مُرشِد ، تھا جس کا ڈر
وہی بات ہو گی۔۔۔۔
مُرشِد ، میری سنو ، کہ مجھے مات ہو گئی۔۔۔
مُرشِد ، میرے تو جذبے،سارے ہی ،، بیان تھے۔۔۔
مُرشِد ، اُسی کے ساتھ ،،میرے ،، دو جہان تھے۔۔۔
مُرشِد ، خوشی ملی بھی تو،،
آ کر ،،،،، پلٹ گئی ۔۔۔۔۔
مُرشِد ، میرے نصیب پر ،،سیاہی ،،، اُلٹ گئی ۔۔
مُرشِد ، کُچھ اور بولوں اب
جرات ،،، نہیں رہی ۔۔۔!!
مُرشِد ، تسلیوں کی ،،،ضرورت ،،، نہیں رہی ۔۔!!
مُرشِد ، اب زندگی میں ،
سویرا ،، نہیں رہا ۔۔۔
مُرشِد ، جو میرا تھا وہ ،میرا ،،،، نہیں رہا ۔۔
مُرشِد ، وہ میرا ۔۔ کہتے
میری بات رُک گئی !
مُرشِد ، لکھے کے آگے ،میری ذات ، جُھک گئی !
مُرشِد ، یہ میرے سر کی ، بلائیں ،، نہیں گئیں ۔۔۔۔۔۔۔مُرشِد ، عرش سے پار ،،،
دُعائیں ،، نہیں گئیں ۔۔۔۔!!
ہجر کے مستقل عذاب میں ہوں
میں ابھی تک تمہارے خواب میں ہوں
وہ بہت پُرسکون ہے فرحت
اور میں ہوں کہ اضطراب میں ہوں
ایک مدت گزر گئی ہے مجھے
میں تری ذات کے سراب میں ہوں
اپنے ہی آنسوؤں کا قیدی ہوں
ایک مدت سے شہرِ آب میں ہوں
جیسے دکھ ہوں مگر ہوں سینے میں
جیسے پانی ہوں اور سحاب میں ہوں
فرحت عباس شاہ
(کتاب: شام کے بعد - سوم)
ہم کبھی شہرِ دوستی جو بسانےلگ جائیں
کبھی طوفان کبھی زلزلے آنے لگ جائیں
کبھی اک لمحہ فرصت کا جو میّسر آجائے
سوچیں مجھے سُولی پہ چڑھانے لگ جائیں
رات کا رنگ کبھی اور بھی گہرا ہو جائے
کبھی آثار سحر کے نظر آنے لگ جائیں
انتظار اُس کا نہ اتنا بھی زیادہ کرنا
کیا خبر برف پگھلنے میں زمانے لگ جائیں
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں تجھے دن میں ہم لوگ
شب کو کاغذ پہ تیرا چہرا بنانے لگ جائیں
ہم بھی کیا اہلِ قلم ہیں کہ بیاضِ دل پر
خود ہی اک نام لکھیں خود ہی مٹانے لگ جائیں
وہ ہمیں بھولنا چاہیں تو بُھلا دیں پل میں
ہم انہیں بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جایئں
اُن مکانوں پہ خدا اپنا کرم فرمائے
جن میں خود اُن کے مکیں نقب لگانے لگ جائیں
گھرمیں بیٹھوں تواندھیرے مجھے نوچیں بیدل
باہر آؤں تو اُجالے مجھے کھانے لگ جائیں
مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دل
درد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دل
میری طرح خدا کرے تیرا کسی پے آئے دل
تو بھی جگر کو تھام کے کہتا پھرے کہ ہائےدل
غنچہ سمجھ کے لے لیا چُٹکی سے یوں مسل دیا
ان کا تو اک کھیل تھا لُٹ گیا میرا ہائے دل
روندو نہ میری قبر کو اس میں دبی ہیں حسرتیں
رکھنا قدم سنبھال کر دیکھو کُچل نہ جائے دل
عاشقِ نامراد کی قبر پہ تھا لکھا ہںوا
جس کو ہںو زندگی عزیز وہ نہ کہیں لگائے دل
پوچھتے کیا ہںو میرے غم ملتے ہیں بے وفا صنم
چھوڑو بُتوں کی دوستی دیتا یہی ہںے رائے دل
محبت کب سمجھتی ہے۔۔؟
کہ کوئی توڑ ڈالے گا۔۔
محبت کب سمجھتی ہے۔۔؟
کہ کوئی دشتِ وحشت ہے
جو خوابوں میں بسی
آنکھوں کو جانے کب کہاں
جھنجھوڑ ڈالے گا۔۔
محبت کب سمجھتی ہے۔۔؟
کہ جو شفاف رستے ہیں
درِ منزل پہ رکتے ہیں
تھکن تحفہ نہیں دیں گے
کہیں بھٹکا نہیں دیں گے۔۔
محبت کب سمجھتی ہے۔۔؟
کوئی دکھ درد کی جانب
اسے نہ موڑ ڈالے گا
محبت کب سمجھتی ہے۔۔؟
کہ اگر کوئی توڑ ڈالے گا
💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞
💞ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞
💞کِسے عِشق تھا تیری ذات سے💞
💞کِسے پیار تھا تیرے نام سے💞
💞ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا 💞
💞جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا 💞
💞وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے💞
💞وہ جو مر مٹا تیرے نام پے💞
💞ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ💞
💞کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ💞
💞مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟💞
💞گئے ہم دعا ؤ سلام سے💞
*💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞*
*💞ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞
کبھی کبھی یاد میں اُبھرتے ہیں نقشِ ماضی مٹے مٹے سے
وہ آزمائش دل و نظر کی، وہ قُربتیں سی، وہ فاصلے سے
کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں، آ کے رُکتے ہیں قافلے سے
وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی، وہ سارے عُنواں وصال کے سے
نگاہ و دل کو قرار کیسا، نشاط و غم میں کمی کہاں کی
وہ جب ملے ہیں تو اُن سے ہر بار، کی ہے الفت نئے سرے سے
بہت گراں ہے یہ عیشِ تنہا، کہیں سبک تر، کہیں گوارا
وہ دردِ پنہاں کہ ساری دنیا، رفیق تھی جس کے واسطے سے
تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون سا فرق ایسا
یہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں، وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے
فیض احمد فیضؔ
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ہے
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر تیرا انتظار کرنا ہے
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسوؤں کے چراغ
کبھی یہ جشن سَرِ راہ گزر کرنا ہے
وہ مسکرا کے نئے وسوسوں میں ڈال گیا
خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ہے
مثالِ شاخِ بہاراں خزاں کی رُت میں کبھی
خود اپنے جسم کو باغ و بہار کرنا ہے
تیرے فراق میں دِن کس طرح کٹتے اپنے
کہ شغلِ شب تو ستارے شمار کرنا ہے
چلو یہ اشک ہی موتی سمجھ کے بیچ آئیں
کسی طرح تو ہمیں روزگار کرنا ہے
کبھی تو دِل میں چُھپے زخم بھی نمایاں ہوں
قَبا سمجھ کے بدن تار تار کرنا ہے
خدا خبر یہ کوئی ضِد کہ شوق ہے محسن
خود اپنی جان کے دشمن سے پیار کرنا ہے
محسن نقوی
جانتے تو ہم بھی تھے !
جانتے تو ھم بھی تھے
مانتے تو ھم بھی ہیں
اتنی تیز آندھی میں
کب چراغ جلتا ہے؟
دل مگر مچلتا ہے
دل کی ضد کو کیا کہیۓ !
اب کے ہم نے سوچا ہے
کم نفس چراغوں میں
اک چراغ ایسا بھی
جل کے ہم جلائیں گے
تند خو ہوائیں بھی
اس کو جب بجھائیں گی
دل بھی بجھ ہی جاۓ گا.......!!
محسن نقوی
اتنے بے جان سہارے تو نہیں ہوتے ناں
درد دریا کے کنارے تو نہیں ہوتے ناں !
رنجشیں ہجر کا معیار گھٹا دیتی ہیں !
روٹھ جانے سے گزارے تو نہیں ہوتے ناں
راس رہتی ہے محبت بھی کئی لوگوں کو !
وہ بھی عرشوں سے اُتارے تو نہیں ہوتے ناں
ہونٹ سینے سے کہاں بات چھپی رہتی ہے
بند آنکھوں سے اشارے تو نہیں ہوتے ناں
ہجر تو اور محبت کو بڑھا دیتا ہے !
اب محبت میں خسارے تو نہیں ہوتے ناں
پس اک شخص ہی ہوتا ہے متاعِ جاں بھی !
دل میں اب لوگ بھی سارے تو نہیں ہوتے ناں
دکھ دے کر_________ سوال کرتے ہو.!!!*____**❤
*تم بھی غالب _______! کمال کرتے ہو.!!!*_*____**❤
*دیکھ کر_______ پوچھ لیا حال میرا.!!!*____**❤
*چلو کچھ تو ________خیال کرتے ہو.!!!*_*____**❤
دل میں____ یہ اُداسیاں کیسی.!!!*____**❤
*یہ بھی___ مجھ سے سوال کرتے ہو.!!!* ____**❤
*مرنا چاہیں تو______ مر نہیں سکتے.!!!*____**❤
*تم بھی_______ جینا مُحال کرتے ہو.!!!*____**❤
*اب کس کس کی مثال دوں__ تم کو.!!!*____**❤
*ہر ستـم بـے مثـال ________کرتے ہو.!!!*_*____*
رابطے بھی رکھتا ہوں راستے بھی رکھتا ہوں
لوگوں سے بھی ملتا ہوں فاصلے بھی رکھتا ہوں
غم نہیں ہوں کرتا اب، چھوڑ جانے والوں کا
توڑ کر تعلق میں، در کھلے بھی رکھتا ہوں
موسموں کی گردش سے میں ہوں اب نکل آیا
یاد پر خزاؤں کے حادثے بھی رکھتا ہوں
خود کو ہے اگر بدلا وقت کے مطابق تو
وقت کو بدلنے کے حوصلے بھی رکھتا ہوں
بھر کے بھول جاتے ہیں گھاؤ فکر ہے مجھ کو
زخم کچھ پرانے سو ان سلے بھی رکھتا ہوں
گو کسی بھی منزل کی اب نہیں طلب مجھ کو
ہر گھڑی میں پیروں میں، آبلے بھی رکھتا ہوں
مانتا ہوں ابرک میں، بات یار لوگوں کی
سوچ کے مگر اپنے، زاویے بھی رکھتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک
💞غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں💕
♥️تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں💞
♥️نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا💞
💞یو لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں,💯...💕💞💞
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain