مجھے وہ جب بھی کسی کام سے پکارتا ہے
تو اپنے رکھے ہوئے نام سے پکارتا ہے
جھگڑتے وقت میں غصے میں جلد آتی ہوں
میں چیختی ہوں وہ آرام سے پکارتا ہے
ادھر یہ روشنی پڑتی ہے پاوں کمرے میں
ادھر اندھیرا درو بام سے پکارتا ہے
قریب تھا تو میری بے بسی پہ ہنستا تھا
جدا ہوا ہے تو ہر گام سے پکارتا ہے
میں اس کی باتوں میں آئی نہ آنے والی ہوں
یہ دشت حسرت - ناکام سے پکارتا ہے
سنائی دیتی ہے کومل صدائے "کن" ، "فیکون"
جو عشق روزن - الہام سے پکارتا ہے....
کومل جوئیہ.
دَم بہ دَم گردش ِ دوراں کا گھْمایا ہُوا شخص
ایک دن حشر اْٹھاتا ہے گِرایا ہُوا شخص
میں تو خود پر بھی کفایت سے اْسے خرچ کروں
وہ ہے منہگائ میں مشکل سے کمایا ہُوا شخص
یاد آتا ہے تو آتا ہی چلا جاتا ہے
کار ِ بے کار ِ زمانہ میں بُھلایا ہُوا شخص
دشت ِ بے آب میں آواز نہ الفاظ کہیں
ہر طرف دھوپ تھی' پھر پیڑ کا سایہ ہُوا شخص !
جب ضرورت تھی' اْسی وقت مجھے کیوں نہ مِلا
بس ! اِسی ضِد میں گنوا بیٹھوں گا پایا ہُوا شخص
کیا عجب خوان ِ مقّدر ہی اْٹھا کر پھینکے
ڈانٹ کر خوان ِ مقّدر سے اْٹھایا ہُوا شخص
اپنی شوریدہ مزاجی کا کروں کیا نیّر !
رْوٹھ کے جا بھی چْکا مان کے آیا ہُوا شخص "
( شہزاد نیّر
جن کو دعٰوہ تھا تمام عمر ساتھ دینے کا
بچھڑ کے ان کا کوٸ پیغام تک نہیں آیا
عکس خوشُبُو
وہ جس کی ایک پل کی بے رخی بھی دل کو ہار تھی
اسے خود اپنے ھاتھ سے لکھا ہے مجھ کو بھول جا
پروین شاکر
ﮐﮩﺎﮞ ﻣﺮﺯﺍ ، ﺭﺍﻧﺠﮭﺎ ، ﻗﯿﺲ ﮔﺌﮯ ؟
ﮐﯿﻮﮞ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ ﮐﺎﻝ ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﻋﺎﻟﻢ ِ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺪ ﮐﺮﺍ
ﻧﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﮯ ﭨﺎﻝ ﺳﺎﺋﯿﮟ
ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ِ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺁ ﺋﮯ
ﻧﮧ ﺩﻡ ، ﺗﻌﻮﯾﺬ ﻧﮧ ﻓﺎﻝ ﺳﺎﺋﯿﮟ
تیرے ہجر کی نوحہ گری ہو سکتی اگرہم سے!
ہم ایک عالم کو تیرے ہجر میں نمدیدہ لکھتے
قدموں تلے پتوں کی چرمراہٹ پر
اپنی ذات فانی کا ..
بہت چپ چاپ بہت خاموش سا قصیدہ لکھتے
گر لکھ سکتے ہم.... تو
شوخیء دو جہاں کو سنجیدہ لکھتے
سارے جہاں کی خوشیوں کواکٹھا کرتے
پھر بیٹھ کر انھیں رنجیدہ لکھتے
ہم اگرلکھتے ..
تو اپنی آنکھوں کو سمندر لکھتے
اس کے پانیوں کو شوریدہ کہتے
ان کی پلکوں کو جھیلیں...
اس کے ساحلوں کو آبدیدہ لکھتے
بے بسی فقط اتنی ہے جاناں ...
تیرے ہجر کی نوحہ گری ہوتی نہیں ہم سے
نیچے انگیزی کا ایک جملہ لکھا ہے۔ یہ ایک اعصابی (نیورولوجیکل) ٹیسٹ ہے۔
ابتدائی الفاظ مشکل لگیں گے لیکن آگے بڑھنے پر آپ محسوس کرینگے کہ آپ انگریزی سے ملتی جلتی اس بھاشا سے واقف ہیں۔
انسانی ذہن کتنی جلدی ماحول سے مطابقت پیدا کرتا ہے، یہ اعصابی ٹیسٹ اس بات کا ثبوت ہے۔ جبھی اسے اشرف المخلوقات کہتے ہیں!
---
7H15 M3554G3 53RV35 7O PR0V3:
H0W 0UR M1ND5 C4N D0 4M4Z1NG 7H1NG5! 1MPR3551V3 7H1NG5!
1N 7H3 B3G1NN1NG, 17 WA5 H4RD BU7 N0W, 0N 7H15 LIN3, Y0UR M1ND 1S R34D1NG 17 4U70M471C4LLY W17H0U7 3V3N 7H1NK1NG 4B0U7 17.
B3 PROUD! 0NLY C3R741N P30PL3 C4N R3AD 7H15!
PL3453 F0RW4RD 1F U C4N R34D 7H15!
---
Note:
If you can read this without error, your mind is still young and you are free from Parkinson.
Congrats!
ہجر کا تارا ڈُوب چلا ہے ڈھلنے لگی ہے رات وصی
قطرہ قطرہ برس رہی ہے اُشکوں کی برسات وصی
تیرے بعد یہ دنیا والے مجھ کو پاگل کر دیں گے
خوشبو کے دیس میں مجھ کو لے چل اپنے ساتھ وصی
یُونہی چُھپ کی مُہر لگا کر کب تک گُم سُم بیٹھو گے؟
خاموشی سے دم گُھٹتا ہے چھیڑو کوئی بات وصی
چُھوڑ وصی اب اس کی یادیں تُجھ کو پاگل کر دیں گی
تُو قطرہ ہے وہ دریا ہے دیکھ اپنی اُوقات وصی
وصی شاہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain