Damadam.pk
Maya_324's posts | Damadam

Maya_324's posts:

Maya_324
 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Maya_324
 

انتخاب
باہمی رَبط میں رَنجِش بھی مَزا دیتی ہے
بَس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
صبا اکبرآبادی

Maya_324
 

اس کی یادیں ہیں کُل اثاثہ مرا
جنُ کو اب تک سنبھال رکھا ہے
سجل کانپوری

Maya_324
 

ساتھ اس کو میرے رہنا مناسب نہیں لگا
سو اس نے کر دیا ہے تعلق کا خاتمہ
سجل کانپوری

Maya_324
 

ہمارے حصے میں آسان کچھ نہیں آیا
ہمیں تو سیکھ بھی حاصل ہوئی مشقت سے
سجل کانپورری

Maya_324
 

نیند آنکھوں سے ہو گئی اوجھل
اک بدن تن پہ ہے سوار ایسا
سجل کانپوری

Maya_324
 

کچھ تغیر تو خود میں لائیں آپ
سال آئیں گے سال جائیں گے
سجل کانپوری

Maya_324
 

کچھ پہروں، کچھ گھنٹوں، کچھ منٹوں اور کچھ لمحوں بعد بدلنے والنے بے بدل ہندسے کے توسل سے سچی بات کیونکہ سچائی اور ایمانداری انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے ـ
مَیں اداس لمحوں کی مدت کو گٹھانے کے لیے اس سوشل سائیٹ پہ آ جاتا ہوں یہاں عجیب عجیب خیالات پالے ہوئے نوابزادے اور نوابزادیاں موجود ہیں ان کے حالات دیکھ کے دل سے ہنسی آتی ہے اور ساتھ ہی ان کی عقل پہ ماتم کو دل کرتا ہے پر خیر سب کا اپنا معیار اپنی نہج ـ
باقی جو سجلؔ سے جلتے اور سڑتے ہیں اس کا سبب ان کی اپنی گھٹیا سوچ ہے اور کچھ نہیں ـ
سجل کانپوری

Maya_324
 

خوش "نئے سال" پر ہوا ہوں کہ پھر
سال سارا، اداس رہنا ہے
سجل کانپوری
:-)

Maya_324
 

ہم کو صورت کا نہ بتلاؤ سجل
پاس سیرت ہے تو دکھلاؤ ہمیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

تمھیں کس کس کا بتاؤں کہ ہر اک
نیچ پایا ہے دمادم پہ مَیں نے
سجل کانپوری

Maya_324
 

بس ایک دکھ لیے جائیں کے رب کے پاس سجلؔ
رفاقتوں نے مسلسل ہی آزمائشیں دیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

ہر صاحب ایمان کو اس کے عقیدے اور اس کی کتاب کے مطابق بتول زادے کی آمد مبارک ہو
آمد عیسی علیہ السلام مبارک.n5

Maya_324
 

فی البدیہہ اور سچا شعر
ـ
پا لوں منزل کو مشقت کے بنا
ہوں خوشاقسمت، مگر اتنا نہیں
ـ
سجل کانپوری

Maya_324
 

کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ مَیں اس سائیٹ کا صارف کیوں بنا
خیر.....

Maya_324
 

سوچ اچھی رکھی مگر پھر بھی
لوگ گھٹیا ہی سب ملے ہم کو
سجل کانپوری

Maya_324
 

یہ سبب ہے بس تعلق کا
آپ کے سنسکار بھائے ہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

مَیں سمجھتا ہوں رازِ جام و سبو
جونجتا ہوں مَیں غم کی موجوں سے
سجل کانپوری

Maya_324
 

ہر ظلم دیکھتی ہیں، نگاہے خموش سے
سانسیں بھی چشم دید گواہوں کی طرح ہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

فی البدیہہ
اب اپنے من کی سن کے چلوں راستہ الگ
راہ اس کی دیکھنا تو ضروری نہیں رہا
سجل کانپوری