انتخاب
رنگ بکھریں گے تو فریاد کرے گی خوشبو
تم کسی پھول کو چٹکی سے مسل کر دیکھو
ڈاکٹر نسیم نکہت (مرحومہ)ـ
مجھ کو حوروں کی ضرورت ہی نہیں
ایک دیوی ہے مرے جیون میں
سجل کانپوری
آپ لوگوں کو میرا شکریہ ادا کرنا چاہئیے کہ سترہ سالہ دیوی کے ہوتے ہوئے یہاں آپ کو درشن دینے چلا آتا ہوں

کچھ بھی کہتا پھرے وہ خود کو مگر
یُوگِتَا اس کی جانتا ہوں مَیں
سجل کانپوری
مَیں جو واقف ترے معیار سے ہوں
تیرے نخروں پہ ہنسی آتی ہے
سجل کانپوری
فی البدیہہ شعر
آپ کے جیسا رویہ کیوں رکھیں
فرق کچھ تو ہو ہمارے درمیان
ـ
سجل کانپوری
فقط اک کن کی کرامت ہو سجل
اور اس کے سوا کیا مانگیں گے
ـ
سجل کانپوری
آنکھیں سوکھی رہیں آنسو نہ بہے
دشتِ ظلمت مِیں بھی تنہا رہا مَیں
ـ
سجل کانپوری
آئے پھر وہ نظر ایسے کہ ہمیں ـ
دل میں پھر سے جگہ دینی پڑی ہے ـ
سجل کانپوری
فی البدیہہ شعر
ـ
ایک خواہش ہے دلِ ناداں کی
تم بھی پہلو میں رہو غم کی طرح
ـ
سجل کانپوری
اک اشارہ ہے سمجھنے والوں کو ـ
مجھ سے الجھو مت پریشانی ہو گی ـ
سجل کانپوری
وہ منافق بھی نہیں اور نہ مخلص ہے سجل
بیچ کی راہ رہی اس کا ٹھکانہ لوگو
سجل کانپوری
سہلِ ممتنع
وہ معافی کا طلبگار رہا
اور ہم نے اسے معاف کِیا
سجل کانپوری
میں بے وجہ ہی اس کو سمجھتا تھا ہم مزاج
جاتے ہوئے وہ شخص حقیقت بتا گیا
سجل کانپوری
کپڑے کو جتنا کھینچو گے اتنا پھٹے گا
آئنہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
سلیم کوثر