جگہوں پر پینٹ تک اُتروالی گئی تاکہ ان کی فوجی شناخت ختم ہو جائے اور وہ ایک عام قیدی کی طرح لگیں۔
یہی وہ بات ہے جو پاکستان کی تاریخ میں بطور طنز بیان کی جاتی ہے کہ:
👉 "1971 میں پاکستانی فوج کی پینٹ اُتروالی گئی تھی۔"
نتیجہ
اس جنگ کے بعد:
پاکستان کا مشرقی حصہ الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔
پاکستانی فوج اور قوم کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ اور شکست تھی۔
یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سے دردناک اور سبق آموز باب ہے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain