وہ اتنا ڈھیر حسین تھا کہ ہم پہ واجب ہے۔
تمام عمر اس کے بچھڑنے کا غم کیا جائے۔
🙂🖤🥀
دل لگی ڈرامے میں جب مہوش حیات ہمائیوں سعید کے کبوتروں کا پنجرہ جان بوجھ کر کھلا چھوڑ دیتی ہے تا کہ وہ اڑ جائیں، اور جب وہ اڑ کر واپس آ جاتے ہیں تو انتہائی حیرانگی کی کیفیت میں ہمایوں سعید سے پوچھتی ہے کہ یہ تو اڑ گئے تھے یہ واپس کیسے آئے۔؟ تو ہمائیوں سعید کہتا ہے کہ ان کو اس بات کا علم ہے کہ یہ پنجرہ ان کی حفاظت کے لیے ہے، ان کی قید کے لیے نہیں۔
کاش یہ بات عورت ذات کو بھی سمجھ آ جائے۔۔۔!۔
خیر۔۔۔!۔
ہم نے کیا چاند کہہ دیا تم کو۔۔🙂
آسماں پر ہی ٹک گئے تم تو۔۔🥀
🙂🥀🖤🌸
تجربات عمروں کے محتاج نہیں ہوتے، کوئی بڑھاپے تک سمجھ نہیں پاتا، کوئی جوانی میں دنیا پرکھ لیتا ہے۔۔
Experience Doesn't Depend On Age, Some Never Understand It Even In Old Age, While Others Grasp The Ways Of The World In Their Youth.
🙂🖤🥀
ہے ستم کوئی چاہیے مجھ کو۔
ویسے کم کوئی چاہیے مجھ کو۔
وقت تھوڑا ہے میرے پاس مگر۔
دم بہ دم کوئی چاہیے مجھ کو۔
کیا ہوا ہے مری طبیعت کو۔
ایک دم کو چاہیے مجھ کو۔
🍁🙂🖤🥀
وہ مجھے یاد کرے ایسا طریقہ نکلے۔۔۔
میری یک طرف محبت کا نتیجہ نکلے۔۔۔
تیری آنکھوں میں دکھائی دے محبت میری۔
بے نمازن تیرے بستے سے مصلہ نکلے۔۔۔
🙂🖤🥀✨
بھرم رکھا ہے تیرے ہجر کا، ورنہ کیا ہوتا ہے۔
میں رونے پے آجاؤں تو جھرنا کیا ہوتا ہے۔
موت تو میری مٹھی میں رہتی ہے اس کی خاطر۔
اس سے بھی آگے جا سکتا ہوں مرنا کیا ہوتا ہے۔
🙂🖤🥀
کیا غضب شخص تھا ہر بات پکڑ لیتا تھا۔۔۔
ایک ملاقات سے اوقات پکڑ لیتا تھا۔۔۔
اب میرا نام بھی لینے سے وہ کرتا ہے گریز۔۔
وہ جو محفل میں میرا ہاتھ پکڑ لیتا تھا۔۔۔
🖤🙂🥀
آپ کا حکم تھا، سرکار۔۔ نہیں ہونے دیا۔۔۔
خود کو دنیا کا طلبگار، نہیں ہونے دیا۔۔۔
ایرے غیرے کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی۔۔
دل کو دل رکھا ہے، بازار نہیں ہونے دیا۔۔۔
🙂❣️🥀🍁
تیرے ہاتھوں سے کسی روز مجھے آگ اگ لگے۔
ایسا سلگوں کہ ہواؤں کی ضرورت نہ پڑے۔
تو نے چاہا جسے وہ اتنا تجھے خوش رکھے۔
تجھ کو میری بھی دعاؤں کی ضرورت نہ پڑے۔
🙂🥀🖤🌸
تیری آنکھیں میرا محور ہیں۔
آنسو تو آنکھ کا زیور ہیں۔
تو روتا پیارا لگتا ہے۔۔۔
کیا غصہ ہے کیا تیور ہیں۔
تو دن میں کتنی بار ہنسا۔
حافی تو یہ بھی گنتا ہے۔
اردو میں بھی ہندی میں بھی۔
تیری فکر ہے، تیری چنتا ہے۔
تیرے ہاتھ میں میری ڈور آئی۔
دھرموں کو پیچھے چھوڑ آئی۔
میں ممبئی سے لاہور آئی۔
مشکل سے بارڈر پار ہوا۔
مجھے لگا کہ تجھ سے پیار ہوا۔
🙂🖤🥀
تمہاری قدر کرتا ہوں تو اس پر ناز مت کرنا۔۔
مجھے تم قتل کر دینا نظر انداز مت کرنا۔۔
وہ اپنے حق میں جو اتنی صفائی دیتا ہے۔۔
اسے کہو کہ ہمیں سب دکھائی دیتا ہے۔۔
🖤🙂🥀🌸
چھوڑ جائیں گے کسی دن یہ بتاتے ہی نہیں۔۔
یہ بتاتے ہی نہیں اپنا بناتے ہوئے لوگ۔۔🙂۔
🖤🌸🥀🙂
سترہ کی عمر سے ہیں سفید بال میرے۔۔
مجھ سے مت پوچھو گھر کا حال میرے۔۔
اچھا لگتا ہے بات کر کے ائینے سے۔۔
بہت ملتے ہیں اس لڑکے سے خیال میرے۔۔
بچپن سے طلب ہے جنت کی اور۔۔
جہنم کے ہیں اعمال میرے۔۔
کم عمر میری اور یہ دھوئیں کا شوق۔
یار سگریٹوں نے دبا دیے گال میرے۔۔
مجھ کو موت آ جائے شاعری سے پہلے۔۔
ورنہ تکلیف دیں گے تجھ کو سوال میرے۔۔
❤️🥀🙂🖤
ہم وہی ہیں خدائے وقت وہی۔
جن کے حصے میں انتظار آیا۔
کتنے بستر بدل کے دیکھ لیے۔
ایک ہی خواب بار بار ایا۔
🥀🙂🖤
کسی کا ہو کے دوبارہ نہ آنا میری طرف۔۔
محبتوں میں حلالہ حرام ہوتا ہے۔۔۔🌸۔
🙂🌸🖤🥀
تجھے یقین تو نہیں مگر یہی سچ ہے۔
میں ترے واسطے عمریں گزار سکتا ہوں۔
یہ نہ سمجھو مجھے جیتنے کی خواہش ہے۔
میں ترے واسطے خود کو بھی ہار سکتا ہوں۔
🖤🌸🥀🙂
میں وہ نہیں جو جسم سے چادر اتار دوں۔
گر تو کہے تو تجھ کو تیرے گھر اتار دوں۔
یہ سر اٹھا اٹھا کے تجھے دیکھتے ہیں جو۔
تو حکم دے تو میں سبھی کے سر اتار دوں۔
🙂🖤🌸🥀
تمہارے بعد میں نصرت کے گیت سنتا ہوں ۔
تو دکھ کے سارے ہی سازوں میں یاد اتا ہے۔
جو پوچھتا ہے دعاؤں میں یاد رکھو گے ۔
وہ شخص مجھ کو نمازوں میں یاد آتا ہے۔
🥀🙂🖤🌸
بانو قدسیہ لکھتی ہیں۔۔۔۔
کہ مرد اگر چھوڑ کر جا رہا ہے تو یقین مانو اس نے لاکھوں بار تمہیں معاف کیا ہوگا ہزاروں بار وہ ٹوٹا ہوگا اور اب وہ خود کو بچا رہا ہے۔۔
وہ جیسے ایک شعر ہے کہ۔۔
انا کو مار دیا اور تمہارے پاؤں پڑا۔🥀۔
اب اس سے بڑھ کے تعلق کی لاج کیا رکھتا۔
🥀۔🙂۔🖤۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain