جس طرح سینۂ صحرا پہ ہو دریا جاتا رقص کرتا دلِ وحشی ، کبھی گاتا جاتا ماتمِ عشق پہ مامور ہوۓ دیدۂ و دل موسمِ سنگِ ملا مت نہیں جھیلا جاتا رات آتی ہے تو لگتا ھے کہ جاں جاتی ہے چشمِ برباد سے اِک پل نہیں سویا جاتا اب ہمیں موسمِ جاں خود میں مگن رکھتا ہے یاد میں تیری بہت د ن نہیں رویا جاتا تم کہاں سے کویٔ تعبیر چُرا لاؤ گے تم سے تو خواب دریچہ نہیں کھولا جاتا وحشتِ عشق میں کویٔ تو زیاں ہونا تھا اپنی آنکھیں جو بچا لیتے تو چہرہ جاتا نوشی گیلانی
ہماری شکل اب اول تو پہچانی نہیں جاتی کوئی پہچان لے تو اس کی حیرانی نہیں جاتی مسلسل ہی یہیں پر ہے تعلق اتنا گہرا ہے میں خود باہر چلا جاتا ہوں ویرانی نہیں جاتی تمہاری بات رد کرنے کا سوچا تھا نہ سوچا ہے میں اب بھی مان لیتا مجھ سے اب مانی نہیں جاتی میں جتنے توڑتا ہوں روز اتنے اور بنتے ہیں میری آنکھوں سے خوابوں کی فراوانی نہیں جاتی مجھے جو کچھ بتانا تھا وہ چپ رہ کر بتایا ہے مگر شاید یہاں چپ کی زباں جانی نہیں جاتی Most read last lines
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا،کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا مجھے جا بجا تری جسُتجُو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوُبکو کہاں کھل سکا ترے رو بُرو ،مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا کبھی عرش پر تجھے دیکھنا ،کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا تری یاد آئی تو رو دیا ، جو توُ مل گیا تجھے کھو دیا میرے سلسلے بھی عجیب ہیں،تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا یہ مری غزل کا کمال ہے کہ تری نظر کا جمال ہے تجھے شعر شعر میں سوچنا، سر بام ودر تجھے ڈھونڈنا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain