آنکھوں سےمیری اسلئے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات بھی خالی نہیں جاتی
تو جان بھی مانگے تو ہنس کر تجھے دے دوں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
آئے تو کوئی آکے میرے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی
ہم جان سے جائیں تو تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی
وصی شاہ
بڑے معصوم ساتھی نے بڑے معصوم لہجے میں
یہ آج مجھ سے پوچھا ہے بچھڑنا کیسا ہوتا ہے؟
جدائی کس کو کہتے ہیں؟
بچھڑ کر جینے والے لوگ زندہ کیسے رہتے ہیں؟
جو درد حد سے بڑھ جائیں اُنہیں ہم کیسے سہتے ہیں؟
کہ غم کے مارے ہوئے لوگ کیوں خاموش رہتے ہیں؟
میں اس کی ساری باتوں پر فقط اتنا ہی کہہ پایا
جو دل میں درد رکھتے ہیں گھڑی بھر وہ نہیں سوتے
اکیلے میں سسکتے ہیں بظاہر وہ نہیں روتے
برابر سانس تو لیتے ہیں مگر زندہ نہیں ہوتے
یہ سن کر دھیمے لہجے میں اسی معصوم ساتھی نے
یہ وقتِ آخر کہہ ڈالا چلو اس دنیا کی ہر اک
روایت توڑ دیتے ہیں
محبت میں کیا رکھا ہے محبت چھوڑ دیتے ہیں
وہ کم سخن -------- وہ کم ادا ۔۔۔!!!
وہ بے وفا --------- اچھا لگا ۔۔۔۔!!!
جب بھی ملا ------- روٹھا ھوا
جب بھی ملا ------- اچھا لگا !
وہ ظلم میں ------- مائل بہت
وہ جبر کا --------- قائل بہت
اُس کا ستم ------- ھر اک ستم۔۔۔۔!!!
مجھ کو سدا ------ اچھا لگا ۔۔۔۔!!!
تم پیار کے ------- قابل نہیں۔۔۔۔۔!!!
تم پیار کے ------- لائق نہیں۔۔۔۔۔
اُس نے کہا ------- ھم سے کہا۔۔۔۔!!!
ھم نے سنا ------- اچھا لگا ..!!
کچھ ایسا ہو یہ شام ڈھلے !
کوئی ہاتھ میں تھامے ہاتھ میرا
کوئی لیکر مجھ کو ساتھ چلے
کوئی بیٹھے میرے پہلو میں
میرے ہاتھ پے اپنا ہاتھ دھرے
اور پونچھ کہ آنسو آنکھوں سے
وہ دھیرے سے یہ بات کہے
یوں تنہا سفر اب کٹتا نہیں
چلو ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں
😢😢😢😢😢😢😢😢😢😢
قُربت بھی نہیں دِل سے اُتر بھی نہیں جاتا
وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا
آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہُو سے
اور زخمِ جُدائی ہے کہ بٙھر بھی نہیں جاتا
وہ راحتِ جاں ہے مگر اس در بدری میں
ایسا ہے کہ اب دھیان اُدھر بھی نہیں جاتا
ہم دوہری اذیّت کے گرفتار مُسافر
پاؤں بھی ہیں شٙل شوقِ سفّر بھی نہیں جاتا
دِل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے
اور تُجھ سے بِچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
پاگل ہوئے جاتے ہو فرازؔ اُس سے مِلے کیا
اِتنی سِی خوشی سے کوئی مٙر بھی نہیں جاتا
میں مثل صبا ہوں۔۔۔۔۔۔ !!!
پاکیزہ ہوا ہوں،
فقط یاد تم رکھنا،
تمہارا خیال ہے شاید،
کہ میں ہوں ایک عام سی لڑکی ۔۔۔۔
تمہیں میں پھول لگتی ہوں،
مجھے خوشبو سمجھتے ہو،
کہ سانسوں میں بسا لوگے،
جب چاہا چرا لوگے۔۔۔۔۔۔
سنو! ایک مشورہ مانو،
تم ایسے وہم نہ پالو،
میرے جذبے ہے پھولوں سے،
ہیں دل میں قید یوں رکھے،
کہ ان تک پہنچ مشکل ہے۔۔۔۔۔
میں خوشبو ہوں مگر!
جب تک میں نہ چاہو،
کسی کی سانس میں ہمت نہیں،
کہ چھو سکے مجھ کو،
سنو میں مثل صبا ہوں.
#میں لوگوں سے #ملاقاتوں کے🤝#لمحے یاد رکھتی ہوں
#میں باتیں بھول بھی جاؤں مگر #لہجے🐍 یاد رکھتی ہوں
#ذرا ہٹ کر چلتی ہوں #زمانے کی روایت #سے🤷♂️
#وہ جن پر بوجھ میں ڈالوں وہ #کندھے یاد رکھتی ہوں
#میں یوں تو بھول جاتی ہوں #خراشیں #تلخ💔 باتوں کی
#مگر جو زخم #گہرے دیں وہ رویے یاد رکھتی #ہوں😢..!!
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے
آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے
نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے
اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں
اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں
یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے
روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے
کوئی وجہِ فساد رکھئے گا,گر نہ الفت، عناد رکھئے گا,سب کو میرے ہی بعد رکھئے گا
آپ میرے ہیں یاد رکھئے گا ,دلمحبت سے بھر بھی جائے اگر
پھر بھی جاری جہاد رکھئے گا
منہ سے کہنے میں گر قباحت ہے
اپنی نظروں میں داد رکھئے گا
ہم کو ناشاد گر کیا ہے اب
غیر کو بھی نہ شاد رکھئے گا
جب تلک آنکھ میں نہ میں اتروں
خواب وحشت نژاد رکھئے گا
میں بسا لوں گا بستیاں دل کی
مجھ پہ بس اعتماد رکھئے گا
ہم نے سب کشتیاں جلا دی ہیں
واپسی پر یہ یاد رکھئے گا
دل یہ بینا ہے عقل اندھی ہے
یہ غلط بات یاد رکھئے گا
اپنے کہنے میں اور کرنے میں
بس نہ ابرک تضاد رکھئے گا
۔۔۔۔۔۔...... اتباف ابرک
تمہارے پہلو میں جو ہماری جگہ کھڑا ہے۔ ۔
اُسے بتاؤ وہ شخص کس کی جگہ کھڑا ہے
ہمارے شانوں پہ پیر رکھے ہوئے ہیں اس نے
وہ پست قامت ہے لیکن اونچی جگہ کھڑا ہے
تمہاری رُخصت سے ہم بھلا کیوں اکیلے پڑتے
تمہارا دُکھ آج تک تمہاری جگہ کھڑا ہے۔ ۔ ۔ ۔
جدا ہوئے جس کے رُوبرو دو لرزتے سائے
وہ پیڑ رستے میں اب بھی اپنی جگہ کھڑا ہے
بہت کمزور لگتے ہو اے نادانی کرنے والے
بے جرم معصوم دل سے بے ایمانی کرنے والے
نہ ملنا ہی تو محبت کو پروان چڑھاتا ہے
بات سمجھ اے جذبات کی قربانی کرنے والے
گُھٹ گُھٹ کے جینا تو ہمّت کو بڑھاتا ہے
بُھلا کر اپنی خود غرضی میں آسانی کرنے والے
دے دلاسہ آکھیوں کو یوں مایوس نہ کر
زرا زرا سی بات پہ اشکوں کی روانی کرنے والے
رد کر نہ اک دل کی انمول یہ کرم نوازیاں
اپنی مرضیوں کی خود پہ مہربانی کرنے والے
اک پل میں سچ ہمیشہ کا بُھلایا نہیں جاتا
دل کی حسرتوں پہ ظلم کی نگرانی کرنے والے
یہ سچ ہے تُو نے فنکاری سے لُوٹ لیا ہم کو
ہنستی آنکھوں کے آرمان پانی پانی کرنے والے
کبھی سوچ کر تو دیکھ یار خطا تیری کیا ہے
رہ کر خاکی فانی میں باتیں روحانی کرنے والے
ہم نے ہر بار دیا عروج تجھے ہر بادشاہی کا
شوق سے ریزا ریزا میری عشقِ کہانی کرنے والے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے ،جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں ،روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے ،جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے ،سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم ،مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
فیض احمد فیض
اسلام و علیکم صبح بخیر
بدلحاظ بن بن کر، بھولے بھالے نینوں کو
رات بھر بھگوتے ہیں، دکھ اداس لوگوں کے
کیا مجال ہے، پل بھر، غم کو نیند آ جائے
ایک پل نہ سوتے ہیں، دکھ اداس لوگوں کے
راستے جدا بھی ہوں، فرق کچھ نہیں پڑتا
ایک جیسے ہوتے ہیں، دکھ اداس لوگوں کے
Good night udas logon
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain