احساسوں میں جب ہم مرنے لگتے ہیں
تب کاغذ پر زخم ابھرنے لگتے ہیں
خود کے سائے جب دیتے ہیں تکلیفیں
گھر کی دیواروں سے ڈرنے لگتے ہیں
یہ بھی ہوتا ہے اکثر تنہائی میں
خود کی باتیں خود سے کرنے لگتے ہیں
حوصلے پل میں یاد سبھی آ جاتے ہیں
دریا کے جب پار اترنے لگتے ہیں
جینے سے مرنا ہی لگتا ہے بہتر
لمحہ لمحہ جب ہم مرنے لگتے ہیں
خود ہی روگ لگایا ہم نے الفت کا
کیوں الزام کسی پہ دھرنے لگتے ہیں
جن کو کھو کر اک پل جینا مشکل ہو
ہم سے کیوں وہ لوگ بچھڑنے لگتے ہیں
جاگتی آنکھوں سے جو سپنے دیکھتے ہیں
رات کو اکثر خواب میں ڈرنے لگتے ہیں
خالی کر کے دل کو اسکی یادوں سے
پھر سے اسکی یاد سے بھرنے لگتے ہیں
خواب میں اس کے آنے کی امید لگی
سحر اٹھو ہم خوب سنورنے لگتے ہیں
معزز بن کے محفل میں اداکاری نہیں کرتی
میں چہرے پہ کبھی جھوٹی انا طاری نہیں کرتی
میرا دشمن میرے دستور سے واقف نہیں شاید
جسے میں دوست کہہ دوں اس سے غداری نہیں کرتی
مجھے موقع شناسی کا ہنر آیا نہیں اب تک
جہاں مطلب نکلتا ہو تو سمجھداری نہیں کرتی
قُرب کے نہ، جفا کے ہوتے ہیں
سارے جھگڑے انا کے ہوتے ہیں
بات نیت کی ہے صرف ورنہ!
وقت سارے دُعا کے ہوتے ہیں
بھول جاتے ہیں، مت بُرا کہنا
لوگ پُتلے خطا کے ہوتے ہیں
وہ جو بظاہر کُچھ نہیں لگتے
اُن سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں
وہ ہمارا ہے، اِس طرح سے فیض!
جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں۔
چاہ کر بھی پوچھ نہیں پاتے حال ان کا. 💔
ڈرتے ہیں کہی کہہ نہ دیں تمہیں یہ حق کس نے دیا
چلو میں مان لیتی ہوں تمہارا جانا ضروری ہے
تو کیا یہ بھی ضروری ہے کہ رشتے توڑ کے جاٶ
چلو یہ فرض بھی کر لوں مجھے تم چھوڑ جاٶگے
تو کیا ایسا بھی ممکن ہے مجھے تم بھول بھی جاٶ
تعلق توڑ دینے سے..........کسی کو چھوڑ دینے سے
رفاقت ڈر نہیں جاتی .......محبت مر نہیں جاتی
سنو ناراض ہو ہم سےمگر ہم وہ ہیں
جن کو تو منانا بھی نہیں آتا
کسی نے آج تک ہم سے محبت جو نہیں کی ہے
محبت کس طرح ہوتی ہے
ہمارے شہر کے اطراف میں تو سخت پہرا تھا
خزاؤں کااور اُس کی فصیلیں زرد بیلوں سے لدی ہیں اور اُن میں نہ کوئی خوشبو
نہ کوئی ُُپھول تم جیسا
کہ مہک اُٹھتے ہمارے دل وجاں
جس کی قربت سے
ہم ایسے شہرِ پریشاں کی ویراں گلیوں میں
کسی سُوکھے ہوئے زرد پتے کی طرح تھے
کہ جب ظالم ہَوا
جب ہم پر اپنے قدم رکھتی تھی
تو اُس کے پاؤں کی نیچے ہمارا دَم نکل جاتامگر پت جھڑ کا وہ موسم سُنا ہےٹل چکا اب تو
مگر جو ہار ہونا تھی
سو وہ تو ہو چکی ہم کو
سنو۔ !
ہارے ہوئےلوگوں سے تو رُوٹھا نہیں کرتے
یونہی تو نہ سر بازار بیٹھا ہوں
لٹا کے عشق میں گھر بار بیٹھا ہوں
اب جو زمانے سے ہمکنار بیٹھا ہوں
شاید خود سے ہی بیزار بیٹھا ہوں
گو غالب کی طرح اب میں بھی
عشق میں ہو کے بیکار بیٹھا ہوں
درپیش ذات مجھکو ہے میری ہی
اپنے رستے میں بن کے دیوار بیٹھا ہوں
کیا بتاوں جیت کر انا کی جنگ
جانے کیا کیا میں ہار بیٹھا ہوں
تیری یاد ہی جینے کا اک سہارا تھی
آج اس کو بھی مار بیٹھا ہوں
مانا کہ ہے نظر کرم تیری جہاں پہ
ادھر بھی دیکھ میں بھی حقدار بیٹھا ہوں
رنجِ فراقِ یار میں ــ رُسوا نہیں ہوا
اِتنا مَیں چُپ ہُوا ــ کہ تماشا نہیں ہوا
*
ایسا سفر ہے ـ ـ جس میں کوئی ہمسفر نہیں
رستہ ہے اِس طرح کا ــ جو دیکھا نہیں ہوا
*
مشکل ہُوا ہے ـ ـ رہنا ہمیں اِس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں ــ یہ اپنا نہیں ہوا
*
وہ کام شاہِ شہر سے ـ ـ یا شہر سے ہُوا
جو کام بھی ہُوا ہے ــ وہ اچھا نہیں ہوا
*
مِلنا تھا ایک بار اُسے ـ ـ پھر کہیں مُنیرؔ
ایسا میں چاہتا تھا ــ پر ایسا نہیں ہوا
شاعر : مُنیرؔ نیازی
میں چاہتی ہوں کہ...
میں مر جاوں..!!
ہاں..!!
میں چاہتی ہوں کہ میں مر جاوں..!!
اور میری موت کی خبر اس تک پہنچے تو...!!
اسکا دل کانپ جائے.
اسکی دھڑکن رک جائے.
اسکی سانسیں تھم جائیں.
اور ایک دفعہ بس ایک دفعہ.
اسکی آنکھیں بھی میرے لئے برسیں.
میری قبر پر تازہ گلاب رکھتے.
اسکی آنکھیں بھی سرخ آب سے آشنا ہوں.
وہ مجھ سے ایک ملاقات کے لئے تڑپے.
اور میں دو آسمانوں کے پار.
اسکے حال پہ مسکرا دوں...،_____!!!
تیرےمُختصَر سے سوال کا، بڑا مُختصَر سا جواب تھا
وہ جو تُو نے مُجھ سے کیا نہیں، وہ جو میں نے تُجھ کو دیا نہیں
تیرے ہاتھ زہر کا جام بھی، میری جان آبِ حیات تھا
جو وہ زہر تُو نے دیا نہیں، تو وہ جام میں نے پِیا نہیں
تو یقین کر تُجھے چھِین کر، یُوں ویران کر گئی زندگی
میرے بِن جو تُو رہا مُضطَرب، تیرے بِن تو میں بھی جِیا نہیں
صبح و شام بس تیری یادتھی، میرے ساتھ جو تیرے بعد تھی
کوئ نام جو میں نہ کر سکا، کوئ کام بھی تو کِیا نہیں
وہ جو کہتے ہیں نا کہ وقت ہی تو سبھی غموں کا علاج ہے
تو یہ سہہ دھائی کے زخم ہیں،اِنھیں وقت نے بھی سِیا نہیں
اِسی تَگ و دَو میں لگے رہے، اِسی گَو مَگَو میں پھَنسے رہے
اُسے بھول بھی تو نہ پاۓ ہم، اُسے یاد بھی تو کیا نہیں
ﻣﮕﺮﺟﺎﻧﺎﮞ !!___
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎﮐﮯﺩﮬﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯﮐﮩﺎﮞ ﻓﺮﺻﺖ ___ ؟؟
ﻣﺠﮭﮯﮈﺭﮬﮯ __
ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮬﻮ __
ﺟﺐ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻓﺮﺻﺖ ﮨﻮﺗﻮﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ __
ﻣﺠﮭﮯﺍﺏ __
ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ___
نا جانے کس طرح کا عشق کر رہے ہیں ہم💔💔
جو ہمارے ہو ہی نہیں سکتے انھی کے لیے مر رہیں ہیں ہم
کب غم کہے سنےسے، کسی بات سے گیا
میں رات تھا، اندھیرا کبھی رات سے گیا
پہلے پہل تھا اس کا محبت سے دل بھرا
پھر رفتہ رفتہ ساری شکایات سے گیا
جانے یہ کیسے فاصلے آئے ہیں درمیاں
مجھ میں جو بس رہا تھا ملاقات سے گیا
ابرک نہ رنج کر یہ یہاں کا رواج ہے
بچ کر نہ کوئی زیست کی اس گھات سے گیا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain