ارے آپ بھی ہنسنے لگ گئے مجھ پر
مجھے گمان تھا آپ سمجھیں گے
وہی بے بسی ، وہی بندش ، وہی چاہتیں اے زندگی
میں ابھی تلک نہ سمجھ سکا ، تو نصیب ہے کہ نصاب ہے
جو سچ کہوں تو برا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
یہ سماج جہاں کی زد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے
ہم ایسے لوگ جسے رازداں سمجھتے ہیں ۔۔
وہ شخص عشق میں وعدہ معاف ہوتا ہے ۔۔
میں مانتا ہی نہیں دوسری محبت کو ۔۔۔
کبھی شگاف کے اندر شگاف ہوتا ہے؟ ؟؟؟
مرشد پلیز آج مجھے معاف🙏 کیجئے۔
مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا۔
مرشد ہمارے دیس میں اک جنگ جھڑ گئی۔
مرشد سبھی شریف شرافت سے مر گئے
مرشد ہمارے ذہین گرفتار ہو گئے۔
مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہو گئی۔
مرشد ہماری سوچ کیا لڑتی حریف سے۔
مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی۔
مرشد ہمارے پاس بس ایک شخص تھا۔
مرشد وہ ایک شخص بھی تقدیر لے اڑی۔
مرشد محبتوں کے نتائج کہا گئے۔
مرشد میری تو زندگی برباد ہو گئی۔
مرشد ہمارے گاوں کے بچوں نے بھی کہا۔
مرشد تو آکے۔۔ آنکھین ساڈا حال ویکھ جا۔
مرشد ہمارا کوئی نہیں آپ ایک ہیں۔
مرشد میں جانتا ھوں یہ اچھا نہیں ھوا۔
مرشد میں جل رہا ھوں ھوائیں نہ دیجئے۔
مرشد ازالا کیجئے دعائیں نہ دیجئے۔🙏
مرشد خاموش رہ کے پریشان نہ کیجئے۔
مرشد وہاں یزیدیت آگے نکل گئی۔
اور پار سا نماز کے پیچھے پڑے رہے۔
مرشد میں رونا روتے ھوئے اندھا ہو گیا۔
اور آپ ہیں کے آپ کو احساس تک نہیں۔
مرشد میں بھونکدہ ہا کئی شے وی نئی بچی۔
مرشد کسی کے ہاتھ میں سب کچھ تو ہیں مگر۔
مرشد کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی نہی رہا۔
مرشد میں لڑ نہ سکا پر چیختا رہا۔
خاموش رہ کے ظلم کا حامی نہیں بنا۔
مرشد جو میرے یار؟؟ بھلا چھوڑے رہنے دے۔
اچھے تھے جیسے بھی تھے خدا مغفرت کرے۔
مرشد ہماری رونقیں دوری نگل گئی۔
مرشد ہماری دوستی شبہات کھا گئی۔
یہ کس نے کھیل کھیل میں سب کچھ الٹ دیا
مرشد یہ کیا کے مر کے ہمیں زندگی ملے۔
مرشد ہمارے حصے میں کچھ بھی نہیں سو ہم۔
بے موسمی وفات کا دکھ چھوڑ جائے گے۔
مرشد کسی کی ذات سے کوئی گلہ نہیں🙏
اپنا نصیب اپنی خرابی سے مر گیا۔
مرشد وہ جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز ہیں۔
شاید ہمارے ساتھ وہی ہاتھ کر گیا۔
مرشد دعائیں چھوڑ تیرا پول کھل گیا۔
تو بھی میری طرح ہیں تیرے بس میں کچھ نہیں۔
تمھیں جب کبھی ملے فرصتے میرے دل سے بوجھ اتار دو۔
میں بہت دنوں سے اداس ھو مجھے کوئی شام ادھار دو۔
مجھے اپنے رنگ کی دھوپ دو کے چمک سکے میرے خالو خند۔
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو میرے سارے رنگ اتار دو۔
میری وحشتوں کو بڑھا دیا ہیں جدائیوں کے عذاب نے۔
میرے دل پہ ہاتھ رکھوں زرہ میری ڈھرکنوں کو قرار دوں۔
کیا اسلئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے۔
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے۔
کسی سے مل نہ سکو تو خدا کا شکر کروں۔
کسی سے مل کر بچھڑنا بڑی اذیت ہیں۔
تو ہنستا ہیں میرے اعصاب کی کمزوری پر۔
تو اپنے کسی خاص کو کبھی کھو تو سہی
مُجھے دیکھنا ہے جِس نے، میرے حال پر نہ جائے !
۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ذوق و شوق دیکھے.....میرا انتخاب دیکھے
زرا جلدی کر میرے پیر سائیں
وہ ہاتھ چھڑانے والا ہے ،مجھے چھوڑ کے جانے والا ہے
کوئی انتر منتر پھونک ابھی ،مجھے دے کچھ گھول کے پانی میں
کوئی جادو ٹونہ کر سائیں ،کوئی دے تعویز محبت کا
کچھ ایسے کر کچھ ویسے کر ، کوئی چلہ ولّہ کاٹ سائیں
کچھ کر تُو جیسے تیسے کر ، اب میری خوشیاں ہاتھ تیرے
کوئی اور اسے نہ لے جائے ،وہ ایک اکیلا جگ میں ہے
میں جان و دل ہوں وار چکی ، وہ جیت چکا سب جیت چکا
اور میں کہ خود کو ہار چکی ، سائیں دیکھ میں پہلے تنہا ہوں
اور چھوڑ کے وہ بھی چل نکلے ،میری مشکل کا نہ حل نکلے
یہ بات میں سہہ نہ پاؤں گی ،میں جیتے جی میں مر جاؤں گی
وقت ٹھہرا ہے سانس جاری ہے
بس ترے بعد یوں گزاری ہے
کسی آہٹ پہ چونکنا کیسا
جب ہے معلوم، بے قراری ہے
اور تو کچھ نہیں اثاثے میں
ایک بیکار سی اداسی ہے
ہم جو تیرے بغیر زندہ ہیں
سب دکھاوا ہے دنیا داری ہے
محبت ہو بھی جائے تو
میرا یہ بخت ایسا ہے
جہاں پر ہاتھ میں رکھ دوں
وہاں پر درد بڑھ جاۓ
محبت سرد پڑ جائے
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺩﻋﻮﯼ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻧﺒﺾ ﺷﻨﺎﺱ ﮨﻮﮞ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﮐﮯ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍﺱہوں
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺘﺎﺏ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﮟ ﻭﺭﻕ ﻭﺭﻕ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ
ﺗﯿﺮﮮ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﺗﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮں
ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻏﻢ ﻧﮩﯿﮟ
ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﺭﻭﺯ کے
ﺗﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺩﺍﺱ ﮨﻮں
کوشش تو اس نے کی کہ مجھے موم کر سکے
سب رائیگاں، فضول، نہیں کر سکا مجھے
میں چاہتی تھی چاہے مجھے خامیوں سمیت
کم ظرف تھا، قبول نہیں کر سکا مجھے
آپ تو بتاتے تھے ہجر ایک نعمت ہے
قربتِ مسلسل میں اک ذرا سا وقفہ ہے
مستقل پڑاؤ میں بوریت سی رہتی ہے
ہجر اک سفر سا ہے
بس یہ مختصر سا ہے
ساتھ ہے ہمیشہ کا
ہجر چند گھڑی کا ہے
چٹکیوں میں گزرے گا کیونکہ وصل حائل ہے
آپ ساتھ ہو کر بھی ہجر سے نوازیں گے
یہ نہیں بتایا تھا
مجھ سے بھی چھپایا تھا
کچھ بھی کیا ہو ہم نے کہیں بھی گئے ہوں ہم
حد سے تمہاری یاد کی باہر گئے ہیں کیا؟؟
تیری امید ترک ،تیرے خواب عاق ۔
تیری یادوں کو اکھٹی تین طلاق
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain