اُداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا وہ چاہتا ، تو مِرے ساتھ چل بھی سکتا تھا وہ شخص! تُو نے جسے چھوڑنے میں جلدی کی تِرے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا وہ جلدباز! خفا ہو کے چل دِیا، ورنہ تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دِیا ، ورنہ مِری دُعا سے، وہ پتّھر پگھل بھی سکتا تھا تمام عُمر تِرا منتظر رہا مُحسن یہ اور بات کہ ، رستہ بدل بھی سکتا تھا مُحسؔن نقوی
زخم وہ دل پہ لگا ہے کہ دکھائے نہ بنے اور چاہیں کہ چھپا لیں تو چھپائے نہ بنے ہائے بےچارگئ عشق، کہ اس محفل میں سر جھکائے نہ بنے، آنکھ اٹھائے نہ بنے یہ سمجھ لو کہ غمِ عشق کی تکمیل ہوئی ہوش میں آ کے بھی جب ہوش میں آئے نہ بنے کس قدر حسن بھی مجبورِ کشاکش ہے کہ آہ منہ چھپائے نہ بنے،۔۔ سامنے آئے نہ بنے ہائے وہ عالمِ پُر شوق کہ جس وقت جگرؔ اسکی تصویر بھی سینے سے لگائے نہ بنے جگر مراد آبادی
سامنے اسکے کبھی اسکی ستائش نہیں کی، دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی، اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا؟ ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پرسش نہیں کی، جس قدر اس سے تعلق تھا چلے جاتا ہے، اسکا کیا رنج کہ جس نے کبھی خواہش نہیں کی یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی احمد فراز
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا کچھ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے کچھ زہر میں بُجھا تھا احباب کا دلاسا پھر یوں ہوا کے ساون آنکھوں میں آ بسے تھے پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا ہم نے بھی اُس کو دیکھا کل شام ااتفاقاً اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا
اسے کہنا قسم لے لو !تمہارے بعد جو ہم نے کوئی دل میں بسایا ہوکوئی اپنا بنایا ہو....! کوئی روٹھا ہو تو ہم نےاسے رو رو منایا ہو ! کسی کی یاد کا موسم میرے آنگن میں آیا ہو ! اسے کہنا! قسم لے لو کسی سے بات کرنے کوکبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں کسی کی بے وفائی پرکبھی یہ نین برسے ہوں ! کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر تیرے دکھ میں نہ روۓ ہوں اسے کہنا! قسم لے لوکبھی جگنو، کبھی تارا کبھی ماہتاب دیکھا ہواسے کہنا! قسم لے لو تمہارے بعد ہم نےجو کسی کا خواب دیکھا ہو اسے کہنا قسم لے لو__!!
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain